ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

متحدہ ہائے امریکہ ، بین الاقوامی شمسی اتحاد کا 101 واں رکن ملک بن گیا ہے

یہ اقدام ،بین الاقوامی شمسی اتحاد کو مستحکم کرے گا اور دنیا کو توانائی کا ایک صاف وسیلہ فراہم کرنے سے متعلق مستقبل کی کارروائیوں کو جِلاء دے گا: جناب بھوپیندر یادو

ہم ، بین الاقوامی شمسی اتحاد میں ،شمولیت کرکے خوش ہیں ،جسے بنانے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے قیادت کی : جناب جان کیری

Posted On: 10 NOV 2021 7:07PM by PIB Delhi

شمسی توانائی کے  عالمی پیمانے پر اختیار کرنے کے عمل   میں ایک  مضبوط  پیش رفت  میں  ،آب وہوا کے لئے   امریکہ کے خصوصی صدارتی  ایلچی  جان کیری   نے آج  یو این ایف  سی  سی سی  ،    سی او پی -26 میں   اعلان کیا  کہ  امریکہ نے بین الاقوامی شمسی اتحاد  ( آئی ایس  اے ) میں  ایک رکن ملک کے طورپر شمولیت  کی ہے۔ امریکہ  آئی ایس اے  کے  بنیادی ڈھانچے کے سمجھوتے  پر دستخط کرنے والا 101 واں  ملک بن گیا ہے ، جس کا مقصد شمسی قیادت والی رسائی کے ذریعہ عالمی توانائی منتقلی  کے مقصدکوحاصل کرنا ہے۔

آئی ایس اے ،کا  101 واں  رکن بننے پر امریکہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے  ،  ماحولیات ، جنگلات ، آب وہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو  نے کہا کہ اس اقدام سے  آئی ایس  اے  مستحکم ہوگا اور دنیا کو   توانائی کا  ایک صاف وسیلہ فراہم کرنے سے متعلق مستقبل کی  پیش قدمیوں  کو جِلاء بخشے گا۔

بنیادیڈھانچے کےسمجھوتے پر دستخط کرتے ہوئے امریکہ کے خصوصی  صدارتی  ایلچی برائے آب وہوا جان کیری نے کہا :‘‘ اس کا طویل  عرصے سے  انتظار تھا اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے بین الاقوامی شمسی اتحاد میں شمولیت کردی ہے ۔اسے بنانے میں وزیر اعظم نے  قائدانہ رول ادا کیا ۔ ہم نے تفصیلات کا مشاہدہ کیا اور  ہم اس کا  ایک حصہ بننے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہ  عالمی پیمانے پر  شمسی توانائی کی زیادہ تیز تر فروغ  کے تئیں  ایک اہم حصہ رسدی ہے۔ خاص  طورپر یہ ترقی پذیر ممالک کے لئے اہم ہوگی۔’’

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001S3UV.jpg

بین الاقوامی شمسی اتحادکے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اجے ماتھر نے کہا ‘‘ بین الاقوامی صنعتی  اتحاد کے  بنیادی ڈھانچے کی امریکہ کے ذریعہ توثیق   اور رسائی   ، خاص طورپر  ہمارا  101 واں  رکن ملک ہونے کے ناطے، ایک دل خوش کن   پیش رفت ہے، جو کہ اپنے آپ میں  ایک اہم ترین سنگ میل ہے، جو اس بات  کا مظہر ہےکہ دنیا بھر کی اقوام  ،اقتصادی  اور سورج کی آب وہوا  کی  تخفیفی  قدر کوتسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ  اس بات کو بھی تسلیم کررہے ہیں کہ  توانائی کے اس وسیلے کے امکانات،    عالمی توانائی کی منتقلی کے لئے  عمل انگیزہے۔’’ بین الاقوامی شمسی اتحاد  ( آئی ایس اے ) کا آغاز ،ہندوستان کے عزت مآب وزیر اعظم  جناب نریند رمودی اور  فرانس کے  معزز  سابق  صد ر   ہز ایکسی لینسی جناب فرانکوئیس ہولاندے   نے فرانس کے شہر پیرس  میں  ،اقوام  متحدہ کی  پارٹیو ں کی آب وہوا کی تبدیلی کانفرنس   ( سی او پی -21)  کے 21 ویں اجلا س میں  30  نومبر  2015  کو کیا تھا۔اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل  بانکی مون   نے   تقریباََ  120 ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ ، ظہرانے میں  شرکت کی ،جنہوں  نے شمسی توانائی کے فروغ کے لئے عہد بند   کاوشوں کا اعادہ کرنے کے لئے   اتحاد میں  اپنی  شرکت کا اعادہ کیا۔

اس کا فریم ورک  2016  میں  ملکوں کی معاونت کے لئے پہلی مرتبہ تقسیم کیا گیا تھا۔ اس فریم ورک میں  تال میل کے ذریعہ  تمام ممالک کو  عالمی متعلقہ   اور  مقامی فوائد  فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے ، جن میں بین الاقوامی شمسی اتحاد کی   کلیدی مداخلتیں  شامل ہوں گی،  جو   تیاری  اور سرگرمیوں  کو فعال بنانے  ،  خطرات کو کم کرنے  اور  ہدفی منڈیوں  میں   شمسی تکنالوجیوں کی فروغ  اورتنصیب کی راہ ہموار کرنے کے لئے اختراعی مالیاتی   وسائل  پرتوجہ مرکوز کرنا ہے ۔

فریم ورک میں  درج تفصیلی رسائی اور طریقہ کار  کے تنائج  پہلے ہی سامنے آچکے ہیں، جس کے  ضمن میں  بین الاقوامی شمسی اتحاد ، تقریبا 5گیگاواٹ  تنصیبی صلاحیت کی ایک شمسی   پروجیکٹ  پائپ لائن   تیار کررہا ہے ۔  ا س فریم ورک میں  درج رسائی کی تفصیلات   ، بین منسلک  عالمی گرڈس   کے لئے  ایک ویژن تیار کرتا ہے، جس کو  باقاعدہ شکل دی گئی  اور  ‘ سبز گرڈس   اقدام  - ایک سورج ایک دنیا ایک گرڈ ’ ( جی جی آئی – اوایس او ڈبلیو او جی ) کے طور پر  ، سی او پی -26 کی برطانوی صدارت  اور  بین الاقوامی شمسی اتحاد   (آئی ایس اے ) کی  ہندوستانی صدارت کے ذریعہ  02 نومبر  2021  کو گلاسگو میں  سی او پی -26  کی  عالمی لیڈروں کی سربراہ کانفرنس کے دوران  ، مشترکہ  طور پر آغاز کیا گیا۔اس سے قبل سی او پی -26  میں  امریکہ نے، جی جی آئی – اوایس او ڈبلیو او جی کی  قائمہ کمیٹی میں بھی شرکت کی ،جو  5  ممالک  یعنی امریکہ  ، آسٹریلیا ، فرانس  ، برطانیہ  اور ہندوستان   پر مشتمل ہے- نیز  اس نے  80  ممالک کے ساتھ  واحد سورج  کے اعلامیہ  کی تصدیق  کی  ۔امریکہ  کی  توانائی کی سکریٹری  جینیفر گران  ہوم نے   کہا تھا ‘‘ گرڈ – سورج کا امتزاج  کرہ ارض کو  بچائے گا۔ جی جی آئی – اوایس او ڈبلیو او جی ، اس  معمہ کے  دو انتہائی اہم حصوں  پر توجہ مرکوز کررہا ہے ۔ ہم  ،امریکی  محکمہ توانائی میں   اس بات پر خوش ہیں  کہ  ہم  جی جی آئی – اوایس او ڈبلیو او جی کے ایک ساجھیدار ہیں۔’’

بین الاقوامی شمسی اتحاد کی بنیادی  ڈھانچے  کی امریکہ  کے ذریعہ  توثیق کرنے کے بعد   امریکہ کے  آب وہوا کے لئے خصوصی صدارتی مندوب جان کیری     نے  اکتوبر  2021  میں  بین الاقوامی شمسی اتحاد کے چوتھے عام اجتماع  میں  کہا تھا کہ  بین الاقوامی شمسی  اتحاد ، گرین ہاؤس   گیس کے  اخراج میں  تخفیف کرنے کے لئے  بہت  اہمیت رکھتا ہے  اور  ان ممبر ممالک کے ساتھ  شمسی توانائی کی  پیش رفت میں  تیزی لانے کے مواقع بھی  رکھتا ہے ، جہاں   دنیا بھر میں  تیز دھوپ نکلتی ہے ۔ جناب کیری نے تمام ملکوں پر زور دیا کہ  وہ 1.5  ڈگری  سیلسئس  درجہ حرارت   کے اضافے   کو  برقرار رکھنے اور  مڈ سینچری  نیٹ  زیرو  اخراج کے  اہداف کو  دسترسی کے اندر قائم رکھنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں ۔

بین الاقوامی شمسی اتحاد کے بارے میں

بین الاقوامی شمسی اتحاد  ایک  بین حکومتی  معاہدے پر مبنی  بین الاقوامی تنظیم ہے ، جسے  شمسی توانائی کے لئے مالیاتی اور تکنالوجی کی لاگت کو کم کرنے میں  مدد کرتے ہوئے عالمی شمسی  پیش رفت  کی عمل آوری   کے لئے  عالمی اتفاق رائے حاصل ہے۔   اس  اتفاق رائے کو حاصل کرنے کے لئے بین الاقوامی شمسی اتحاد   ، شمسی توانائی کو  ایک ساجھے حل کے طورپر قائم کرنے کے تئیں   عہد بند ہے ، جو  ا س کے ساتھ ساتھ آب وہوا ، توانائی اورجغرافیائی صورتحال میں    اقتصادی ترجیحات     پر توجہ مرکوز  کرتی ہے نیز   عالمی سطح  پر  توانائی کی منتقلی کی  راہ   ،  قومی پیمانے پر توانائی کے تحفظ کی راہ ہموار کرتی ہے جبکہ  مقامی  سطح  پر  توانائی کی رسائی کو  یقینی  بھی بناتی ہے۔بین الاقوامی شمسی اتحاد   ،ملکی  پیمانے کے وسیع  عالمی  عہد کی مددکررہی ہے ، جس کی باعث  تخفیف شدہ کاربن کے اخراج کے لئے  کرہ ارض کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ  اقتصادی  طور پر زیادہ کمزور اقوام کو   ایک ذاتی پائیداری  والے توانائی   کے متبادل  کے قیام میں مدد کررہا ہے  ،جو  تجارتی انحصار میں کمی لاتا ہے  اور روزگار  وضع کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ سماجی واقتصادی  منظر نامے میں  ،ہمہ گیر  ،  کم لاگت  اور قابل بھروسہ   آخری نکاتی  بجلی رابطہ   ایک اہم  ستون ہے اور اقتصادی فروغ  اور  ماحولیاتی اثرات کے تئیں  ان مشترکہ کاوشوں کے  اہدافی  حساس   ماحصل   ہیں۔

 

 

*************

ش ح۔ اع۔رم

U-12742



(Release ID: 1770902) Visitor Counter : 97


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Telugu