تعاون کی وزارت

امور داخلہ و کوآپریٹیو کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ آج نئی دہلی میں منعقدہ ’قومی کوآپریٹیو کانفرنس‘ میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے

ملک بھر سے آئے 2100 سے زیادہ کوآپریٹیو ورکروں اور ورچول طریقے سے ملک و بیرون ملک سے جڑے تقریباً 6 کروڑ لوگوں سے خطاب کیا

آزادی کے 75 برسوں کے بعد اور ایسے وقت پر جب کوآپریٹیو تحریک کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، ملک کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آزاد کوآپریٹیو وزارت قائم کی

کوآپریٹیو کے شعبے سے وابستہ کروڑوں لوگوں کی جانب سے کوآپریٹیو کی وزارت قائم کرنے کے لئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا

غریبوں کی فلاح و بہبود انتودیہ کا تصور امداد باہمی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا

کوآپریٹیو ورکروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ اب نظرانداز کئے جانے کا وقت ختم ہوگیا ہے اور ترجیح کا وقت شروع ہوا ہے

ملک کی ترقی میں کوآپریٹیوز کا بہت اہم تعاون ہے، کام میں تعاون کے جذبے کو فطرت کی طرح شامل کرکے کوآپریٹیو تحریک کو آگے بڑھانا ہوگا

ملک کے کروڑوں کسانوں، محروموں، پسماندہ طبقوں، دلتوں، غریبوں، نظرانداز کئے گئے لوگوں، خواتین کی ترقی کی راہ کوآپریٹیو کے توسط سے ہی روشن ہوسکتی ہے

Posted On: 25 SEP 2021 7:56PM by PIB Delhi

کئی لوگ کوآپریٹیو کی معنویت پر سوال اٹھاتے ہیں اور انھیں لگتا ہے کہ کوآپریٹیو تحریک اب غیرموزوں ہوگئی ہے، لیکن کوآپریٹیو تحریک سب سے زیادہ موزوں آج ہے

ہر گاؤں کو کوآپریٹیو کے ساتھ جوڑکر ’’سہکار سے سمردھی‘‘ کے اصول سے ہر گاؤں کو خوش حال بنانا اور اس کے ذریعے ملک کو خوش حال بنانا، کوآپریٹیو تحریک کا یہی رول ہوتا ہے

مل جل کر، ایک ہدف کے ساتھ، بھائی چارے کے جذبے سے ایک سمت میں کام کرنا ہی امداد باہمی (کوآپریشن) ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایک اصول دیا ہے ’’سہکار سے سمردھی‘‘ کا، اور انھوں نے جو 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ایک ہدف رکھا ہے، کوآپریٹیو کا شعبہ بھی اس ہدف کے حصول کے لئے پورا زور لگادے گا

کوآپریٹیو تحریک بھارت کے دیہی سماج کو ترقی دے گی اور ایک نئے سماجی سرمائے کا تصور بھی سامنے لائےگی

 

نئی دہلی،  25/ستمبر2021 ۔

بھارت کے عوام کی فطرت اور کلچر میں امداد باہمی رچی بسی ہے اور یہ کوئی مستعار  خیال نہیں ہے، اسی لئے بھارت میں کوآپریٹیو تحریک کبھی بھی غیر موزوں نہیں ہوسکتی

کوآپریٹیو تحریک نے اس ملک کو متعدد بحرانوں سے باہر نکالنے میں اپنا تعاون دیا ہے

امداد باہمی کی وزارت ، کوآپریٹیو اداروں کو مضبوط کرنے، ان میں شفافیت لانے، ان کی جدید کاری کرنے، کمپیوٹرکاری کرنے اور مسابقت میں ٹک سکنے والی کوآپریٹیوز کی تخلیق کے لئے بنائی گئی ہے

آج ملک میں تقریباً 91 فیصد گاؤں ایسے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی کوآپریٹیو کام کرتا ہے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں

آج ہم ایک بہت مضبوط پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ نئے اہداف کے تعین اور نئے اہداف کے حصول کے لئے ہم آگے بڑھیں

ہماری کامیابی کا انحصار چار چیزوں پر ہوسکتا ہے، عزم مصمم، شعور، سخت محنت اور وفاقی کی روح

دیہی علاقے میں ہر محروم تک ترقی کے فوائد کو پہنچانے کے چیلنج پر عبور حاصل کرنے کے لئے امداد باہمی کی وزارت مسلسل کام کرے گی

زراعت کا شعبہ نریندر مودی حکومت کی ترجیح ہے، سال 2009-10 میں زراعت کی بجٹ 12000 کروڑ روپئے تھا، سال 2020-21 میں بجٹ بڑھاکر 134499 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے

پہلی مرتبہ نریندر مودی حکومت نے لاگت سے زیادہ ایم ایس پی مقرر کرکے کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے

پردھان منتری کسان سمان یوجنا کے ذریعے ملک کے 11 کروڑ کسانوں کو 158000 کروڑ روپئے ڈی بی ٹی کے توسط سے براہ راست دیے گئے ہیں

جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت سرکار کی امداد باہمی کی وزارت ، سبھی ریاستوں کے ساتھ معاونت کرکے چلے گی اور کسی سے برسرپیکار ہونے کے لئے نہیں بنائی گئی ہے

آزادی کے 75 سال میں امرت مہوتسو میں نئی کوآپریٹیو پالیسی بنانے کی شروعات کریں گے

مساوی ترقی ہونی چاہئے، سب کو محیط ترقی ہونی چاہئے، سبھی کی شمولیت والی ترقی ہونی چاہئے اور ترقی کا ماڈل سبھی کو چھونے کی طاقت رکھنے والا ہونا چاہئے

وزیر اعظم کی خواہش کے مطابق عام لوگوں کو ترقی کے عمل کا ایک حصہ ہونا چاہئے، امداد باہمی کے ذریعے ہر کنبے کو خوش حال ہونا چاہئے اور ہر کنبے کی خوش حالی کے توسط سے ملک کو خوش حال ہونا چاہئے، ’’سہکار سے سمردھی‘‘ کا یہی اصول ہے

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ آج نئی دہلی میں منعقدہ ’قومی کوآپریٹیو کانفرنس‘ میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ اس موقع پر کوآپریٹیو کے شعبے سے وابستہ متعدد معزز شخصیات نے ملک کے پہلے کوآپریٹیو کے وزیر جناب امت کا خیرمقدم کیا۔ پروگرام میں کوآپریٹیو کے مرکزی وزیر مملکت جناب بی ایل ورما، انٹرنیشنل کوآپریٹیو الائنس (گلوبل) کے صدر ڈاکٹر ایریئل گوآرکو، امداد باہمی کی وزارت اور زراعت و کسانوں کی بہبود کی وزارت کے سکریٹری اور بھارت کے پیش رو کوآپریٹیو اداروں – آئی ایف ایف سی او، نیشنل کوآٖپریٹیو فیڈریشن آف انڈیا، امول، سہکار بھارتی، این اے ایف ای ڈی (نیفیڈ) اور کے آر آئی بی ایچ سی او (کربھکو) سمیت کوآپریٹیو خاندان کی متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔

9409-a.jpg

امور داخلہ اور کوآپریٹیو کے مرکزی وزیر نے ملک بھر سے آئے 2100 سے زیادہ کوآپریٹیو اراکین اور ورچول طریقے سے ملک و بیرون ملک سے جڑے تقریباً 6 کروڑ لوگوں سے اپنے خطاب کی شروعات پنڈت دین دیال اپادھیائے کی انتودیہ کی پالیسی کے ذکر کے ساتھ کی۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ غریبوں کی فلاح و بہبود اور انتودیہ کا تصور امداد باہمی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا اور ملک میں پہلے جب بھی ترقی کی بات ہوتی تھی تب سب سے پہلے پنڈت دین دیال اپادھیائے نے انتودیہ کی بات کی اور آج ان کا یوم پیدائش، لاکھوں کروڑوں کارکنوں کے لئے تحریک حاصل کرنے کا دن ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آزادی کے 75 سالوں کے بعد اور ایسے وقت جب کوآپریٹیو تحریک کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، ملک کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کوآپریٹیو کی آزاد وزارت قائم کی۔ انھوں نے ملک بھر کے کروڑوں کوآپریٹیو کارکنوں کی جانب سے کوآپریٹیو کی وزارت کی تشکیل  کے لئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملک کا پہلا کوآپریٹیو کا وزیر بننا ان کے لئے بہت فخر کی بات ہے۔ جناب شاہ نے کوآپریٹیو کے وزیر کے طور پر ملک بھر میں کوآپریٹیو لیڈروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ اب نظرانداز کئے جانے کا وقت ختم ہوگیا ہے اور ترجیح کا وقت شروع ہوا ہے۔ انھوں نے اپیل کی کہ سب لوگ مل کر کوآپریٹیو کے شعبے کو آگے بڑھائیں۔

9409-b.jpg

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک کی ترقی میں امداد باہمی کا بہت اہم تعاون ہوتا ہے اور یہ تعاون آج بھی برقرار ہے، لیکن اب بھی صحیح جہتوں تک پہنچنا باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بارے میں نئے سرے سے سوچنا ہوگا۔ نئے سرے سے اس کے خد و خال بنانے ہوں گے، ہمارے کام کا دائرہ بڑھانا ہوگا، کام میں شفافیت لانی ہوگی اور کام میں امداد باہمی کے جذبے کو فطرت اور کلچر کی طرح شامل کرکے کوآپریٹیو کی تحریک کو آگے بڑھانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے کروڑوں کسانوں، محروموں، پسماندہ طبقوں، دلتوں، غریبوں، نظرانداز کئے گئے لوگوں، خواتین کی ترقی کی راہ امداد باہمی کے توسط سے ہی روشن ہوسکتی ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ کئی لوگ کوآپریٹیو کی معنویت پر سوال اٹھاتے ہیں اور انھیں لگتا ہے کہ کوآپریٹیو کی تحریک اب غیرموزوں ہوگئی ہے، لیکن کوآپریٹیو تحریک آج سب سے زیادہ موزوں ہے اور اس سمت میں طویل سفر ابھی باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر گاؤں کو کوآپریٹیو کے ساتھ جوڑکر، سہکار سے سمردھی کے حصول سے ہر گاؤں کو خوش حال بنانا اور اس کے لئے ملک کو خوش حال بنانا، کوآپریٹیو تحریک کا یہی رول ہوتا ہے۔

امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ کوآپریٹیو کا لفظ ’کو‘ اور ’ورک‘ سے مل کر بنا ہے، مل جل کر، ایک ہدف کے ساتھ، بھائی چارے کے جذبے سے ایک سمت میں کام کرنا ہی کوآپریٹیو ہے۔  انھوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کوآپریٹیو کے شعبے میں کام کرنے والے ہم سب لوگوں کی طاقت اور اقتصادی قوت کم ہو، لیکن ہماری تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر اسے کوآپریٹیو کے توسط سے جمع کرتے ہیں تو ایک بہت بڑی طاقت بن جاتی ہے، جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ جناب شاہ نے کہا کہ اب خوداعتمادی کے ساتھ کوآپریٹیو تحریک میں ایک نئی شروعات کرنے کا وقت آگیا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایک اصول دیا ہے، سہکار سے سمردھی کا اور انھوں نے جس 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف رکھا ہے، کوآپریٹیو شعبہ بھی اس ہدف کے حصول کے لئے پورا زور لگادے گا۔

9409-c.jpg

جناب امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹیو تحریک بھارت کے دیہی سماج کو ترقی بھی دے گی اور ایک نئے سماجی سرمایہ کا تصور بھی قائم کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ سرمایہ (کیپٹل) کے تعلق سے دنیا میں متعدد تشریحات ہیں، لیکن ہم 10 ہزار سال کے کلچر کے نمائندہ لوگ ہیں اور سماجی سرمایے کا تصور ہماری کوآپریٹیو تحریک کو بہت آگے لے جائے گا۔ امت شاہ نے کہا کہ بھارت کے عوام کی فطرت اور کلچر میں کوآپریٹیو رچا بسا ہے اور یہ کوئی مستعار لیا ہوا خیال نہیں ہے، اسی لئے بھارت میں کوآپریٹیو تحریک کبھی بھی غیرموزوں نہیں ہوسکتی۔

امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ وہ تقریباً 25 برسوں سے کوآپریٹیو تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اور ملک کی کوآپریٹیو کسی سرکلر کا انتظار نہیں کرتی بلکہ جب سیلاب جیسی آفت آتی ہے تو گاؤں کی پیکس (پرائمری ایگریکلچر کوآپریٹیو سوسائٹیز) وہاں کھڑی ہوتی ہے، سب کو کھانا کھلاتی ہے  اور سب کو آسرا دیتی ہے۔ ضلع پیک سہکاری بینک اپنے منافع کی فکر نہیں کرتا، بلکہ اپنے حلقہ کار میں، چاہے خوش سالی ہو یا طوفان ہو یا سیلاب ہو، کام کرنے کے لئے سبھی تیار ہوجاتے ہیں۔ کوآپریٹیو تحریک نے اس ملک کو متعدد بحرانوں سے باہر نکالنے میں اپنا تعاون دیا ہے۔ کوآپریٹیو بھارت کے لئے کوئی نئی چیز نہیں ہے اور سال 1904 سے لے کر آج کر کوآپریٹیو نے کئی نئے مقام حاصل کئے ہیں۔ کئی نشیب و فراز بھی دیکھے ہیں، کبھی گرے، کبھی سنبھلے، کبھی آگے بڑھے، لیکن اس کی رفتار نہیں رکی۔ اور آپ سب سے یہی درخواست ہے کہ یہ رفتار نہیں رکنی چاہئے۔

جناب امت شاہ نے اپنی تقریر میں کوآپریٹیو تحریک کو تعاون دینے والے مادھو راؤ گوڈبولے، بیکنٹھ بھائی مہتا، تری بھون داس پٹیل، وٹھل راؤ وکھے پاٹل، یشونت راؤ چوہان، دھننجے راؤ گاڈگل اور لکشمن راؤ انعامدار جیسے کئی لوگوں کو یاد کیا اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔

9409-d.jpg

امور داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر نے کہا کہ کئی لوگ ان سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا کوآپریٹیو تحریک آج بھی موزوں ہے؟ انھوں نے کوآپریٹیو تحریک کی اچھی باتوں کے بارے میں بتاتے ہوئے گجرات کے امول کا ذکر کیا اور کہا کہ امول کا جنم سردار پٹیل کی کی دور اندیشی سے ہوا۔ انھوں نے کہا کہ 1946 میں انگریزوں میں ایک فیصلہ کیا کہ کسانوں کو لازمی طور پر اپنا سارا دودھ ایک نجی کمپنی کو دینا ہوگا۔ اس کے خلاف کھیڑا ضلع میں ایک تحریک چلی اور سردار پٹیل نے تری بھون بھائی کو کہا کہ جب تک دودھ بیچنے کا انتظام نہیں ہوتا تب تک اس کے خلاف تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اور وہیں سے امول کی شروعات ہوئی۔ سردار پٹیل کی رہنمائی میں تری بھون بھائی پٹیل نے دو پرائمری ولیج مِلک پروڈیوسر سوسائٹیز کا رجسٹریشن کرایا، جس سے 80 کسان جڑے اور وہ امول آج کہاں ہے۔ سال 2020-21 میں امول کا گروپ ٹرن اوور 53 ہزار کروڑ روپئے کو پار کرگیا ہے اور 36 لاکھ کسان کنبے اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کو بااختیار بنانے کا کام اس نے کیا ہے۔ بڑی سے بڑی کارپوریٹ ڈیری جو نہیں کرسکتی وہ ہمارے امول نے کیا ہے۔ اسی طرح لجت پاپڑ کا ذکر کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ 1959 میں جسونتی بین پوپٹ نام کی ایک حوصلہ مند گجراتی خاتون نے 80 بہنوں کو ساتھ لے کر پاپڑ بنانے کی ایک کوآپریٹیو شروع کی اور سال 2019 میں ان کا کاروبار 1600 کروڑ روپئے سے زیادہ کا تھا اور یہ 80 کروڑ روپئے کا ایکسپورٹ کرتی ہے۔ آج تقریباً 45000 خواتین لجت کی کوآپریٹیو تحریک سے جڑی ہیں اور یہ سکسیز اسٹوری ملک بھر کی خواتین کے لئے باعث تحریک ہے۔ آج امول اور لجت کی کامیابی میں ملک کی خواتین کا بہت بڑا تعاون ہے۔

انھوں نے کہا کہ افکو (آئی ایف ایف سی او) نے اس ملک کے سبز انقلاب کو ایک نئی سمت دینے کا کام کیا ہے۔ سال 1967 میں 57 کوآپریٹیوز کے ساتھ ایک سوسائٹی بنی اور وہ بڑھتے بڑھتے آج 36000 سے زیادہ کوآپریٹیوز کو رکن بناکر تقریباً 5.5 کروڑ کسانوں کو ان کا فائدہ پہنچاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک بہت بڑی کمپنی اگر کچھ کمائے گی تو اس کا سب سے بڑا حصہ اس کے مالک کے پاس جائے گا، لیکن افکو جو کچھ بھی کمائے گی اس کی پائی پائی 5.5 کروڑ کسانوں کے گھر میں جائے گی اور اسی کو کوآپریٹیو کہتے ہیں۔ جناب امت شاہ نے نینو ٹیکنالوجی کو زمین پر اتارنے کے لئے افکو کی ستائش کی۔ انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں کوآپریٹیو اداروں کے توسط سے ہی کھاد اور کھاد درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ہم خودکفیل بنیں گے۔ اسی طرح کربھکو (کے آر آئی بی ایچ سی او) بھی 9500 سوسائٹیوں کا ایک کنسورشیم ہے اور اس کا شیئر کیپٹل تقریباً 388 کروڑ روپئے ہے اور حصص داروں کو ایک سال میں 2118 کروڑ روپئے کا ڈیویڈینڈ کربھکو نے دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کامیابی یا سکسیز اسٹوریز کی یہ فہرست بہت طویل ہے، جنھوں نے کوآپریٹیو تحریک کے توسط سے چھوٹے چھوٹے لوگوں سے سرمایہ جمع کرکے ملک کے معاشی نظام اور ترقی میں اتنا بڑا تعاون دیا ہے اور سارا منافع چھوٹے چھوٹے سرمایہ کاروں کے گھروں میں جاتا ہے۔

9409-e.jpg

جناب امت شاہ نے کہا کہ اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، جیسے کہ بیج کے شعبے میں کوآپریٹیو کا تعاون ہوسکتا ہے اور بیج کو باہر سے لانے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہئے۔ جناب شاہ نے کامیاب کوآپریٹیوز سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایک شعبے میں اگر توسیع کی جائے تو پانچ سال میں کوئی ایسا شعبہ نہیں ہوگا جہاں کوآپریٹیو کا عمل دخل نہیں ہوگا اور یہ امداد باہمی کی وزارت، کوآپریٹیو اداروں کو مضبوط کرنے، ان میں شفافیت لانے، ان کی جدید کاری، کمپیوٹر کاری اور مسابقت میں ٹک سکنے والی کوآپریٹیو تیار کرنے کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ جس طرح جامونت جی نے ہنومان جی کو ان کی طاقت کا احساس کرایا تھا اسی طرح کوآپریٹیو اداروں کو ان کی طاقت سے انھیں واقف کرانے کا وقت ہے۔  انھوں نے کہا کہ آج ملک میں تقریباً 91 فیصد گاؤں ایسے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی کوآپریٹیو ادارہ کام کرتا ہے، دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہے۔ 855000 سے زیادہ رجسٹرڈ کوآپریٹیو سوسائٹیز ہیں اور ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ کریڈٹ کوآپریٹیوز ہیں۔ قرض نہ دینے والی کوآپریٹیوز کی تعداد 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔ 17 سے زیادہ قومی سطح کی کوآپریٹیو یونین ہیں، 33 ریاستی سطح کے کوآپریٹیو  بینک ہیں، 363 ضلع سطح کے کوآپریٹیو بینک ہیں۔ ایک طرح سے ہر دسویں گاؤں میں ایک پیکس ہے جو کہ بہت بڑی حصول یابی ہے اور ان پیکس کے توسط سے کسانوں کی فلاح و بہبود کا کام کیا جاتا ہے۔ سرکار کے ذریعے بھیجے گئے قرض کو شفاف طریقے سے کسانوں تک پہنچانے کا کام پیکس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ پیکس ہی کھیتی کے لئے مفید چیزوں کو کسانوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے اور ان پیکس کو مضبوط کرنا ہمارا ہدف ہونا چاہئے۔

امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ زرعی قرض کی تقسیم کا 29 فیصد کوآپریٹیو نظام کے توسط سے جاتا ہے، 35 فیصد کھاد کی تقسیم کوآپریٹیوز کے ذریعے ہوتی ہے، تقریباً 30 فیصد کھاد کی پیداوار کوآپریٹیوز کرتی ہیں، چینی کی پیداوار 31 فیصد سرکاری کوآپریٹیو ملیں کرتی ہیں، دودھ کی خرید اور پیداوار 20 فیصد، گیہوں کی 13 فیصد خرید کوآپریٹیوز کرتی ہیں۔ دھان کی 20 فیصد خرید کوآپریٹیوز کرتی ہیں اور ماہی پروری کے شعبے میں بھی کوآپریٹیوز کا تعاون 21 فیصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ہم ایک بہت مضبوط پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ نئے اہداف مقرر کئے جائیں اور نئے اہداف کے حصول کے لئے ہم آگے بڑھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ جو پلیٹ فارم بھارت کی کوآپریٹیوز تحریک کے پرکھوں نے ہمیں دیا ہے، اس پر ایک مضبوط کثیر منزلہ عمارت تعمیر کرنے کا کام سبھی کوآپریٹیوز ورکروں کو کرنا ہے اور اسی لئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کوآپریٹیو تحریک کو رفتار دینے کے لئے کوآپریشن کی وزارت قائم کی ہے۔

9409-f.jpg

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ ہماری کامیابی کا انحصار چار چیزوں پر ہے، یہ چار چیزیں ہیں عزم مصمم، شعور، سخت محنت اور وفاقیت کے جذبے سے کام کرنا۔ اور اگر ہم اپنے کوآپریٹیوز میں ان چار بنیادی اصولوں کو شامل کریں تو ہم اپنی تحریک کو بہت رفتار دے سکتے ہیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے امداد باہمی کی جو وزارت قائم کی ہے اس کا مقصد دیہی علاقوں میں ترقی کو پہنچانا اور دیہی علاقوں میں ہر محروم شخص تک ترقی کے ثمرات کو پہنچانے کے چیلنج پر عبور حاصل کرنے کے لئے امداد باہمی کی وزارت مسلسل کام کرے گی۔ جناب شاہ نے کہا کہ زرعی شعبے میں سات سال میں وزیراعظم نے یکسر تبدیلی لانے کا کام کیا ہے اور اگر صرف بجٹ کی الاٹمنٹ کی بات کریں تو سال 2009-10 میں زراعت کا بجٹ 12000 کروڑ روپئے تھا، اسے سال 2020-21 میں بڑھاکر 134499 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی شعبہ نریندر مودی حکومت کی ترجیح ہے، اور زرعی شعبے کی یہ جو ترجیح ہے اس کو اس کے ہدف تک پہنچانا کوآپریٹیو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے بہت سارے کسانوں کو حمایت دینے کی بات کہی ہے۔ سوامی ناتھن کمیشن آیا اور تب سے بات ہورہی ہے کہ کسانوں کی آمدنی بڑھنی چاہئے، لاگت سے 50 فیصد زیادہ ہونی چاہئے، لیکن کوئی دیتا نہیں تھا۔ پہلی بار نریندر مودی حکومت نے لاگت سے زیادہ ایم ایس پی مقرر کرکے کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے۔ پردھان منتری کسان سمان یوجنا کے ذریعے ملک کے 11 کروڑ کسانوں کو 158000 کروڑ روپئے ڈی بی ٹی کے توسط سے براہ راست دیے گئے ہیں۔ اسٹارٹ اپ شروع کرنے کی نئی مہم چلائی گئی، 10 ہزار نئے ایف پی او بنائے گئے، تقریباً 6865 کروڑ روپئے مالی مدد کے لئے الگ سے خرچ کیا جانا ہے، ای- نام منڈی اسکیم لائی گئی ہے، سوائل ہیلتھ کارڈ دیا گیا ہے اور ان سب میں کوآپریٹیو شعبہ  اور پیکس کا رول ہے۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ پیکس میں سبھی باتوں کا مطالعہ کرکے، اس کا نفاذ کرنے والی ایجنسی گاؤں کی سطح پر بنانے کی شروعات کرنی ہوگی، تبھی یہ ساری چیزیں نیچے تک پہنچ سکیں گی۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ کئی لوگ کہتے ہیں کہ کوآپریٹیو ریاستوں کا موضوع ہے، لیکن جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت سرکار کی امداد باہمی کی وزارت سبھی ریاستوں کے اشتراک سے چلے گی اور یہ کسی سے برسرپیکار ہونے کے لئے نہیں بنائی گئی ہے، لہٰذا کسی کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ ریاستی موضوع ہے یا مرکزی۔ ہم سب ریاستوں کی مدد کریں گے، سب کو ساتھ لیں گے اور اس تحریک کو آگے بڑھائیں گے، کوآپریٹیو سوسائٹیز کو زمینی سطح تک پہنچانے کا کام امداد باہمی کی وزارت کے زیر اہتمام ہوگا۔ سبھی ریاستی کوآپریٹیوز کو سہولت فراہم کرنے کے لئے ہم جلد ہی قانون میں بہت سی تبدیلیاں کریں گے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ سال 2002 میں اٹل جی کوآپریٹیو پالیسی لے کر آئے تھے، اور اب 2021-22 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کچھ وقت کے اندر نئی کوآپریٹیو پالیسی لے کر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے 75ویں سال میں امرت مہوتسو میں نئی کوآپریٹیو پالیسی بنانے کا آغاز کریں گے، پیکس کو مضبوط کرنے کا کام ہوگا۔ 65000 پیکس، 2 لاکھ گاؤں کے درمیان کم ہیں اور ہدف رکھا جائے گا کہ آنے والے پانچ سال کے اندر ہر دوسرے گاؤں میں پیکس ہوجائے اور یہ تعداد 65000 سے بڑھاکر 3 لاکھ تک کرنے کے لئے مناسب قانونی خاکہ تیار کرنے کا کام امداد باہمی کی وزارت کرے گی۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ ایڈوائزری ہوگی جو ریاستوں کے پاس بھیجی جائے گی اور ریاستیں اس میں اپنے حساب سے تبدیلی کرکے پیکس بنانے میں تعاون کریں گی۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ سبھی پیکس کی کمپیوٹر کاری ہو، جس میں بھارت سرکار بھی اپنا بڑا تعاون دینے والی ہے۔ ایسا سافٹ ویئر بھی بنادیا جائے گا جو پیکس، ڈی سی بی اور نابارڈ تینوں کو جوڑے گا۔ ایک ہی پیکس سے تینوں کا کاؤنٹنگ سسٹم اپنی زبان میں، مقامی زبان میں ہوگا۔ پیکس کا ایف پی او بنانے کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے اس پر بھی امداد باہمی کی وزارت کام کررہی ہے۔ جناب شاہ نے بتایا کہ کوآپریٹیو ٹریننگ کو اور گہرا بنایا جائے گا۔ پیشہ ور بنانا پڑے گا اور فروغ ہنرمندی کا نظم بھی کیا جائے گا۔ کریڈٹ سوسائٹیوں کے رول کو اور مضبوط کیا جائے گا، تاکہ چھوٹے سے چھوٹا شخص بھی قرض حاصل کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ امداد باہمی کی وزارت سبھی پرایئرٹی سیکٹر لنڈنگ میں کوآپریٹیو کا رول بڑھانے کے لئے سبھی وزارتوں کے ساتھ کام کرکے پراپیئرٹی لنڈنگ کو یقینی بنائے گی۔ امول کی طرز پر امدادی گروپ اپنی سوسائٹی بناکر کام کرسکیں، اس کے لئے خصوصی قانونی التزام کی ضرورت ہے، جس پر کام کیا جارہا ہے۔ ماہی گیروں کے کوآپریٹیو کے لئے کام کیا جائے گا تاکہ چھوٹے ماہی گیر بھی بڑی بڑی چیزیں لے سکیں اور اس کا منافع براہ راست ماہی گیروں کے بینک کھاتے میں پہنچے۔ جنگلاتی پیداوار کے لئے بھی ٹرائبل کوآپریٹیو بناکر کام کیا جائے گا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت سبھی ریاستوں کے ساتھ کوآپریٹیو کے شعبے میں مل کر کام کرے، اس طرح کی کوشش کی جائے گی۔ جناب شاہ نے کہا کہ کوآپریٹیو کو آگے بڑھانے کے لئے ٹریننگ، فروغ ہنرمندی، بھرتی اور انتخاب میں شفافیت لانی ہوگی، ورنہ ہم ازکار رفتہ ہوجائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے کوآپریٹیو شعبوں کے لئے جو اتنا بڑا فیصلہ کیا ہےاسے رفتار دینے کے لئے ہمیں داخلی تبدیلی اور خود احتسابی کرنی ہوگی۔ جناب شاہ نے کہا کہ امداد باہمی کی وزارت کامن سروس سینٹر بنانے اور ڈیٹابیس تیار کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، تاکہ ایک قومی کوآپریٹیو پہل کی ضرورت ہے اور کسی کوآپریٹیو ادارے کو اس کے لئے آگے آنا چاہئے۔ جناب شاہ نے کہا کہ آج نیشنل کوآپریٹیو یونیورسٹی بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ نئے اربن کوآپریٹیو بینک کے مسائل سے واقف اور یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس شعبے کے ساتھ کوئی بے انصافی نہیں کرپائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اسی لئے مودی جی نے کوآپریٹیو کو ترجیح دی ہے اور خودکفیل بھارت میں کوآپریٹیو کو اہم مقام دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مساوی ترقی ہونی چاہئے، سب تک پہنچنے والی ترقی ہونی چاہئے، سب کو محیط ترقی ہونی چاہئے، ترقی کے ماڈل کے اندر سب کوٹچ کرنے کی طاقت ہونی چاہئے اور ترقی کا ماڈل سب کو شامل کرنے کے لئے باہیں پھیلاکر کھڑا ہونا چاہئے، جو کوآپریٹیو کے علاوہ ممکن نہیں ہے، اسی لئے کوآپریٹیو کی وزارت قائم کی گئی ہے۔

جناب امت شاہ نے انٹرنیشنل کوآپریٹیو الائنس (گلوبل) کے صدر ڈاکٹر ایریل گوآرکو کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت کا کوآپریٹیو شعبہ، بھارت کی کوآپریٹیو تحریک ملک بھر میں عمدہ طور طریقوں کو مشترک کرنے، لین دین کرنے کا ایک پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ پہل کرکے ایسے کسی ادارے کا بھارت میں صدر دفتر بنائیں جو دنیا میں کوآپریٹیو سے متعلق عمدہ طور طریقوں اور عمدہ طور طریقوں کے ایکسچینج کا وسیلہ بنیں اور ہم آپ کا خیرمقدم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی دلی خواہش ہے کہ کوآپریٹیو کی بنیاد پر بھارت میں ترقی کا ایک نیا باب رقم کیا جائے، مودی جی کے خودکفیل بھارت کے خواب کو عملی شکل دینے کے لئے کوآپریٹیو کے شعبے کو اس میں اہم رول ادا کرنا ہوگا، ہمیں کوآپریٹیو کو کلچر بنانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ جو اہم رول ہم لائیں گے، آنے والی کئی نسلیں اسے یاد رکھیں گی۔

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.9408



(Release ID: 1758457) Visitor Counter : 54