خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
خواتین کے قومی کمیشن نے بامبے ہائی کورٹ کے براہ راست مَس ہونے کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقد م کیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 NOV 2021 5:00PM by PIB Delhi
خواتین کے قومی کمیشن نے بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ کے اس فیصلے کو نظر انداز کرنے کے سلسلے میں بھارت کے سپریم کورٹ کے اس حکم کا خیر مقدم کیا ہے جس میں براہ راست جسم سے جسم یعنی جلد سے جلد کے مَس ہونے پر ہی ارتکاب جرم کا مانا جاتا تھا یعنی بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں ان پر کئے گئے جسمانی حملوں کے معاملے میں جلد سے جلد کا مَس ہونا ضروری تھا اور پوکسو ایکٹ کا اطلاق صرف اسی صورت میں ہوناتھا اب عدالت عالیہ یعنی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کمیشن نے کہا ہے کہ اس معاملے میں عدالت عالیہ کا فیصلہ خواتین اور بچوں کے قانونی اور آئینی تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
عدالت عالیہ نے اپنے اس فیصلے میں کہاہے کہ اس طرح کے معاملات میں جنسی ارادہ اہم ہے اور اسے اس ایکٹ کے دائرہ کار سے باہر نہیں لایا جاسکتا ۔قانون کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ خطا کار کو قانون کی گرفت سے بچنے کا کوئی موقع فراہم کرایا جائے ۔فاضل عدالت نے کہا ہے کہ جرم کے معاملے میں جلد سے جلد کے مَس ہونے یعنی جسمانی رابطے کی محدود وضاحت یا تشریح پوکسو ایکٹ کے مقصد کی منافی ہوگی اور اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔این سی ڈبلیو نے چار فروری 2021 کو معزز عدالت سپریم کورٹ کے روبہ رو بامبے ہائی کورٹ کی ناگپوربینچ کے مذکورہ فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ایک ایس ایل پی داخل کی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مذکورہ فیصلے کے اطلاق سے ملک میں خواتین کی سلامتی کی نقصان پہنچانے والی خطرناک نظیر قائم ہوسکتی ہے۔
************
ش ح ۔ ش ر۔ م ش
U. No.14035
(ریلیز آئی ڈی: 1773943)
وزیٹر کاؤنٹر : 167