ارضیاتی سائنس کی وزارت
گلوبل وارمنگ کے اثرات کا مطالعہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 DEC 2021 2:13PM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنس کے وزیرمملکت (آزادانہ چارج ) اور سائنس و ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں درج ذیل معلومات فراہم کیں :
جل شکتی کی وزارت کے آبی وسائل ، ندیوں کی ترقی اور گنگا کی صفائی کے محکمہ کے تحت کام کرنے والا ادارہ ، سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی)، نگرانی والے کنووں کے ایک نیٹ ورک کے ذریعہ پورے ملک میں علاقائی پیمانے پر زیرزمین پانی کی سطحوں کی نگرانی متعینہ مدت کے دوران کرتا رہتا ہے۔
ملک کے حرکیاتی زیر زمین آبی وسائل کا تجزیہ بھی متعینہ مدت کے دوران پر سی جی ڈبلیو ڈی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ مشترکہ طور کیا جاتا ہے۔2017 کے تجزیہ کے مطابق، ملک کے کل 6881 تجزیاتی اکائیوں (بلاک/ تعلقہ/ منڈل/ واٹرشیڈ/ فرکا) میں سے 17 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی 1186 اکائیوں کو ‘اوورایکسپلائیٹیڈ’ (زمین سے حد سے زیادہ پانی نکالنا)قرار دیا گیا ہے، جہاں زمین سے پانی نکالنے کی حالیہ سالانہ کل مقدار زیرمین آبی وسیلہ کی سالانہ قابل نکاسی مقدار سے زیادہ ہے۔
سنٹرل گراونڈ واٹر بورڈ ، زیرزمین آبی وسائل کی پائیدار ترقی کی سہولت فراہم کرنے کے لئے پانی کے ذخائر ، ان کے خصوصی اور ان کے انتظامات سے متعلق منصوبوں کی پیمائش کے خاطر ملک گیر سطح پر ‘‘ نیشنل ایکویفائر میپنگ اینڈ مینجمنٹ (این اے کیو یو آئی ایم) ’’ پروگرام نافذ کررہا ہے۔ اس کے تحت اب تک تقریباً 11 لاکھ مربع کلومیٹر کا احاطہ کیا جاچکاہے۔ پانی کے ذخائر کے نقشے اور ان کے انتظام کے منصوبے متعلقہ ریاستی حکومت کی ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کئے گئے ہیں۔ متعلقین کے مفاد کی خاطر ایکویفائر منیجمنٹ پلان کے بارے میں تفصیلات بتانے کے لئے زمینی سطح پر عوام کے ساتھ رابطہ کے پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں۔
سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی ) کے ریسرچ اینڈڈیولپمنٹ ڈویژن ، پروجیکٹ پلاننگ ونگ، محکمہ آبی وسائل ، ندیوں کی ترقی اور گنگا کی صفائی ، نے کچھ معروف تعلیمی اداروں کو آبی وسائل پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لئے رقم فراہم کی ہے۔یہ مطالعات ماحولیاتی تبدیلی کی ہندوستانی قومی کمیٹی (آئی این سی سی سی ) کی زیرنگرانی کئے جارہے ہیں۔
|
نمبر شمار
|
مطالعہ کا موضوع
|
انسٹی ٹیوٹ کا نام
|
|
1
|
ہائیڈرومیٹیورولوجیکل پروسیس اور مہاندی بیسن کے آبی وسائل پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا تجزیہ
|
آئی آئی ایس سی بنگلور اور آئی آئی ٹی بھونیشور
|
|
2
|
راجستھان (زمین کے نیچے پانی کی نکاسی اور ماہی بیسن کے علاقہ ) کے لئے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق مطالعہ
|
ایم این آئی ٹی جے پور، آئی آئی ٹی دہلی اور سنٹرل یونیورسٹی ، راجستھان
|
|
3
|
لونی ندی کے بیسن کی ماحولیات اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلنگ
|
آئی آئی ٹی جودھپور
|
|
4
|
تاپی بیسن کے آبی وسائل پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات
|
ایس وی این آئی ٹی سورت، ایم این آئی ٹی جے پور اور ایم اے این آئی ٹی بھوپال
|
|
5
|
سابرمتی بیسن کے آبی وسائل پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات
|
آئی آئی ٹی گاندھی نگر اور ایس وی این آئی ٹی سورت
|
|
6
|
دادری سے کنیاکماری تک ندی کے بیسن میں آبی وسائل پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات
|
آئی آئی ٹی ممبئی، این آئی ٹی سورکتھل اور سی ڈبلیو آر ڈی ایم کوژی کوڈ
|
|
7
|
سوبرنریکھا بیسن میں پانی کی دستیابی اور زمین کے استعمال پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات
|
آئی آئی ٹی کھڑگپور
|
سی جی ڈبلیو بی نے ریاست اترپردیش سمیت ملک کی تمام ریاستوں کے لئے این اے کیو یو آئی ایم رپورٹ تیار کی ہے جس میں تقریباً 17 ضلعوں کے بارے میں معلومات دستیاب ہیں اور یہ رپورٹ http://cgwb.gov.in/AQM/UP%20Reportdistrict.html. پر بھی دستیاب ہے۔
اس کے علاوہ سی جی ڈبلیو نے ‘‘ ہندوستان میں زیرزمین پانی کو مصنوعی طریقہ سے بھرنے کے لئے ماسٹرپلان’’ (http://cgwb.gov.in/documents/masterplan-2013.pdf ) اور ‘‘ زیرزمین پانی کو مصنوعی طریقہ سے بھرنے کا مینوئل ’’ (http://cgwb.gov.in/documents/Manual-Artificial-Recharge.pdf) بھی جاری کیا ہے، جس میں متعدد نئی ٹکنالوجیوں پر بات کی گئی ہے۔
************
ش ح ۔ ق ت ۔ م ص
(U: 13685)
(ریلیز آئی ڈی: 1777634)
وزیٹر کاؤنٹر : 412