پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 NOV 2021 3:16PM by PIB Delhi
پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر مملکت جناب رامیشور تیلی نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 26.06.2010 اور 19.10.2014 سے مارکیٹ کی طرف سے طے کی جاتی ہیں۔ اور تب سے ہی سرکاری زمرے کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں (او ایم سیز) پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کے تعلق سے اپنی بین الاقوامی مصنوعات کی قیمتوں، شرح مبادلہ، ٹیکس کے ڈھانچے، اندرونِ ملک مال برداری اور دیگر لاگتوں کے کے مطابق مناسب فیصلے کرتی ہیں۔ درونِ ملک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں سے منسلک ہوتی ہیں۔ باوجودیکہ حکومت سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی اور راشن دکانوں میں مٹی کے تیل کی خوردہ فروخت کی قیمت کے لئے صارفین کے حق میں مؤثر قیمت کو متوازن رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے اور صارفین کو راحت دینے کے ارادے سےمرکزی حکومت نے 4 نومبر 2021 سے پیٹرول اور ڈیزل پر سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی کو بالترتیب 5 روپے فی لیٹر اور 10 روپے فی لیٹر کم کر دیا۔اس کے بعد کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے بھی پٹرول اور ڈیزل پر ویٹ کو کم کر دیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کی بنیاد پر خام تیل اور قدرتی گیس کی خود کفالت کی گزشتہ تین برسوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں: -
|
سال
|
خود کفالت (فیصد)
|
|
خام تیل
|
قدرتی گیس
|
|
2018-19
|
16.20
|
52.70
|
|
2019-20
|
15.00
|
47.17
|
|
2020-21
|
15.60
|
45.80
|
|
2021-2022
(اپریل-اکتوبر)
|
15.00
|
50.70
|
****
U.No:13442
ش ح۔رف۔س ا