بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جہاز رانی کے وزیر نے کوچن شپ یارڈ لمٹیڈ میں ایک ساتھ پانچ جہازوں کی لانچنگ کا افتتاح کیا

Posted On: 01 NOV 2021 3:20PM by PIB Delhi

نئی دہلی،یکم نومبر 2021/بندرگاہوں ، جہاز رانی  و آبی گذرگاہوں اور ٓأیوش کے مرکزی وزیر جناب  سبربانند سونووال  نے آج  کوچن شپ یارڈ لمیٹیڈ  (سی ایس ایل) میں  پانچ جہازوں کی  ایک ساتھ لانچنگ کا افتتاح کیا۔  وزیر موصوف  تین روزہ  دورہ پر  کوچی میں تھے۔  واضح ہو کہ وزارت کی ذمہ د اری  سنبھالنے کے بعد  پی ایس یو  میں ان کا یہ  پہلا دورہ تھا۔ جہازوں کو سی ایس ایل  کی پانچ  سینئر ترین  خاتون  ملازمین کے ذریعہ  لانچ کیا گیا۔

وزیر موصوف نے سرحدی حفاظتی  فورسیز کے لئے تین فلوٹنگ  بارڈر آؤٹ –پوسٹس (ایف بی او پی) اور اے ایس کے او میری ٹائم  اے ایس ، ناروے کے لئے  جو پوری طرح سے الیکٹرک  آٹونومس فیری  لانچنگ تقریب کا افتتاح کیا جو دنیا کی پہلی خودمختار فیریز میں سے ایک ہے۔

 

وزیر محترم نے   جہاز رانی صنعت کے لئے تکنیکی اور پائیدار حل کی سمت میں تعاون فراہم  کرنے کی کوششوں کے لئے سی ایس ایل  کی ستائش کی ۔ انہوں نے  ملک کے  پہلے سودیشی ایئرکرافٹ کیرئر (اے آئی سی) ، آئی این ایس وکرانت کی تعمیر پر سی ایس ایل  کی بھی ستائش کی جو ایک انتہائی کامیاب اولین بحری تجربے کے بعد موجودہ وقت میں اپنا دوسری  سمندری  آزمائش   شروع کررہا ہے۔

جناب سونووال کل سمندری تجربے کے دوران  چیف آف ناول اسٹاف  ، سکریٹری ، ایم او پی ایس ڈبلیو،  ایڈیشنل سکریٹری ، ایم او پی ایس ڈبلیو اور سی ایم ڈی  - سی ایس ایل کے ساتھ  آئی اے سی پر  سوار ہوئے  تاکہ وہ  اس  اہم اور حکمت عملی پر مبنی  منصوبے  کو لے کر ہوئی  پیش رفت کا  مشاہدہ  اور تجزیہ کرسکیں۔  مرکزی وزیر نے کہا کہ  آئی اے سی  کی سمندری آزمائشوں کی کامیابی  ہمارے ملک   کی (آتم نربھرتا) کی تلاش کا حقیقی عکس ہے۔ وزیر موصوف نے اس حصولیابی کے لئے سی ایس ایل ، ہندستانی بحریہ، مختلف او ای ایم ایس  اور منصوبے میں شامل تمام اسٹیک ہولڈرز  کومبارک باد دی۔

آئی اے سی  بھارت کا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے، جو تقریباً 40 ہزار  ٹن کی نقل و مکانی کرسکتا ہے۔  یہ جہاز اندرون ملک  تیار کیا گیا ہے،جو اسپیشل اسٹیل  کے ایک عظیم فولادی  بنیادی ڈھانچے  پر مبنی ہے اور پہلی بار ہندستانی بحریہ کے  جہازوں میں  اسے استعمال کیا گیا ہے۔  جہاز کی وسعت کا اندازہ  تقریباً 2ہزار کلو میٹر کی کیبلنگ  ، 120 کلو میٹر پائپنگ  اور  جہاز پر موجود 2300 ڈبے سے  لگایا جاسکتا ہے۔  شپ یارڈ میں جدید ترین  سافٹ ویئرکا استعمال کرکے جہاز کی وسیع طور پر انجینئرنگ کی جس سے ڈیزائنر کو جہاز کے ڈبوں کا مکمل 3 ڈی تصویر حاصل کرنے میں مدد ملی۔ یہ ملک میں  پہلی بار ہے  کہ کسی  طیارہ بردار کے حجم کے جہاز کو مکمل طور سے 3ڈی میں تیار کیا گیا ہے اور پھر 3ڈی ماڈل سے پروڈکشن ڈرائنگ نکالے گئے ہیں۔

یہ جہاز ایک سی او جی اے جی  (مشترکہ گیس اور گیس) کی شمولیت سے چار-ٹربائن کے ذریعہ  چلایا گیا ہے  آئی اے سی  نیٹ ورک پر مبنی تقسیم کار ڈاٹا پروسیسنگ اور کنٹرول سسٹم،  مواصلاتی سہولت  والے کامپلیکس ،جدید ہتھیاروں، اور سینسر سمیت مطالبے  اعلی نوعیت کی  ٹکنالوجی سے لیس ہے اور اس میں بجلی تیار کرنے  اور تقسیم  (پی جی ڈی) کاسسٹم بھی ہے جسے  بھارت میں بننے والے کسی بھی جہاز پر  نصب کیا جانا ہے۔

آئی اے سی کی تعمیر میں ہندستانی معیشت میں  زبردست ٹائم دیا ہے کیونکہ اس سے اپ اسٹریم صنعتوں جیسے اسٹریم الیکٹرو میکنیکل مشینری آلات اور ڈاؤن اسٹریم سیکٹر  جیسے  بنیادی  ڈھانچہ اور خدمات  دونوں میں زبردست مانگ پیدا کی ہے۔   اس سے  بڑی تعداد میں معاون صنعتوں کی ترقی کے علاوہ سودیشی ڈیزائن  اور تعمیری  اہلیت میں   اضافہ ہوا ہے۔   ساتھ ہی  سی ایس ایل میں  2000 ملازمین اور معاون صنعتوں میں تقریباً  12000 ملازمین کے لئے روزگار کے مواقع  پیدا ہوئے ہیں۔

کوچن شپ یارڈ لمیٹیڈ کا جہاز کی مرمت کے محاذ پر  ہندستانی بحریہ کے ساتھ  ایک طویل ربط ہے  اور ہندستانی بحریہ کے  تمام طیارہ برداروں نے اپنی مرمت کے تمام اہم کام  اور ڈاکنگ صرف  کوچن شپ یارڈ میں ہی کرتے ہیں۔ آئی  اے سی کی تعمیر میں ہوئی پیش رفت کے ساتھ  بندرگاہ اور ہندستانی بحریہ کے مابین تال میل میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

مرکزی حکومت جغرافیائی  توسیع اور اہلیت میں اضافہ کو لے کر اپنی کوششوں میں بندرگاہ کو  ہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے۔  میری ٹائم  انڈیا وژن  2030 کے توسط سے  سرکار کا ہدف  بھارت کو جہازو ں کی تعمیر اور جہازوں کی مرمت کے لئے  ایک پسندیدہ مرکز بنانا ہے۔

 مرکزی وزیر جناب سربانندسونوال نے کہا کہ سی ایس ایل  اس کوشش میں  ایک اہم شراکت دار ہے۔ وزیر موصوف نے سی ایس ایل احاطہ میں  شپ ماڈل روم  ’’اسمرتی‘‘ کا افتتاح کیا جو سی ایس ایل کی مالا تاریخ کے اطراف  برسوں کو منعکس کرتا ہے۔ ’’اسمرتی    ‘‘ پچھلی پانچ دہائیوں میں سی ایس ایل کے ذریعہ  تیار کردہ   اہم  جہازوں کی نمائش کرتی ہے۔  وزیر موصوف کے ذریعہ   غیر معمولی سی ایس آر  پہلوں پر مبنی   ایک کافی ٹیبل بک کا بھی اجرا کیا۔

دورہ کے دوران  وزیر موصوف نے بندرگا ہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور سی ایس ایل کے ذریعہ   جہازوں کی تیاری اور ان کی مرمت کی سہولیات کا بھی مشاہدہ کیا۔  وزیر موصوف نے سی ایس ایل  کے ذریعہ  ولنگٹن آئی لینڈ  ، کوچی  میں  قائم کی جارہی  بین الاقوامی  جہاز  مرمت  کی سہولیات پر بھی   ایک نظر ڈالی۔

 

***********

ش ح۔ ج ق۔ج

Uno-12429

 

 



(Release ID: 1768588) Visitor Counter : 77