وزارتِ تعلیم

وزیراعظم نے شکشک پرو کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا

تعلیم کے شعبے

آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت شروع کیے گئے نئے اقدامات تعلیم میں انقلاب پیدا کریں گے اور ہندوستانی تعلیمی نظام کو عالمی نقشے پر جگہ دلائیں گے: وزیر اعظم

ہم تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں، خوش قسمتی سے ہمارے پاس جدید اور مستقبل پر مبنی نئی تعلیمی پالیسی بھی ہے: وزیر اعظم

وزیراعظم کی درخواست کے مطابق اولمپک اور پیرالمپکس میں تمغے پانے والا ہر کھلاڑی 75 اسکولوں کا دورہ کرے گا میں کئی کلیدی اقدامات کا بھی آغاز کیا

Posted On: 07 SEP 2021 4:00PM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شکشک پروکے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اشاروں کی بھارتی زبان کی لغت(سماعت سے محروم افراد کے لیے یونیورسل ڈیزائن آف لرننگ کے مطابق آڈیو اور متن پر مبنی اشاروں کی زبان کا ویڈیو)، ٹاکنگ بکس(بصارت سے محروم افراد کے لیے آڈیو بک)سی بی ایس ای کا اسکول کے معیار کی یقین دہانی اور تجزیے کا فریم ورک، نپن بھارت اور ودیانجلی پورٹل کے لیے ٹیچروں کا تربیتی پروگرام نشٹھا(تعلیمی رضاکاروں / عطیہ دینے والوں / اسکول کی ترقی کے لیے سی ایس آر تعاون کرنے والوں کی سہولت کے لیے )کا بھی آغاز کیا۔ اس پروگرام میں مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان، وزیر مملکت برائے تعلیم محترمہ انّ پورنا دیوی، وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سبھاش سرکار، وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر راج کمار رنجن سنگھ اور وزارت تعلیم کے سینئر افسران بھی شامل ہوئے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے قومی ایوارڈ جیتنے والے اساتذہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے ان ٹیچروں کے تعاون کی ستائش کی جنہوں نے ملک میں مشکل وقت میں  طلباء کے مستقبل کو تعمیر کرنے میں تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ، شکشک پرو کے موقع پر ، کئی نئی اسکیموں کا آغاز کیا گیا ہے جو  اس لیے بھی بہت اہم ہے کیوں کہ ملک سردست آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے۔ بھارت آزادی کے 100 سال بعد کیسا ہوگا اس کا عہد کرتے ہوئے وزیراعظم نے وبا کے چیلنج پر کھرا اترنے کے لیے طلباء ، اساتذہ اور پوری تعلیمی برادری کی ستائش کی اور ان سے کہا کہ وہ اس طرح کے مشکل وقت سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم تبدیلی کے دور کے درمیان ہیں، لیکن خوش قسمتی سے ہمارے پاس جدید اور مستقبل پر مبنی نئی تعلیمی پالیسی بھی موجود ہے۔

وزیراعظم نے قومی تعلیمی پالیسی تیار کرنے اور اسے نافذ کرنے میں ماہرین تعلیم ، دیگر ماہرین ، اساتذہ کی ہر سطح پر تعاون کے لیے ستائش کی ۔انہوں نے سبھی پر زور دیا کہ وہ اپنی اس شرکت کو نئی سطح تک پہنچائیں اور اس میں سماج کو شامل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے سیکٹر میں یہ تبدیلیاں صرف پالیسی پر مبنی نہیں ہے بلکہ شرکت پر بھی مبنی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ودیانجلی -2.0سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ، سب کا وشواس کے ساتھ سب کا پریاس کے لیے ملک کے عہد کا ایک پلیٹ فارم بھی ہے۔ اس سماج میں ہمارے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا ہوگا اور سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار میں اضافے میں تعاون کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے چند برسوں میں عوامی شرکت ایک بار پھر بھارت کا قومی کردار بنتا جا رہا ہے۔ پچھلے 6-7 برسوں میں عوامی شرکت کی قوت کی وجہ سے بھارت میں بہت سی چیزیں کی گئیں جن کے لیے  اس سے پہلے تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب سماج مل کر کچھ کرتا ہے تو خواہش کے مطابق نتائج کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو نوجوانوں کے مستقبل کی تعمیر میں ہر ایک کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے حال ہی میں اختتام پزیر اولمپک اور پیرالمپکس میں ہمارے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کو یاد کیا۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کھلاڑیوں نے ان کی اس درخواست کو قبول کر لیا ہے کہ ہر کھلاڑی آزادی کے امرت مہوتسو کے دوران کم از کم 75 اسکولوں کا دورہ کرے گا۔ اس سے طلباء کو تحریک حاصل ہوگی اور بہت سے با صلاحیت طلباء کھیلوں کے شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی ہو سکے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے تعلیم صرف شمولیت والی ہی نہیں بلکہ یکساں بھی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی ڈیجیٹل آرکیٹیکچر یعنی این –ڈیئرکی تعلیم میں عدم برابری کو ختم کرنے اور اسے جدید بنانے میں اہم رول ادا کرنے کی امید ہے۔ این – ڈیئر اسی طرح سے مختلف تعلیمی سرگرمیوں کے درمیان 'بہترین رابطہ 'کے طور پر کام کرسکے گا جیسا کہ  یو پی آئی نے بینکنگ کے سیکٹر میں انقلاب پیدا کرنے میں ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک تعلیم کے ایک حصے کے طور پر ٹاکنگ بکس اور آڈیو بکس جیسی تکنیکی تیاریاں کر رہا ہے۔

اسکولوں کے معیاری تجزیے اور یقین دہانی کے فریم ورک (ایس کیو اے اے ایف)جسے آج چالو کیا گیا ، درسیات ، تدریسیات ، تجزیہ، بنیادی ڈھانچہ، شمولیت والی سرگرمیاں اور حکمرانی کے عمل جیسے مختلف پہلوؤں کے مشترکہ سائنسی فریم ورک کی عدم موجودگی میں صلاحیت کی کمی کو دور کرے گا۔ ایس کیو اے اے ایف اس عدم برابری کو ختم کرنے میں مدد کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اس دور میں ہمارے ٹیچروں نے نئے نظام کے بارے میں علم حاصل کیا ہے اور نئی تکنیک کو تیزی سے اپنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک نشٹھا ٹریننگ پروگرام کے ذریعہ ان تبدیلیوں کے بارے میں اساتذہ کو تیار کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے اساتذہ نہ صرف عالمی معیار پر پورے اترے ہیں بلکہ ان کا اپنا خصوصی دارالحکومت بھی ہے۔ یہ خصوصی دارالحکومت  اور خصوصی قوت ان کے باطن میں موجود بھارتی کلچر کی ایک مخصوص قوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ٹیچر نہ صرف پیشہ ور کے طور پر اپنے کام پر غور کرتے ہیں بلکہ ان کے لیے تدریس ، انسانی ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے ہمارے ٹیچروں اور طلباء کےدرمیان وہ بہترین تعلقات نہیں ہیں جو بچوں اور ٹیچروں کے درمیان ہونے چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعلقات پوری زندگی کے لیے ہوتے ہیں۔

اس موقع پر بولتے ہوئے مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان نے کئی تعلیمی پالیسی 2020 اور تعلیم کے شعبہ میں دنیا میں سب سے آگے بننے کی سمت میں بھارت کے سفر پر اپنے وژن اور خیالات شیئر کرنے کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود تعلیم کے شعبہ میں کئی پہل شروع کی ہے اور متعلقین کے ساتھ وہ لگاتار بات کرتے رہتے ہیں، یہ 21ویں صدی کے بھارت کی تمناؤں کے مطابق ایک تعلیمی پالیسی کو فروغ دینے کو لیکر ان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ جناب پردھان نے کہا کہ شکشک پرو کا یہ جشن نہ صرف تمام سطحوں پر تعلیم کی تشہیر کو یقینی بنانے بلکہ اس کے معیار میں بہتری لانے، شمولیتی روایات کو ادارہ جات بنانے اور اسکولوں میں استقامت کو بڑھانے کے لیے نئی روایتوں کو ترغیب دیتا ہے۔

اس کے افتتاحی پروگرام کے بعد موجودہ سال کی تھیم ’’کوالٹی اینڈ سسٹین ایبل اسکولس: لرننگ فرام اسکولس ان انڈیا‘‘ پر ایک تکنیکی اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس کی صدارت قومی تعلیمی پالیسی کمیٹی کے صدر ڈاکٹر کے کستوری رنگن اور این سی ای آر ٹی کے سابق ڈائرکٹر پروفیسرجے ایس راجپوت اور دیگر ماہرین تعلیم کے ذریعے کی گئی۔ اس پروگرام کے دوران انہوں نے اپنے تجربات شیئر کیے۔

17 ستمبر تک کئی ویبنار، کانفرنس، پریزنٹیشن وغیرہ منعقد کیے گئے ہیں جس میں ملک کے مختلف اسکولوں کے ماہرین تعلیم کو اپنے تجربات، سبق اور آگے کی شکل و صورت شیئر کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دور دراز کے اسکولوں کے ٹیچر اور پیشہ ور بھی اسکولوں میں معیار اور اختراع سے متعلق موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ متعلقہ ریاستوں میں ایس سی ای آر ٹی اور ڈی آئی ای ٹی بھی ہر ایک ویبنار پر آگے صلاح و مشورہ کریں گے اور خاکہ کے بارے میں بتائیں گے جسے ریاستی ایس سی ای آر ٹی کے ذریعے شامل کیا جائے گا۔

ملک بھر سے بڑی تعداد میں ٹیچر، پرنسپل، طلباء، سرپرست اور متعلقین شکشک پرو سے پہلے پروگرام میں اور بعد کے ویبناروں میں شامل ہوئے۔

*****

ش  ح –  ق ت –  ت  ع

U:8753

 

 



(Release ID: 1752952) Visitor Counter : 55