نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

ہمارے پڑوس میں پیدا ہونے والی زمینی سیاسی صورتحال سرحدی حفاظتی افواج کے لئے نئے چیلنج پیش کرسکتی ہے:نائب صدر جمہوریہ

ڈرون کا استعمال جدید ترین چیلنج بن گیا ہے: نائب صدر جمہوریہ

نائب صدر جمہوریہ نے اِس یقین کا اِظہار کیا کہ بی ایس ایف اَمن کے دُشمنوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کرنا جاری رکھے گی
نائب صدر جمہوریہ نے جودھپور میں بی ایس ایف افسران سے خطاب کیا

نائب صدر جمہوریہ نے آئی سی اے آر-سینٹرل ایرِڈ ژون ریسرس انسٹی ٹیوٹ میں سائنسدانوں کے ساتھ بات چیت کی
نائب صدر جمہوریہ نے سائنسدانوں سے کسانوں کے مسائل کو کم کرنے کے لئے اختراعاتی حل سامنے لانے کو کہا

نائب صدر جمہوریہ نے ٹِکاؤ زراعت کے لئے سائنسی معلومات اور روایتی علم کے مابین تال میل پر زور دیا
اُنہوں نے کہا کہ لبھانے والے اقدامات کسانوں کے مسائل کا طویل مدتی حل نہیں ہیں

Posted On: 29 SEP 2021 5:16PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،29ستمبر؍2021:

نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو  نے آج کہا کہ ہمارے پڑوس میں اُبھرتی ہوئی زمینی سیاسی صورتحال سرحدی حفاظتی افواج کے لئے نئے چیلنج پیش کرسکتی ہے۔اُنہوں نے اِس یقین کا اِظہار کیا کہ بی ایس ایف اَمن کے دشمنوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کرنے کی مہم جاری رکھے گی۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ہتھیاروں اور نشیلی ادویہ کی اسمگلنگ کے لئے ڈرون کا استعمال جدید ترین چیلنج بن گیا ہے۔

آج بی ایس ایف کے جودھپور فرنٹیئر ہیڈکوارٹر کے اپنے دورے کے دوران بی ایس ایف افسران سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا’’  بی ایس ایف پچھلے 56برسوں سے جس طرح ملک کی سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے، وہ انتہائی قابل ستائش ہے۔’’

بی ایس ایف کے آئی جی جناب پنکج گومر  کے ذریعے اپنے افسران کی ٹیم کے ساتھ دی گئی تفصیلی بریفنگ کی ستائش کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ بی ایس ایف نے یکم دسمبر 1965ء کو اپنے قیام کے بعد سے کئی عظیم حصولیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اِس فورس نے 1971ء کی جنگ میں مشرقی اور مغربی محاذ پر پاکستان کے ساتھ انتہائی بہادری کے ساتھ لڑائی لڑی اور ملک کے وقار میں چار چاند لگادیا۔

جمہوں و کشمیر کے منفی صفر درجہ حرارت سے لے کر راجستھان کے تھار ریگستان تک ، جہاں درجہ حرارت  55 ڈگری تک بڑھ جاتاہے، اِس فورس کو تعینات کیا جاتا ہے اور یہ قابل قدر انداز میں اپنے فرض کی ادائیگی کرتی ہے۔جناب نائیڈو نے یہ بھی کہا کہ فورس نے دہشت گردی کو  ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر ڈھنگ سے روکنے کی اپنی صلاحیت ثابت کی۔اُنہوں نے کہا کہ’’ میں اِس بات سے آشنا ہوں کہ موجودہ وقت میں یہ فورس چھتیس گڑھ اور اُڈیشہ میں نکسلوں سے لڑ رہی ہے۔‘‘

یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ بی ایس ایف نے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو بنائے رکھنے کےلئے اپنے فرض کی ادائیگی میں متعدد عظیم قربانیاں دی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ سرحدوں پر فورس کی نگرانی اور دُشمنوں  و منحرف عناصر کے خلاف جوابی کارروائی سرحدی آبادی کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرتی ہے اور اُنہیں تحفظ کا جذبہ فراہم کرتی ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے زلزلہ اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے کےلئے بی ایس ایف ملازمین کی ستائش کی۔اُنہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اِظہار کیا کہ بی ایس ایف کے جوان سرحدی علاقوں میں لوگوں کو کووڈ -19وباء کے بارے میں بیدار کررہے ہیں اور شہری کارروائی پروگرام کے تحت اُنہیں ضروری مدد بھی مہیا کرا رہے ہیں۔

اِس دورے کے دوران راجستھان کے گورنر جناب کلراج مشرا، راجستھان حکومت کے وزیر ڈاکٹر بلاکی دس کلّا، راجیہ سبھا ممبر جناب راجندر گہلوت، بی ایس ایف کے آئی جی جناب پنکج گومر، بی ایس ایف جودھ ایس ٹی سی کے آئی جی جناب مدن سنگھ راٹھور اور بی ایس ایف کے دوسرے اعلیٰ حکام موجود تھے۔

نائب صدر جمہوریہ نے آئی سی اے آر-سی اے زیڈ آرئی آئی، جودھپور کا دورہ کیا-

بعد ازاں دن میں  نائب صدر جمہوریہ نے جودھپور میں واقع آئی سی اے آر-سینٹرل ایرِڈ ژون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی اے زیڈ آر آئی) کا دورہ کیا اور وہاں سائنسدانوں  و ملازمین کے ساتھ بات چیت کی۔

انسٹی ٹیوٹ میں سائنسدانوں کو خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ رسائی مہیا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہنا چاہئے اور سائنسی معلومات کسانوں کو منتقل کی جانی چاہئے۔اِس سلسلے میں اُنہوں نے  زراعت کو ٹِکاؤ اور سود مند بنانے کےلئے ہمارے روایتی علم کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تال میل کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے سائنسدانوں سے کسانوں کے سامنے آنے والے مسائل کو کم کرنے کےلئے جدید طریقوں اور حل کے ساتھ سامنے آنے کو کہا۔ یہاں اُن کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے لے کر پیداوار میں اضافے سے۔

نائب صدر جمہوریہ نے مشورہ دیا کہ خشک علاقوں میں زراعت کے لئے اہم علاقوں میں پھلوں اور سبزیوں کی کھیتی میں مناسب اضافہ، زراعت میں تنوع ، ایک فصل کی ناکامی کی وجہ سے نقصان کے جوکھم کو کم کرنے ، ڈریپ اور اسپرنکلر آبپاشی کے استعمال کو کم سوداور معیاری بیج کی دستیابی کھادوں اور کیڑا مار دواؤں جیسے زراعتی اقدامات کے ساتھ وقت پر قرض کی فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہونا چاہئے۔

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ قرض معافی جیسے لبھانے والے اقدامات سے کسانوں کے مسائل کا طویل مدتی حل نہیں نکالا جاسکتا۔ جناب نائیڈو نے زراعت کو آسان اور سود مند بنانے کےلئے آسان اور وقت پر قرض ، یقینی بجلی سپلائی اور بہتر بازاری سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا۔

دورے کے دوران نائب صدر جمہوریہ کو ادارے کے مختلف شعبوں میں لے جایا گیا اور خشک سالی زراعت ، آبی تحفظ، مویشیوں کی نسل میں اضافہ اور فوڈ پروسیسنگ  جیسے شعبوں میں سی اے زیڈ آر آئی کے ذریعے کئے جارہے کاموں کے بارے میں معلومات دی گئی۔آئی سی اے آر- سی اے زیڈ آر آئی کے سائسندانوں کے ذریعے کئے جارہے اچھے کاموں کی ستائش کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ وہ کسانوں کے مسائل کو سمجھنے اور اُن کا حل تلاش کرنے کےلئے زیادہ سے زیادہ گاؤں کا دورہ کریں۔

اس دورے کے دوران راجستھان کے گورنر جناب کلراج مشر، راجستھان حکومت کے وزیر ڈاکٹر بلاٹی داس کلّا، راجیہ سبھا ممبر جناب راجندر گہلوت  ، آئی سی اے آر –سی اے زیڈ آر آئی کے ڈائریکٹر جناب اوپی یادو اور اعلیٰ سائسنداں موجود تھے۔

 

************

ش ح۔ج ق۔ن ع

 (U: 9530)



(Release ID: 1759428) Visitor Counter : 55


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Tamil