وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

سنگاپور اور ہندستان کی بحریہ کی 28 ویں باہمی مشق سِمبیکس

Posted On: 04 SEP 2021 2:41PM by PIB Delhi

 

سنگاپور اور ہندستان کی بحریہ کی 28 ویں باہمی مشق (سِمبیکس) کا انعقاد 02 سے 04 ستمبر 21 تک۔

 

بحری جہاز پر سے حرکت میں آنے والے ہیلی کاپٹر کے ساتھ نشانہ بند میزائل شکن آئی این ایس رن وجے، اےایس  ایس ڈبلیو کورویٹ آئی این ایس کلتن اور نشانہ بند میزائل کورویٹ آئی این ایس کورا اور دور تک بحریبحری گشت لگانے والے ایک پی 81  ہوائی جہاز نے ہندستانی بحریہ کی نمائندگی کی۔ آر ایس این کے شرکاء میں ایک اعلیٰ درجے کا جہاز، ایک ایس 70 بی بحری ہیلی کاپٹر کے ساتھ آر ایس ایس اسٹیڈ فاسٹ، ایک وکٹری کلاس میزائل کورویٹ ، آر ایس ایس ویگر، ایک آرچر کلاس آبدوز اور ایک فوکر 50 بحری گشتی ہوائی جہاز شامل تھے۔ فضائی دفاعی مشقوں میں جمہوریہ سنگاپور ایئر فورس (آر ایس اے ایف) کے چار ایف 16 لڑاکا طیاروں نے بھی حصہ لیا۔

 

سِمبیکس 1994 میں شروع کیا جانوالا کسی بھی غیر ملکی بحریہ کے ساتھ ہندستانی بحریہ کی طویل ترین بلا تعطل دو طرفہ بحری مشق ہے۔ جاری عالمی وبا کی آزمائشوں کے باوجود اس اہم مصروفیت کے سلسلے کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعلقات کی مضبوطی کو مزید واضح کرتا ہے۔ منصوبہ بندی کے مراحل میں حائل ان رکاوٹوں کے باوجود دونوں بحری افواج کئی چیلنجنگ ارتقاء کے مراحل بغیر کسی رکاوٹ اور محفوظ طریقے سے پار کئے۔ ان میں براہ راست ہتھیاروں کی فائرنگ اور جدید بحری جنگی سلسلے شامل ہیں، ان میں ابدوز شکن، اینٹی ایئر اور اینٹی سرفیس جنگی مشقیں بھی کی گئیں۔ مشقوں کا پیمانہ اور پیچیدگی واضح طور پر گواہ ہیں کہ دونوں بحریاوں نے باہمی تعاون کی کتنی قابلیت دکھائی۔

 

اس سال کی سِمبیکس مشق کی نوعیت اس لحاظ سے بھی خصوصی ہے کہ یہ ہندستان کی آزادی کے 75 ویں سال کی جاری تقریبات کے دوران ہوئی ہے۔ سِمبیکس 2021 کی کامیابی دونوں ملکوں کے اس باہمی عزم کا ایک اور مظاہرہ ہے کہ آنے والے برسوں میں دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

 

عالمی وبا کے نتیجے میں سامنے آنے والی رکاوٹوں کی وجہ سے اس سال سِمبیکس کی منصوبہ بندی کسی جسمانی تعامل کے بغیر کی گئی تھی۔ بحیرہ جنوبی چین کے جنوبی کناروں میں آر ایس این نے  'صرف سمندر میں' مشق کی میزبانی کی۔

 

ہندستان اور سنگاپور کے دفاعی تعلقات مجموعی دوطرفہ تعلقات کا بدستور ایک بہت اہم پہلو ہے جو روایتی فوجی  تبادلے سے  ایچ اے ڈی آر اور سائبر سیکیورٹی تک تعاون کے ایک بہت وسیع میدان کا احاطہ کرتا ہے۔ دونوں بحریاوں کو ایک دوسرے کے میری ٹائم انفارمیشن فیوژن سینٹروں میں نمائندگی حاصل ہے اور حال ہی میں باہمی آبدوز بچاو امداد و ارتباط کے معاہدے پر بھی دستخط کئے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Pic(3)4GYG.jpeg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Pic(5)2R02.jpeg

<><><><><>

 

 

ش ح،ع س، ج

U.No. : 8689

 



(Release ID: 1752151) Visitor Counter : 135