جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

‏کابینہ نے بین ریاستی بجلی کی منتقلی کے نظام،‏ گرین انرجی راہ داری مرحلہ دوم کو منظوری دے دی‏‏ ‏اس اسکیم کو ‏12,031 کروڑ روپے کی کل تخمینہ لاگت کے‏‏ ساتھ قائم کرنے کا نشانہ ہے

 اس اسکیم سے 2030 تک 450 گیگاواٹ نصب آر ای صلاحیت‏‏ کے نشانے کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی

Posted On: 06 JAN 2022 4:28PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 06 جنوری 2022:

اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے آج وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں بین ریاستی ٹرانسمیشن سسٹم (آئی این ایس ٹی ایس) کے لیے گرین انرجی راہ داری (جی ای سی) مرحلہ دوم کی اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت سب اسٹیشنوں کی تقریباً 10,750 سرکٹ کلومیٹر اور تقریباً 27,500 میگا وولٹ-ایمپیر (ایم وی اے) ٹرانسفارمر صلاحیت کی ٹرانسمیشن لائن کے اضافی اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اسکیم سے سات ریاستوں گجرات، ہماچل پردیش، کرناٹک، کیرالہ، راجستھان، تمل ناڈو اور اترپردیش میں تقریباً 20 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کے گرڈ انضمام اور بجلی کی کلیئرنس پروجیکٹوں میں مدد ملے گی۔

اس اسکیم کو 12,031.33 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے شروع کیا جانا ہے جس میں مرکزی مالیاتی امداد (سی ایف اے) پروجیکٹ کے 33 فیصد یعنی 3970.34 کروڑ روپے کے مساوی ہے۔ ٹرانسمیشن سسٹم مالی سال 2021-22 سے 2025-26 تک پانچ سال کی مدت کے دوران تیار کیا جائے گا۔ مرکزی مالیاتی معاونت بین ریاستی ٹرانسمیشن چارجز کو ایڈجسٹ کرنے میں مدد کرے گی اور اس طرح بجلی کی قیمت کم رکھے گی۔ اس لیے صرف بجلی کے صارفین یعنی ملک کے شہریوں کو حکومتی تعاون سے فائدہ ہوگا۔

اس اسکیم سے 2030 تک نصب 450 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کے نشانے کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ اسکیم ملک میں طویل مدتی توانائی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگی اور کاربن کے اخراج کو کم کرکے ماحولیاتی طور پر پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔ اس سے متعلقہ شعبوں میں ہنرمند اور غیر ہنرمند کارکنوں دونوں کے لیے بڑے پیمانے پر براہ راست اور بالواسطہ روزگار پیدا ہوگا۔

یہ اسکیم جی ای سی مرحلہ اول کے علاوہ ہےجو گرڈ انضمام اور آندھرا پردیش، گجرات، ہماچل پردیش، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر میں قابل تجدید توانائی کے تقریباً 24 گیگاواٹ آر ای توانائی والا منصوبہ ہے جسے 2022 تک مکمل کیا جانا ہے۔ یہ پہلے ہی راجستھان اور تمل ناڈو میں چل رہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ 2022 تک مکمل ہوجائے گا۔ جن ذیلی اسٹیشنوں پر ٹرانسمیشن پروجیکٹ ہیں جن کی تخمینہ لاگت 10,141.68 کروڑ روپے ہے جن میں 4056.67 کروڑ روپے کی مرکزی مالیاتی اعانت (سی ایف اے) بھی شامل ہے، ان ذیلی اسٹیشنوں میں 9700 سرکٹ کلومیٹر اضافی ٹرانسمیشن لائنیں ہیں جو 22,600 ایم وی اے صلاحیت کی حامل ہیں۔

***

(ش ح۔ ع ا۔ ع ر)

U. No. 175



(Release ID: 1788115) Visitor Counter : 100