کابینہ
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے مالی سال 2020-21 کے لیے ریلوے ملازمین کو پیداوار سے منسلک بونس کی منظوری دی

Posted On: 06 OCT 2021 3:40PM by PIB Delhi

نئی دہلی،6 اکتوبر2021:   وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے آج تمام اہل نان گزیٹیڈ ریلوے ملازمین (آر پی ایف /آر پی ایس ایف  اہلکاروں کو چھوڑ کر) کو مالی سال 2020-21 کے لیے 78 دن کی اجرت کے برابر پیداواری صلاحیت سے منسلک بونس (پی ایل بی) کی منظوری دی۔

ریلوے ملازمین کو 78 دن کے پی ایل بی کی ادائیگی کے مالی اثرات کا تخمینہ 1984.73 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ اہل غیر گزیٹیڈ ریلوے ملازمین کو پی ایل بی کی ادائیگی کے لیے مقرر کردہ اجرت کے حساب کی ادائیگی کی حد 7000 روپے ماہانہ ہے۔ 78 دن کے لیے فی اہل ریلوے ملازم کو زیادہ سے زیادہ قابل ادائیگی کی رقم 17951روپے ہے۔

اس فیصلے سے تقریبا  11.56 لاکھ غیر گزیٹیڈ ریلوے ملازمین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اہل ریلوے ملازمین کو پی ایل بی کی ادائیگی ہر سال دسہرہ/ پوجا کی چھٹیوں سے پہلے کی جاتی ہے۔ کابینہ کے فیصلے کو اس سال بھی چھٹیوں سے پہلے نافذ کیا جائے گا۔

پی ایل بی کی 78 دن کی اجرت، 2010-11 سے 2019-20 کے مالی سالوں کی مدت کے لیے ادا کی گئی تھی۔ سال 2020-21 کے لیے بھی 78 دن کی اجرت کے برابر پی ایل بی کی رقم کی ادا ئییل کی جائے گی جس سے توقع کی جاتی ہے کہ ملازمین کو، ریلوے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنے کی ترغیب ملے گی۔

ریلوے کا پیداواری صلاحیت سے منسلک بونس تمام غیر گزیٹیڈ ریلوے ملازمین (آر پی ایف /آر پی ایس ایف  اہلکاروں کو چھوڑ کر) کا احاطہ کرتا ہے جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔

پی ایل بی کا حساب لگانے کا طریقہ:

اے) پی ایل بی کو23 ستمبر کو2000 کو منعقدہ  میٹنگ میں  کابینہ کی طرف سے منظور کردہ فارمولے کے مطابق ادائیگی کی گئی ہے جو 1998-99 سے 2013-14 کے سالوں کے لیے ہوئی تھی (سوائے 2002-03 سے 2004-05 کے جب کیپیٹل  ویٹیج اور عملے کی مجموعی  قوت کے حوالے سے معمولی تبدیلیاں کی گئیں تھیں) یہ فارمولا ما دخل – ما حصل کی بنیاد پر مبنی تھا جہاں ما حصل کو مساوی نیٹ ٹن کلومیٹر کے حساب سے شمار کیا گیا تھا اور ما دخل کو غیر گزیٹیڈ عملے کی افرادی قوت (آر پی ایف /آر پی ایس ایف  اہلکاروں کو چھوڑ کر) کیپٹل ویٹج کے ذریعے تبدیل کیا گیاتھا۔

بی) مالی سال 2012-13 کے لیے ، پی ایل بی کو 78 دن کے لیے ایک خصوصی کیس کے طور پر اس شرط کے ساتھ منظور کیا گیا تھا کہ چھٹی سی پی سی کی سفارشات اور وزارت خزانہ کے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایل بی کے فارمولے پر نظر ثانی کی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ، ریلوےکی وزارت نے ایک نیا فارمولا تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

سی) کمیٹی نے تجویز دی کہ سال 2000 کے فارمولے کا ویٹیج اور آپریشن ریشو (اوآر) پر مبنی نیا فارمولا 50: 50 کے تناسب میں ہو سکتا ہے۔ مالی پیرامیٹرز کے طور پر کمیٹی کی طرف سے تجویز کردہ فارمولہ 2014-15 سے 2019-20 تک پی ایل بی کے حساب کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

پس منظر:

ریلوے، حکومت ہند کا پہلا ایسا محکمہ تھا جس میں پی ایل بی کا تصور سال 1979-80 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اُس وقت ریلوے کا بنیادی کردار مجموعی طور پر معیشت کی کارکردگی میں بنیادی ڈھانچے کے مدد کے طور پر  اہم غور وفکر کرنے کے لیے تھا۔ ریلوے کے کام کرنے کے مجموعی تناظر میں ’بونس کی ادائیگی ایکٹ 1965‘ کی طرز پر بونس کے تصور کے برعکس پی ایل بی کا تصور متعارف کرانا ضروری سمجھا گیا تھا۔ حالانکہ بونس کی ادائیگی کا قانون ریلوے پر لاگو نہیں ہوتا پھر بھی اس قانون میں موجود وسیع اصولوں کو ’اجرت / تنخواہ کی حد‘‘، ’تنخواہ / اجرت‘ کے تعریف کے مقصد کے پیش نظر کیا گیا۔ ریلوے کے لیے پی ایل بی اسکیم 1979-80 میں نافذ ہوئی اور دو تسلیم شدہ فیڈریشنوں یعنی کل ہند ریلوے مینز فیڈریشن اور قومی فیڈریشن آف انڈین ریلوے مینز کی مشاورت سے اور کابینہ کی منظوری سے تیار کی گئی تھی۔ اس اسکیم کا ہر تین سال کے بعد جائزہ لیا جاتا ہے۔

*****

U.No.9776 

(ش ح - اع - ر ا)   



(Release ID: 1761543) Visitor Counter : 119