امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

ڈبل انجن کی حکومت نے اترپردیش میں غریبوں ، مظلوموں ، پسماندہ اور قبائلی افراد کیلئے بنائی گئی اسکیموں پر تیزی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے


وزیر اعظم نے اترپردیش میں پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا سے فائدہ حاصل کرنے والے افراد کے ساتھ گفتگو کی

اترپردیش میں گزشتہ برس کے دوران ایم ایس پی سے فائدہ حاصل کرنے والے کسانوں  کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے

اترپردیش میں 13 لاکھ کسان کنبوں کے کھاتوں میں ان کی پیداوار کی قیمت کے طور پر 24000 کروڑ سے زیادہ روپے براہ راست جمع کرائے گئے ہیں

Posted On: 05 AUG 2021 4:26PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اترپردیش میں پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا سے فائدہ حاصل کرنے والے افراد کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ بات چیت کی۔اترپردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

عالمی وبا کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ماضی میں  ملک کو جب کبھی بھی  کسی بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا تو ملک کا پورا نظام بری طرح ہل گیا تھا۔البتہ بھارت میں ہر شہری اس عالمی وبا سے پوری قوت کے ساتھ لڑ رہا ہے۔وزیر اعظم نے صدی میں ایک مرتبہ میں ہونے والے اس بحران سے نمٹنے سے متعلق کوششوں کے بارے میں تفصیل سے ذکر کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈبل انجن کی حکومت نے اترپردیش میں غریبوں ، مظلوموں ، پسماندہ اور قبائلی افراد کیلئے بنائی گئی اسکیموں پر تیزی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے ۔وزیر اعظم نے عالمی وبا کے دوران حالات میں کمی کرنے کے غرض سے کئے گئے اقدامات کو بھی اجاگر کیا ۔ایک موثر حکمت عملی کی وجہ سے غذائی اشیا کی لاگت کنٹرول میں رکھی گئی ، کسانوں کیلئے بیج اور کھاد کی سپلائی کو برقرار رکھنے کیلئے مناسب اقدامات کئے گئے تھےجس کے نتیجے میں کسانوں نے ملک کو ریکارڈ پیداوار اگاکر دی اور حکومت نے بھی کم از کم امدادی قیمت ایم ایس پی کے تحت ریکارڈ سرکاری خرید اری کی ۔انہوں نے اترپردیش میں ریکارڈ ایم ایس پی حصولیابی کیلئے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی بھی ستائش کی ۔اترپردیش میں گزشتہ برس کے دوران ایم ایس پی سے فائدہ حاصل کرنے والے کسانوں کی تعداد دوگنا ہوگئی ہے۔اترپردیش میں 13 لاکھ کسان کنبوں کے کھاتوں میں ان کی پیداوار کی قیمت کے طور پر 24000 کروڑ سے زیادہ روپے براہ راست جمع کرائے گئے ہیں ۔اترپردیش میں 17 لاکھ کنبوں کو مکانا ت الاٹ کئے گئے ہیں ،لاکھوں غریب کنبوں کو بیت الخلا ء ، ایک نصف مفت گیس ،اور لاکھوں بجلی کے کنکشن کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے مطلع کیا کہ ریاست میں 27 لاکھ گھروں کو پائپ کے ذریعہ پینے کا پانی مل رہا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ سال 2020 میں ،8 مہینے کی مدت کیلئے یعنی اپریل 2020 سے نومبر2020 تک پی ایم ۔ جی کے اےوائی کے تحت اترپردیش ریاست کو مرکزی حکومت کے ذریعہ لگ بھگ 58.2 لاکھ میٹرک ٹن اناج مختص کیا گیا تھا۔یہ اناج این ایف ایس اے سے مستفید ہونے والے افراد کو فی شخص فی ماہ 5 کلو اناج بالکل مفت  فراہم کرنے کیلئے دیا گیا تھا ۔اسی طرح ریاست اترپردیش کیلئے پی ایم ۔ جی کے اے وائی کے تحت سال  2021 میں  سات مہینے کی مدت کیلئے یعنی مئی 2021 سے نومبر2021 تک  51.5 لاکھ میٹرک ٹن اناج  کا بندوبست کیا گیا ہے۔اترپردیش میں پی ایم ۔ جی کے اے وائی 2020 اسکیم کے تحت (اپریل تانومبر2020) ماہانہ بنیاد پراوسطاً لگ بھگ 96.6 اناج تقسیم کیا گیااور پی ایم۔ جی کے اے وائی 2021 کے تحت (یعنی مئی تا نومبر2021) ماہانہ بنیاد پراترپردیش میں مئی 2021 سے جولائی 2021 تک اناج کا تقریباً 96 فیصد تقسیم کیا گیا ہے۔

اترپردیش ریاست نے ایک خودکار سپلائی چین بندوبست اور این ایف ایس اے راشن کارڈکے لگ بھگ صد فیصد کارڈ س کو آدھار کے ساتھ منسلک کرکے ،عوامی نظام تقسیم پی ڈی ایس  کا ایک تکنیکی اعتبار سے مستحکم نظام قائم کیا ہے۔ ریاست نے کووڈ-19 عالمی وبا کے دوران بھی پی ڈی ایس  اناج کی تقسیم میں شفافیت کا اعلیٰ معیار برقرار رکھا ہے۔

‘ایک ملک ایک راشن کارڈ ’(او این او آر سی)منصوبہ ،جو آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت عزت مآب وزیر اعظم کا ٹیکنالوجی پر مبنی نظام میں اصلاحات کا ایک اہم حصہ بھی ہے ۔ریاست میں مئی 2020 سے نافذ ہے اور اس کے آغاز کے بعد سے ریاست میں  لگ بھگ 2.66 کروڑ لین دین (بین ریاستی لین دین سمیت)درج کئے گئے ہیں۔او این او آر سی پلان منصوبہ سردست 33 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ ہیں اور اس کی بدولت این ایف ایس اے سے مستفید ہونے والے افراد خاص طو پر مائیگرینٹ مستفدین کو ملک میں راشن کی کسی بھی دوکان (ایف پی ایس )  سے این ایف ایس اے استحقاق تک قابل رسائی بناکر  ایک بڑی تبدیلی لانے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔

عالمی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی اقتصادی دشواریوں کے سبب غریب اور ضرورت مند افراد کو درپیش مشکلات سدھار کی غرض سے مرکزی حکومت نے پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا (پی ایم۔ جی کے اے وائی) کے ذریعہ تقسیم کئے جانے والے ماہانہ اناج کی مقدار کو بڑھا کر تقریباً دوگنا کردیا ہے۔ یہ اناج خوراک کی یقینی فراہمی سے متعلق قومی قانون (این ایف ایس اے) کے تحت ملک میں لگ بھگ 80 کروڑ فیض حاصل کرنے والوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس طرح انہیں  اضافی طور پر فی شخص فی ماہ 5 کلو گرام اناج با لکل مفت فراہم کیا جاتا ہے۔شروعات میں پی ایم ۔ جی کے اے وائی کے تحت یہ اضافی مفت فائدہ تین مہینے کی مدت کیلئے (یعنی اپریل تا جون 2020 ) فراہم کا گیا تھا۔ البتہ بحران کے جاری رہنے کے ساتھ اس پروگرام میں مزید 5 ماہ (یعنی جولائی تا نومبر2020) تک کی توسیع کردی گئی تھی ۔عالمی وبا کی دوسری لہر شروع ہونے کے بعد ،پی ایم ۔ جی کے اے وائی اسکیم  مزید دو ماہ کی مدت کیلئے (یعنی مئی اور جون  2021) ایک بار پھر شروع کردی گئی ،اور پھر اس میں 5 مہینے کی مدت کیلئے (یعنی جولائی تا نومبر2021) تک کی مزید توسیع کی گئی ۔

 

*************

ش ح- ع م - م ش

U. No.7524



(Release ID: 1743086) Visitor Counter : 162


Read this release in: English , Hindi , Marathi , Bengali