صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

مرکزی وزارت صحت نے ایک ماہ پر محیط ’ہر گھر دستک‘ مہم کے تئیں بیداری کو مزید تقویت دینے کی خاطر میڈیا کے لئے قومی ویبینار کا انعقاد کیا

Posted On: 12 NOV 2021 7:51PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  13/نومبر 2021 ۔ مرکزی وزارت صحت و کنبہ بہبود کے ذریعے آج میڈیا کے لئے ایک قومی انٹر ایکٹیو ویبینار کا انعقاد کیا گیا، تاکہ ایک مہینے پر محیط ’ہر گھر دستک‘ مہم کے تئیں بیداری کو مزید تقویت دی جاسکے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پوری بالغ آبادی کو کووڈ ٹیکے کی پہلی خوراک لگائی جاسکے، جبکہ وہ لوگ جنھیں دوسری خوراک دی جانی ہے انھیں بھی دوسری خوراک لینے کے لئے راغب کیا جاسکے۔ ’ہر گھر دستک‘ کا مقصد اس اہل بالغ آبادی تک پہنچنا ہے جنھوں نے پہلی خوراک نہیں لی ہے یا کسی وجہ سے دوسری خوراک لینے سے رہ گئے ہیں۔ اس مہم کے تحت صحت کارکنان گھر گھر جاکر پورے بھارت میں اہل لوگوں کو ٹیکہ لگائیں گے، جس میں خصوصی توجہ ان اضلاع پر ہوگی جہاں ابھی تک 50 فیصد سے بھی کم آبادی کو ٹیکہ لگا ہے۔

اس انٹرایکٹیو ویبینار سے صحت و کنبہ بہبود کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر منوہر اگنانی نے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال بھارت میں جس رفتار سے ٹیکہ کاری کا عمل جاری ہے اسے دیکھتے ہوئے ہم اعتماد کے ساتھ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا بالغ ٹیکہ کاری پروگرام 16 جنوری 2021 کو اپنی شروعات کے وقت سے ہی صحیح راستے پر ہے۔ اب تک بھارت میں تقریباً 79 فیصد اہل آبادی کو کووڈ-19 کے روک تھام کے لئے ٹیکے کی پہلی خوراک دی جاچکی ہے، جبکہ 38 فیصد افراد کی مکمل طور پر ٹیکہ کاری کی جاچکی ہے۔ متعدد ریاستوں میں 100 فیصد بالغ آبادی کو ٹیکے کی پہلی خوراک دی جاچکی ہے۔ انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بھارت میں فی الحال جس رفتار سے ٹیکہ کاری کا عمل جاری ہے اس اعتبار سے پوری بالغ آبادی کو جلد ہی ٹیکہ لگایا جاچکا ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002Y4RO.png

ایک طرف جہاں ٹیکہ کاری کے تئیں جوش و خروش میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے وہیں ٹیکہ کاری کے سلسلے میں جو سنگ میل طے کیا گیا ہے وہ منفرد قسم کے چیلنجوں کے باوجود حاصل ہوا ہے۔ کسی شخص کے لئے ٹیکہ نہ لینے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جس میں دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے عدم رسائی کا مسئلہ، سائڈ افیکٹ کے تعلق سے خوف وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر اگنانی نے کہا کہ اس مہم کے توسط سے ملک کے صف اوّل کے صحت کارکنان زمینی سطح پر ایسے متعدد مسائل کا تدارک کررہے ہیں جو لوگوں کو کووڈ-19 کا ٹیکہ لینے سے روکتے ہیں۔ اس مہم میں مقامی مذہبی اور کمیونٹی لیڈران اور دیگر ایجنسیوں و اداروں سے مدد لی جارہی ہے۔ ان اداروں میں مرکزی دفتر شماریات (سی ایس او)، غیر سرکاری ادارے، این ایس سی وغیرہ شامل ہیں، اس کا مقصد ان لوگوں کو راغب کرنا ہے جنھوں نے ٹیکہ نہیں لگوایا ہے۔ ٹیکہ مخالف افواہوں کے تدارک کے لئے ملٹی میڈیا اطلاعات، ایجوکیشن اینڈ کمیونی کیشن (آئی ای سی) مہم ڈیزائن کی جائے گی، تاکہ لوگوں تک پہنچنے کے اختراعاتی نقطہ نظر اور طور طریقے دریافت کئے جاسکیں اور اس میں ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام ان اضلاع کو شامل کیا جائے گا جہاں بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری ہوئی ہے۔

ویبینار میں شرکت کرنے والے میڈیا کے افراد کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر اگنانی نے ٹیکے کی دونوں خوراکیں لینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے میڈیا کے افراد سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ اپنی مثبت خبروں کے ذریعے لوگوں کو اس کے تئیں راغب کریں۔ مسلسل تعاون کے لئے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھوں نے ان سے ملک کے کچھ حصوں میں ٹیکہ لینے کے تعلق سے موجود پس و پیش کے خلاف لڑنے کی بھی درخواست کی۔

اس ویبینار میں پی آئی بی، ڈی ڈی، اے آئی آر، آر او بی، یونیسیف کے ریاستی دفاتر، پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو، کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنوں، آن لائن اور پرنٹ میڈیا کے ملک بھر سے افسران نے حصہ لیا۔

 

******

شح۔ م م۔ م ر

U-NO.12815



(Release ID: 1771409) Visitor Counter : 41


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Manipuri