دیہی ترقیات کی وزارت
دیہی ترقی کے شعبے پر کووڈ-19 کے اثرات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 NOV 2021 4:34PM by PIB Delhi
نئی دہلی،30نومبر 2021؛ دیہی ترقی کی وزارت کی طرف سے کرونا وائرس وباکے دوران ، دیہی علاقوں میں راحت فراہم کرنے اور روزگار نیز روزی روٹی کے مواقع کو بڑھانے کے لیے اقدامات کئے گئے تھے۔ البتہ، وزارت نے دیہی ترقی کے شعبے پر کووڈ-19 کے اثرات کے بارے میں کوئی سروے نہیں کیا ہے۔
حکومت ہند کی وزارت خزانہ نے26 مارچ 2020 کو غریبوں کے لیے پردھان منتری غریب کلیان یوجنا ( پی ایم جی کے وائی) کے تحت راحت پیکیج کا اعلان کیا تھا تاکہ کرونا وائرس کے خلاف جدوجہد میں ان کی مدد کی جاسکے۔ اعلان کردہ امدادی راحتی پیکیج میں دیگر امور بھی شامل ہیں۔
خواتین جن دھن کھاتہ داروں کو تین مہینوں (اپریل، مئی اور جون 2020) کے لیے ہر ماہ 500 روپئے کی ایک بار کی نقد رقم کی اضافی ادائیگی۔اس کی پیروی میں دیہی ترقی کی وزارت (ایم او آر ڈی ) نے خواتین جن دھن کھاتہ داروں کو تین مہینے (اپریل، مئی اور جون 2020) کے لیے 500 روپئے ماہانہ کے امدادی پیکیج کی اسکیم پر عملدرآمد کیا ہے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) کے تحت جن دھن کھاتہ داروں کی 20.64 کروڑ خواتین مستفیدین کو،تین مہینے کے لیے 500 روپئے ماہانہ کے حساب سے مجموعی طورپر 30944.44 کروڑ روپئے کی رقم جاری کی گئی ہے۔
قومی سماجی امدادی پروگرام (این ایس اے پی) کی اسکیموں کے دائرے میں آنے والے موجودہ بزرگوں، بیواؤں اور معذور/ دویانگجن استفادہ کرنے والوں کو ، دو قسطوں میں ایک ہزار روپئے کی نقد امداد (500 روپئے فی کس) دی گئی۔ اپریل اور مئی 2020 میں دو قسطوں میں 2814.50 کروڑ روپئے کی مجموعی رقم پی ایم جی کے وائی کے تحت ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو این ایس اے پی کے موجودہ 282 لاکھ مستفیدین کے لیے جاری کی گئی۔
مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون (مہاتما گاندھی این آر ای جی اے) کی اجرت کی شرح پر نظر ثانی کی گئی اور اجرت کی شرح میں یکم اپریل 2020 سے 20 روپئے کا اضافہ کیا گیا جو 2019-20 کی اجرت کی شرح سے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ حکومت ہند نے 20 جون 2020 کو ، 125 دنوں کی مدت کے لیے، غریب کلیان روزگار ابھیان (جی کے آر اے) کا آغاز کیا تاکہ اپنے گھر واپس آنے والے تارکین وطن مزدوروں اور دیہی علاقے میں اسی طرح سے متاثر شہریوں کے لیے روزگار اور روزی روٹی کے مواقع کو فروغ دیا جاسکے۔اس کے علاوہ، ابھیان کے مقاصد میں پریشان حال لوگوں کو فوری روزگار اور روزی روٹی کے مواقع فراہم کرنا، دیہاتوں کو عوامی بنیادی ڈھانچے سے لیس کرنا اور روزی روٹی کے اثاثوں کی تخلیق کرنا تھا تاکہ آمدنی پیدا کرنے سے متعلق سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے نیز6 ریاستوں کے 116 منتخب اضلاع میں 25 طرح کے کاموں پر توجہ مرکوز کرکے روزی روٹی کے مواقعوں کو بڑھایا جاسکے۔ یہ ابھیان مرکزی حکومت کی 12 وزارتوں اور محکموں کی جاری 25 اسکیموں کی ایک مشترکہ کوشش ہے۔
ایم او آر ڈی کی چار اسکیمیں، یعنی مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم (مہاتما گاندھی (نریگا)، پردھان منتری آواس یوجنا- گرامین(پی ایم اے وائی- جی)، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) اور شیاما پرساد مکھرجی روربن مشن (ایس پی ایم آر ایم) کی نشان دہی، جی کے آر اے کے تحت کی گئی ہے۔اس سلسلے میں حاصل ہونے والی کامیابی حسب ذیل ہے:
جی کے آر اے کے تحت، ابھیان کے دوران مجموعی طور سے 50.78 کروڑ افرادی دن کا روزگار پیدا کیا گیا جس پر مجموعی طور سے 392923 کروڑ روپئے کی رقم خرچ ہوئی۔
پی ایم اے وائی- جی نے کل 770522 مکانات کی منظوری بھی دی اور 5618.19 کروڑ روپئے کے کل خرچ کے ساتھ 481210 مکانات مکمل کرلئے گئے ہیں۔
پی ایم جی ایس وائی کے تحت ،2902 کروڑ روپئے کے ہدف کے مقابلے میں ،30 نومبر 2020 تک 1529 کروڑ روپئے کے اخراجات ہوچکے ہیں۔
ایس پی ایم آر ایم کے تحت ، جی کے آر اے کوچھ (6) ریاستوں کے 47 ایس پی ایم آر ایم کلسٹروں میں لاگو کیا گیا تھا۔ ان ریاستوں میں بہار، اترپردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش، اڈیشہ اور جھارکھنڈ شامل ہیں۔ اس کا مقصد مہاجر مزدوروں اور دیہی شہریوں کو روزی روٹی کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ ابھیان کی مدت کے دوران کریٹکل گیپ فنڈنگ (سی جی ایف) اور کنورجن دونوں کے تحت 789.35 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے ساتھ کل 13886 کاموں کی تجویز کی گئی تھی ان میں سے 13494 کام (97 فیصد) جی کے آر اے کے تحت 693.55 (88فیصد)کروڑ روپئے کے خرچ سے مکمل کئے گئے تھے۔
کووڈ-19 کے پھیلنے کے دوران ، مختلف اسکیموں کے تحت ، ایم او آر ڈی کے ذریعے اٹھائے گئے دیگر اہم اقدامات ذیل میں درج ہیں۔ ایم او آر ڈی کے ان تمام پروگراموں کو دیہی علاقوں میں سماجی واقتصادی ترقی کے لیے تیزی سے لاگو کیا جارہا ہے۔
مہاتما گاندھی نریگا، جو کہ ایک مطالبے پر مبنی اجرت کا روزگار پروگرام ہے۔ ہر مالی برس میں کم از کم ایک سو دن کی گارنٹی شدہ اجرت کا روزگار ، ہر دیہی گھرانے کو فراہم کرتا ہےجس کے بالغ ارکان غیر ہنرمند دستی کام کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ گزشتہ مالی برس 2020-21 کے دوران ، 11.19 کروڑ افراد کو اس طرح کا روزگار فراہم کیا گیاتھا اور 389.17 کروڑ سے زیادہ افرادی دن وضع ہوئے تھے۔ موجودہ مالی سال 2020-21 میں (25 نومبر 2021 تک) 8.85 کروڑ افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے نیز مہاتما گاندھی نریگا کے تحت 240.43 کروڑ سے زیادہ افرادی دن وضع کئے گئے ہیں۔ مالی برس 2020-21 کے دوران 111170.86 کروڑ روپئے کی رقم جاری کی گئی ہے۔ پروگرام کے نفاذ کے لیے موجودہ مالی برس 2021-22 (24 نومبر 2021 تک) میں 68233.24 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں۔
پی ایم اے وائی- جی کا مقصد دیہی علاقوں میں ’’سب کے لیے مکان‘‘ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ، بنیادی سہولیات کے ساتھ 2.95 کروڑ پکے مکانات کی تعمیر کرنے کے لیے ، اہل دیہی گھرانوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔ مالی سال 2020-21 کے دوران کل 4132930 مکانات کی منظوری دی گئی تھی اور مجموعی طور پر 3395516 مکانات کی تعمیر مکمل کرلی گئی تھی جبکہ رواں مالی سال 2021-22 (25 نومبر 2021 تک) کے دوران کل 1540459 مکانات کو منظوری دی گئی اور پی ایم اے وائی- جی کے تحت کل 2620496 مکانات مکمل ہوچکے ہیں۔
پی ایم جی ایس وائی کو ، دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے اقدام کے طور پر ، سال 2000 میں شروع کیا گیا تھا جس سے دیہی آبادی کو اچھی معیاری سڑکیں فراہم کرکے بنیادی خدمات تک رسائی فراہم کی گئی تھی۔ کووڈ کی مدت کے دوران ریاستوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ کام کی رفتار میں تیزی لائیں تاکہ روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوسکیں اور دیہی معیشت کو فروغ دیا جاسکے۔اس کے علاوہ یکم اپریل 2020 سے 25 نومبر 2021 تک مجموعی طور سے 60992 کلو میٹر طویل سڑکوں کی مالیت، پی ایم جی ایس وائی کی مختلف مداخلتوں نیز عمودی طریقوں کے تحت ، 40572 کروڑ روپئے کی منظوری دی گئی ہے اور 52077 کلو میٹر کی طوالت 37526 کروڑ روپئے (ریاستی حصے سمیت) کی لاگت سے مکمل کرلی گئی ہے۔
دین دیال انت یودیا یوجنا- قومی دیہی روزگار روزی روٹی مشن (ڈی اے وائی- این آر ایل ایم) کا مقصد دیہی غریب خواتین کو ذاتی مدد کے گروپوں (ایس ایس جی) میں منظم کرکے غربت کو کم کرنا اور ان کی مسلسل پرورش اور معاشی سرگرمیوں میں اس وقت تک مدد کرنا ہے جب تک کہ وہ آمدنی میں قابل قدر اضافہ حاصل نہ کرلیں۔ مالی سال 2020-21 کی وقت کی مدت کے دوران ، ایس ایچ جی کو دیا گیا قرض 84143 کروڑ روپئے تھا۔ موجودہ مالی سال 2021-22 کے دوران 84143 کروڑ روپئے(ستمبر 2021 تک)، کل 21.65 لاکھ ذاتی مدد کے گروپوں کو 43093 کروڑ روپئے کی رقم کے ساتھ کریڈٹ لنک کیا گیا ہے۔
پی اے وائی- این آر ایل ایم یعنی دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیا یوجنا (ڈی ڈی یو- جی کے وائی) اور دیہی ذاتی روزگار تربیتی اداروں (آر ایس ای ٹی آئی) کے تحت دیہی غریب نوجوانوں کے لیے ہنر کی ترقی کے دو پروگرام ہیں۔ ان دونوں اسکیموں کا مقصد دیہی غریب نوجوانوں کی اجرت یا ذاتی روزگار کے لیے روزگار کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے تحت کل 38289 امیدواروں کو تربیت دی گئی تھی اور مالی برس 2020-21 کے دوران 49563 امیدواروں کو ملازمتوں پر رکھا گیاجبکہ موجودہ مالی سال 2021-22 (اکتوبر 2021 تک) کے دوران14568 امیدواروں کو تربیت دی گئی اور 21369امیدواروں کو نوکریوں پر رکھا گیا ہے۔ آر ایس ای ٹی آئی کے تحت کل 207712 امیدواروں کو تربیت دی گئی تھی اور 138537 امیدواروں کو مالی سال2020-21 اور موجودہ مالی سال 2021-22 (30 اکتوبر 2021 تک) کے دوران نوکری دی گئی۔ مجموعی طور پر 114640 امیدواروں کو تربیت دی گئی اور 61546 امیدواروں کو نوکری دی گئی ہے۔
دیہی ترقیات کی وزارت کے ارضی مسائل کے محکمے نے شعبےمیں پروجیکٹوں کاموں کے نفاذ کے لیے نیز افراد کے لیے روزگار کے مواقع وضع کرنے کی غرض سے مدد کے لیے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔ کووڈ-19 کی مدت (مالی برس 2020-21 اور مالی 2021-22 کی دوسری سہ ماہی تک) کے دوران 21909.6 ہیکٹر کی آراضی کے علاقے کو شجر کاری کے تحت (باغبانی کی شجرکاری)لایا گیا ہے۔ 186727.9 ہیکٹر کا اضافی علاقہ تحفظاتی آبپاشی کے تحت لیا گیا ہے جبکہ 72546.41 ہیکٹر بے کار زمین کے علاقے کو درست کیا گیا ہے اور اسے قابل کاشت بنایا گیاہے۔ 5.32 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوا ہے۔ 117.60 لاکھ افرادی دن کا روزگار وضع کیا گیا ہے جبکہ 80722 آبی کاشتکاری کے ڈھانچے ، وزیر اعظم کرشی سینچائی یوجنا (واٹر شید ترقیاتی عنصر) کے تحت وضع کئے گئے ہیں یا ان کا احیاء کیا گیا ہے۔
یہ معلومات آج لوک سبھامیں دیہی ترقیات کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ سادھوی نرنجن جیوتی نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
U.No.14012
(ش ح - اع - ر ا)
(ریلیز آئی ڈی: 1776630)
وزیٹر کاؤنٹر : 169