سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہمالیائی گلیشئر کے راستے میں تبدیلی سے گلیشئر ٹیکٹانکس کے باہمی اثر کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے

Posted On: 23 NOV 2021 2:23PM by PIB Delhi

نئی دہلی،23- نومبر 2021/ ہندستان کی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ضلع میں واقع اوپری کالی گنگا گھاٹی علاقے میں ایک نامعلوم گلیشئر کامطالعہ کررہے ہندستانی  تحقیق کاروں نے  بتایاہے کہ گلیشئر نے اچانک اپنا خصوصی راستہ بدل دیا  ہے۔   یہ  پہلی بار ہے کہ ہمالیاکے گلیشئر سے اس طرح کے  راستہ بدلنے کی  خبر ملی ہے ، اور تحقیق کاروں نے اس کے لئے آب و ہوا اور ٹکٹانکس یعنی زمین کی بناوٹ دونوں کے جمعہ کردہ  اثر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

اس بے نام گلیشئرکا غیر معمولی رویہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ نہ صرف آب و ہوا ایک کنٹرول کرنے والا عنصر ہے بلکہ ٹیکٹانکس برفانی آبی خطوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حال ہی میں رشی گنگا میں آئی مصیبت کی تازہ مثال ہے جویہ بتاتی ہے کہ  چٹان پر   گلیشئر ٹکا ہوا تھا وہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ  کمزور ہوگیا (موسم کی خرابی ، دراروں میں پگھلنے والے پانی کے ٹکرانے ، پانی کے رسنے سے ، دراڑیں پڑنے سے، جمنے و پگھلنے  ، برف باری اور زیادہ بوجھ بڑھنے  اور آہستہ آہستہ  ٹکٹانکس طاقت کے کم کرنے سے  چٹان کے مکینکل  طور پر ٹوٹنے سے ) اور اپنے وسیلے سے الگ ہوگیا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ  ہمالیہ ایک سرگرم پہاڑی سلسلہ ہے اور یہ بے حد بھربھرا بھی ہےجس کے لئے ٹکٹانکس اور آب و ہوا کا کردار اہم ہوتا ہے۔

حکومت ہند کے سائنس اور ٹکنالوجی کے محکمے کے تحت خودمختار ادارہ اتراکھنڈ کے  دہرہ دون میں واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالین جیولوجی (ڈبلیو آئی ایچ  جی) کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے پایا کہ شمال مشرق کی جانب بہنے والے نامعلوم  گلیشئر کے راستے کو روک کرکے اسے جنوب مشرق کی طرف بڑھنے پر مجبور کردیاگیا تھا۔

ریموٹ سنسنگ اور ایک پرانے سروے کی بنیاد پر کئے گئے ایک مطالعہ سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ  اس گلیشئر پرکسی سرگرم فالٹ اور آب وہوا کی تبدیلی کا اثر پڑا ہے۔ٹکٹانکس سرگرمی اورموسمی حالات نے تبدیلی نے اس گلیشئر کا  رخ اور شکل بدل دی تھی۔ ایک فعال فالٹ نے ایک اسکارپ پیدا کیا جس کی اونچائی تقریباً ڈھائی سو میٹر شمال تک  ہوتی ہے۔فالٹ کی لمبائی 6.2 کلو میٹر ہے اور اس کا رجحان شمال مغرب –جنوب مشرق  کی جانب ہے۔

ڈبلیو آئی ایچ جی کی ٹیم نے پایاکہ پانچ کلو میٹر طویل  نامعلوم گلیشئرجو کٹی نام کی وادی(کالی ندی کی معاون ندی) میں تقریباً  چار کلو میٹر 2 علاقوں میں پھیلا ہے، نے اچانک اپنا رخ  بدل لیا ہے۔ لاسٹ گلیشئر میکسیما (19-24 کے اے) اور ہولوسین کےدرمیان کے وقت کے دوران ٹکٹانکس طاقت کے کم ہونے کے نتیجے میں یا آگے چل کر مڑ گیا۔ اور آخر میں پاس میں واقع سمجک چونکی نام میں مل گیا۔ یہ گلیشئر کا ایک انوکھا برتاؤ اور گلیشئر کے رفتار سائنس کا ایک  ایسی کوئی قسم اب تک نہیں  دیکھی گئی۔

مطالعہ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ  موسم ہی ایک واحد وجہ نہیں ہے جس کے سبب فعال پہاڑی سلسلہ ہمالیہ میں آفات آتی ہیں، بلکہ گلیشیئر کے کیچمنٹ ٹکٹانکس کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔

اس سے گلیشئر مطالعہ کے میدان میں خاص طور سے گلیشئر-ٹکٹانک اندرونی سرگرمی کے ذریعہ  گڑھی گئی زمینی  شکلوں میں تبدیلی اور اس کے پیدا ہونے پر مرکوز ایک نئے  نظریہ کے لئے  دروازے کھلتے ہیں۔

اشاعت کا لنک۔https://link.springer.com/article/10.1007/s12303-021-0030-6

مزید معلومات کے لئے ڈاکٹر منیش مہتا  (7983614690) سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

وادی کے ماضی اور حال کے پس منظر  کو دکھانے والی ہماری کھوج پر مبنی  خیال اشکال(1) پچھلا پس منظراور (2) حالیہ پس منظر ۔ ہم نےا ندازہ لگایاہے کہ دو گلشیئر وادیاں رہی ہوں گی ،  جو بعد میں گلیشئر کی رفتار ا ور ٹیکٹانکس سرگرمی کی وجہ سے جڑ گئیں۔

 

ش ح۔ ش ت۔ج

Uno-13185



(Release ID: 1774441) Visitor Counter : 76


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Tamil