سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں یہ ہندوستان کا زرعی سرگرمیوں کے اعتبار سے زریں دور ہے
وزیر موصوف نے باسمتی پروڈیوسرز اینڈ بی کیپنگ کنونشنز، پلانٹ ٹیشوکلچر لیباریٹری اور ایک ہربل گارڈن کا افتتاح کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 OCT 2021 6:38PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزاد چارج) برائے سائنس اور ٹیکنالوجی ، وزیر مملکت (آزاد چارج) ارضیاتی سائنس، وزیر اعظم کے دفتر ، عملے ، شکایات عامہ اور پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ مودی سرکار زرعی اسٹارٹ اپس کو خصوصی طور پر بڑھاوا دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں زراعت کی سرگرمیوں کا ذریں دور ہے اور ان کی قیادت میں زراعت میں تکنیکی اقدامات، تحقیق واختراع سے 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا ہوجائے گی۔
وزیر موصوف نے SKUASTجموں میں پانچ روزہ شمالی ہندوستان علاقائی زرعی میلہ 2021 کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی ہندوستان میں زرعی ترقی کے تئیں سنجیدہ ہیں اور اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ زراعت کو فروغ دینے اور 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے مقصد دو نئی وزارتیں جل شکتی اور ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت قائم کی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا ایک اہم لنک حال ہی میں شروع کیا گیا ہیلی بورن سروے ٹیکنالوجی ہے جو زیر زمین پانی کے بندوبست اور بنجر علاقوں میں پینے کے پانی اور زراعت کے لئے مطلوبہ پانی کے لئے زیر زمین وسائل کی نقشہ بندی کے لئے کارآمد ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے تحت زراعت اور زرعی پیداوار میں انقلاب لایا گیا ہے جو کسانوں کی بہبود کے لئے حکومت کی جانب سے کئے گئے متعدد اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے۔ مثلا سوائل ہیلتھ کا رڈ، نیم کی آمیزش والی یوریا، پی ایم فصل بیمہ یوجنا، پی ایم کسان سمّان، ای نیم، پی ایم کسان مان دھن یوجنا قابل ذکر ہیں، جن سے نہ صرف یہ کہ زرعی شعبے کو بااختیار بنایا گیا ہے بلکہ کسانوں کو بھی وہ عزت احترام ملا ہے جو پہلے انھیں نہیں دیا گیا تھا۔
جموں وکشمیر میں زراعت اور اختراع کے تحت جو ترقیاتی اقدامات کئے گئے ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ شمالی ہندوستان کے اولین بایو ٹیکنالوجی پارک کے قیام، کٹھوعہ میں سیڈ پروسیسنگ کے دو اعلیٰ پلانٹوں کے قیام اور ہندوستان کے پہلے اروما مشن کے آغاز سے جموں میں زراعت کے شعبے میں ترقی ، مواقع اور جدت طرازی کا ایک نیا باب کھلا ہے۔

اس موقع پر موجود کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دے کر کہا کہ اب کوئی بھی کسان اپنی صلاحیت اور وسائل کے حساب سے کئی سرگرمیوں میں لگ سکتا ہے۔ جناب سنگھ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری کسانوں کو ہر طرح سے سہولت دینا ہے جو موجودہ حکومت کوئی سمجھوتہ کئے بغیر پورا کررہی ہے۔
مختلف اختراعی زرعی سرگرمیوں میں لگ کر لاکھوں روپے کمانے والے صنعت کاروں کی مثال دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے وہاں موجود طلبا پر زور دیا کہ وہ روزگار تلاش کرنے والے نہیں بلکہ روزگار دینے والے بنیں۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے SKUAST انتظامیہ سے کہا کہ وہ ان کی وزارت کے مقصد کے تحت آزادی کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر اس یونیورسٹی سے 75 زرعی اسٹارٹ اپس کو فروغ دیں۔
وزیر موصوف نے انسٹی ٹیوٹ آف ہائر الٹیٹیوڈ ، آئی آئی ایم اور SKUAST کے ارتباط پر زور دیا جنھیں جامع نتائج حاصل کرنے کے لئے ارادے پر مبنی پروجیکٹوں پر نہیں بلکہ موضوع پر مبنی پروجیکٹوں پر کام کرنا چاہئے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ طلباء کے تبادلے کے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ ہندوستان میں سائنسی اور ٹیکنالوجی کے بہترین ادارے مثلا نیشنل انستی ٹیوٹ آف پلانٹ جینوم ریسرچ (NIPGR) ہے، اور SKUAST کے طلباء ان اداروں میں جاسکتے ہیں اور بیشتر طور پر وہاں کی ٹیکنالوجی سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ اسٹارٹ اپس کی سرگرم حوصلہ افزائی جزوی ہے تاکہ بہترین دماغوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم اپنی پیداوار کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر فروغ دے سکیں۔
پیداوار اور اسٹارٹ اپس کے فروغ کے لئے وزیر موصوف نے میڈیا اور سوشل میڈیا کی مدد لینے کو کہا تاکہ مقامی پیداوار اور اسٹارٹ اپس کی تشہیر ہوسکے۔
وزیر موصوف نے اپنی تقریر کے دوران پائیدار زرعی طریقوں اور نامیاتی کاشتکاری پر زور دیا جس پر موجودہ حکومت توجہ دے رہی ہے۔
اپنے دورے کے دوران وزیر موصوف نے فیکلٹی کلب،خاص کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا اور اسکول آف بایو ٹیکنالوجی، SKUAST، جموں میں پلانٹ ٹشو کلچر لیباریٹری ایک ہربل گارڈن(سنجیونی تپوون) کا افتتاح کیا اور باسمتی پیدا کرنے والوں اور مکھی پالن والوں کے کنونشن کا بھی افتتاح کیا۔ اختتامی تقریب کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے عالمی بینک۔ آئی سی اے آر کی سرمایہ کاری والے آئی ڈی پی پروجیکٹ کی نقاب کشائی بھی کی۔

پروفیسر جے پی شرما، وائس چانسلر SKUAST جموں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زرعی میلہ مرکزی حکومت کی مدد سے ممکن ہوسکا جہاں شمالی ریاستوں اور یوٹیز کے کسانوں اور اسٹارٹ اپس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر میں خصوصی زراعت ترقی پسند کسانوں کے لئے نئے مواقع کھولے گی اور اسٹارٹ اپس کو راستہ ملے گا۔
ڈاکٹر ایس کے ملہوترا زرعی کمشنر، ڈاکٹر آر سی اگروال ڈی ڈی جی (تعلیم) ، آئی سی اے آر، نئی دہلی، جناب دنیش کلکرنی ، آرگنائزیشن سکریٹری، بی کے ایس، پروفیسر منوج کے دھر، وی سی ، جموں یونیورسٹی اور ڈاکٹر ریڈی، ڈائرکٹر سی ایس آئی آر۔ آئی آئی ایم جموں بھی اس موقع پر وموجود تھے۔
*****
U.No:9921
ش ح۔رف۔س ا
(ریلیز آئی ڈی: 1762813)
وزیٹر کاؤنٹر : 263