ٹیکسٹائلز کی وزارت

حکومت نے ٹیکسٹائلز کے لئے پروڈکشن سے منسلک تحریک  (پی ایل آئی) اسکیم کو منظوری دی، اس سے عالمی ٹیکسٹائلز کی تجارت میں  بھارت کو پھر سےے  غلبہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی

وسیع  تر معیشتوں  کا فائدہ اٹھاکر یہ اسکیم  بھارتی کمپنیوں کی عالمی چمپئن  کے طور پر ابھرنے میں مدد کرے گی

اس سے  براہ راست  7.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لیے اضافی روزگار پیدا ہوگا اور  معاون سرگرمیوں کےلئے مزید کئی لاکھ  روزگار پیدا ہوں گے

یہ اسکیم بڑے پیمانے پر  خواتین کی شرکت کے لئے راہ ہموار کرے گی

پانچ سال کی مدت میں صنعت کےلئے  10683 کروڑ روپے  مالیت کی تحریک فراہم کرائی جائے گی

توقع ہے کہ اس اسکیم کے نتیجے میں  پانچ سال میں  19000 کروڑ روپے سے زیادہ کی نئی سرمایہ کاری ہوگی اور تین لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا اضافی پروڈکشن کاروبار ہوگا

خواہش مند اضلاع اور  ¾ شہروں میں  سرمایہ کاری کو  زیادہ ترجیح  دی جائے گی

اسکیم کا  خصوصی طور پر گجرات، اترپردیش، مہاراشٹر، تمل ناڈو، پنجاب، آندھرا پردیش، تلنگانہ ، اوڈیشہ وغیرہ جیسی  ریاستوں پر  مثبت پڑے گا

Posted On: 08 SEP 2021 2:42PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  8 ستمبر 2021،    وزیراعظم جناب نریندر مودی کی  قیادت میں حکومت نے آتم نربھر بھارت کے وژن کی جانب آگے قدم بڑھاتے ہوئے  10683 کروڑ روپے کے بجٹ تخمینے کے سات  ایم ایم ایف، اپیرل،  ایم ایم ایف فیبرکس اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائلز کے  10 زمروں/ مصنوعات  کے لئے  ٹیکسٹائل کے واسطے پی ایل آئی اسکیم کو منظوری ہے۔ آر او ایس سی ٹی ایل ،آر او ڈی ٹی ای پی اور  مناسب قیمت پر کچا مال فراہم کرانے، ہنر مندی کے فروغ وغیرہ جیسے  حکومت کے دیگر اقدامات کے ساتھ  ٹیکسٹائلز کے لئے پی ایل آئی سے  ٹیکسٹائلز مینوفیکچرنگ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

ٹیکسٹائلز کے لئے پی ایل آئی اسکیم  1.97 لاکھ کروڑ روپے کے تخمینے کے ساتھ مرکزی بجٹ 22۔2021 کے دوران  13 شعبوں کے لئے کئے گئے پی ایل آئی اسکیموں کے مجموعی  اعلان کا ایک حصہ ہے۔13 شعبوں کے لئے کئے گئے پی ایل آئی اسکیموں کے اعلان سے بھارت میں کم از کم پروڈکشن پانچ برسوں میں تقریباً 37.5 کروڑ ہونے کی توقع ہے اور پانچ برسوں میں  تقریباً ایک کروڑ  روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ٹیکسٹائلز کے لئے پی ایل آئی پی ایل آئی اسکیم سے  ملک میں بیش قیمت ایم ایم ایف فیبرک، لباسوں اور  تکنیکی ٹیکسٹائلز کے پروڈکشن کو فروغ حاصل ہوگا۔ محرک کا ڈھانچہ اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ  جس سے صنعت کی ان زمروں میں  نئی صلاحیتوں  میں  سرمایہ کاری  کے لئے حوصلہ افزائی ہوگی۔اس سے  زیادہ قیمت والے ایم ایم ایف زمرے  کو فروغ حاصل ہوگا جو  کہ کاٹن اور دیگر قدرتی ریشے  پر مبنی  ٹیکسٹائلز صنعت کی  روزگار اور تجارت کے لئے  نئے مواقع پیدا کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوگا ۔ نتیجتاً عالمی ٹیکسٹائلز کی تجارت میں  اپنی تاریخی غلبے کی  حالت پر آنے میں بھارت کو مدد ملے گی۔

تکنیکی ٹیکسٹائلز نئے دور کے ٹیکسٹائلز کا زمرہ ہے، جس کو بنیادی ڈھانچہ، پانی، صحت اور صفائی ستھرائی ، دفاع، سلامتی، آٹو موبائلز  ہوا بازی وغیرہ سمیت  معیشت کے کئی شعبوں میں  نافذ کئے جانے سے  معیشت کے ان شعبوں کی صلاحیت بہتر ہوگی۔ حکومت نے  اس شعبے میں  آر اینڈ ڈی کوششوں کو فروغ دینے کے لئے ماضی میں ایک  نیشنل ٹیکنیکل ٹیکسٹائلز مشن بھی شروع کیا ہے۔ پی ایل آئی اس زمرے میں  سرمایہ کار ی  کو راغب کرنے میں مزید مدد کرے گی۔

مختلف  قسم کے محرکوں کے ساتھ دو قسم کی سرمایہ کاری ممکن ہے۔ کوئی بھی ایسا شخص (فرم / کمپنی سمیت) جو  نوٹیفائی کی گئی لائنز   (ایم ایم ایف فیبرک، گارمینٹ) کی مصنوعات  اور  ٹیکنیکل ٹیکسٹائلز کی مصنوعات تیار کرنے کے لئے  پلانٹ، مشینری،  آلات اور  سول ورکس (زمین اور انتظامی بلڈنگ کی لاگت کو چھوڑکر) میں کم از کم  300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا خواہش مند ہے۔ وہ اسکیم کے پہلے حصے میں شرکت کے واسطے  درخواست دینے کا اہل ہوگا۔ دوسرے حصے میں کوئی بھی ایسا شخص (فرم / کمپنی سمیت) جو  کم از کم 100 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا خواہش مند ہوگا، اسکیم کے اس حصے میں  شرکت کے لئے  درخواست دینے  کا اہل ہوگا۔ اس کے علاوہ  خواہش مند اضلاع، (فرم / کمپنی سمیت) ٹیئر3، ٹیئر 4 شہروں  اور دیہی علاقوں میں  سرمایہ کاری کو  ترجیح دی جائے  گی اور  اس ترجیح کی وجہ سے  صنعت کو  پسماندہ طبقے کی طرف بڑھنے طرف بڑھنے کی تحریک ملے گی۔ اسکیم کا   خصوصی طور پر گجرات، اترپردیش، مہاراشٹر، تمل ناڈو، پنجاب، آندھرا پردیش، تلنگانہ ، اوڈیشہ وغیرہ جیسی  ریاستوں پر  مثبت پڑے گا۔

تخمینے کے مطابق پانچ برسوں کی ٹیکسٹائلز کے لئے پی ایل آئی اسکیم سے 19000 کروڑ روپے سے زیادہ کی نئی سرمایہ کاری ہوگی اور اس سکیم کے تحت تین لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا مجموعی  کاروبار ہوگا، جس سے  اس شعبے میں 7.5 سے زیادہ  اضافی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور  معاون سرگرمیوں  کے لئے  مزید کئی لاکھ مواقع  پیدا ہوں گے۔ ٹیکسٹائلز صنعت میں  چونکہ  خواتین کو بھی زیادہ تر مقرر کیا جاتا ہے اس لئے  اس  اسکیم سے خواتین  کو بااختیار بنانے اور  رسمی معیشت میں ان کی شراکت داری میں اضافہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ا گ۔ن ا۔

U-8782

                          



(Release ID: 1753195) Visitor Counter : 48