اقلیتی امور کی وزارتت
اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ’’ دھندھلی اور متعصبانہ سیاست‘‘ نے دارا شکوہ کی وراثت کو لے کر غلط فہمیاں پیدا کی ہیں
ہم آہنگی ، رواداری، ’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ بھارت کی روح اور ’’تکثیریت میں وحدت‘‘ ملک کی طاقت ہے: جناب نقوی
اس امر کو یقینی بنانا ہم سب کی اجتماعی قومی ذمہ داری ہے کہ رواداری کی حامل بھارتی ثقافت اور بقائے باہمی کے لیے بھارت کی عہد بستگی کسی بھی صورت میں کمزور نہ پڑے: جناب نقوی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 DEC 2021 4:17PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 28 دسمبر 2021
اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ ’’دھندھلی اور متعصبانہ سیاست‘‘ نے داراشکوہ کی وراثت کو لے کر غلط فہمیاں پیدا کی ہیں۔
’’آج داراشکوہ کی اہمیت کیوں ہے: ان کے کام اور ان کی شخصیت کی یادمیں ‘‘ کے موضوع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذریعہ آج نئی دہلی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جناب نقوی نے کہا کہ ہم آہنگی، رواداری، ’’سرو دھرم سمبھو‘‘ بھارت کی روح اور ’’تکثیریت میں وحدت‘‘ ملک کی طاقت ہے۔ دارا شکوہ تمام عمر سماجی ہم آہنگی اور مذہبی اتحاد کے مشعل بردار بنے رہے۔
جناب نقوی نے کہا کہ جہاں ایک جانب، تمام مذاہب کے معتقدین بھارت میں رہتے ہیں؛ وہیں دوسری جانب، خدا کو نہ ماننے والے بھی ملک میں بڑی تعداد میں یکساں آئینی اور سماجی حقوق کے ساتھ رہتے ہیں۔ ’’تکثیریت میں وحدت‘‘ کی یہ طاقت بھارت کو ’’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘‘بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا میں وہ واحد ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے تیوہار اور مسرت کے دیگر مواقع مل جل کر منائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس مشترکہ ثقافتی ورثے اور بقائے باہمی کی میراث کو مضبوط بنائے رکھنا ہے۔ اتحاد اور ہم آہنگی کے اس تانے بانے کو نقصان پہنچانے والی کوئی بھی کوشش بھارت کی روح کو نقصان پہنچائے گی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت روحانی۔مذہبی تعلیم کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ اور ’’واسودھیو کٹمبکم‘‘ کے لیے ترغیب کا وسیلہ بھی ہے۔ اس امر کو یقینی بنانا ہم سب کی اجتماعی قومی ذمہ داری ہے کہ رواداری کی حامل بھارتی ثقافت اور بقائے باہمی کے لیے بھارت کی عہد بستگی کسی بھی صورت میں کمزور نہ پڑے۔
جناب نقوی نے کہا کہ مبنی بر شمولیت ترقی کی راہ میں متعدد رکاوٹیں آئیں، تاہم ہماری مضبوط ’’تکثیریت میں وحدت‘‘ نے اس امر کو یقینی بنائے رکھا ہے کہ ملک خوشحالی کے راستے پر آگے بڑھے۔
جناب نقوی نے کہا کہ نام نہاد ’’جمہوریت کے سورماؤں‘‘ نے دارا شکوہ سمیت متعدد دیگر عظیم شخصیات کے ذریعہ کیے گئے کاموں کو ، جان بوجھ کر اہمیت نہیں دی اور نہ ہی ان کو تسلیم کیا۔ داراشکوہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بہت ہی زندہ دل، ایک مفکر، ایک عظیم شاعر، اسکالر، صوفی اور فن و ثقافت کا گہرا علم رکھنے والی شخصیت تھے۔
آر ایس ایس کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر کرشن گوپال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر، مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر عین الحسن، ایران کے کلچرل کونسلرڈاکٹر محمد علی ربانی اور دیگر معززین نے اس تقریب کو رونق بخشی۔
************
ش ح۔اب ن ۔ م ف
U. No. 14908
(ریلیز آئی ڈی: 1785858)
وزیٹر کاؤنٹر : 307