صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ

مدراس قانون ساز کونسل نے حکمرانی کے ایک بھرپور نمائندہ جمہوری نظام کی تخم ریزی کی تھی جس نے آزادی کے بعد حقیقت کا روپ اختیار کرلیا: صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند

صدرجمہوریہ ہند نے چنئی میں مدراس قانون ساز کونسل کے100 ویں سال کی یادگاری تقریب کو عزت بخشی

Posted On: 02 AUG 2021 7:21PM by PIB Delhi

صدرجمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند نے کہا ہے کہ مدراس قانون ساز کونسل نے کبھی حکمرانی کے ایک بھرپور نمائندہ جمہوری نظام کاتصور پیش کیاتھا۔ جس نے آزادی کے بعد حقیقت کا روپ دھار لیا۔وہ آج(2 اگست 2021) چنئی میں مدراس قانون ساز کونسل کے 100 ویں سال کی یاد گاری تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ صدرجمہوریہ نے اس موقع پر تملناڈو قانون ساز اسمبلی کے احاطے میں تملناڈو کے سابق وزیراعلی ڈاکٹر کلائگنار ایم کروناندھی کی تصویر کی نقاب کشائی بھی کی۔

صدرمحترم نے کہا کہ مدراس قانون ساز کونسل نے بہت سے ترقی پسندانہ قوانین وضع کئے اور اس نے اپنے ابتدائی دہائیوں کے دوران بہت سی تبدیلیاں بھی دیکھی۔جمہوریت کاجذبہ ریاستی قانون سازیہ کے لئے ہمیشہ مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ کہنا کسی اعتبار سے غلط نہ ہوگا کہ یہ قانون سازی بہت سے ترقی پسندانہ قوانین کے لئے سرچشمہ ثابت ہوئی۔ان قوانین کو بعد میں ملک بھر میں سماج کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے نمونہ عمل بنایا گیا۔اس قانون ساز ادارے کو بجا طور پر  اس بات کا گریڈٹ دیا جاسکتا ہے کہ اس نے غریب لوگوں کی بہترین اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے لئے طرز حکومت پر توجہ مرکو ز کرتے ہوئے جمہوریت کی آبیاری کی۔اس کے نتیجے میں علاقے میں سیاست اور حکمرانی کا ایک مثبت طریقہ سامنے آیا، جس میں محروم طبقات کی بہبود کو پیش نظر رکھا گیا۔ دیوداسی نظام کا خاتمہ، بیواؤں کی شادی ، اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کی فراہمی اور بے زمین کسانوں کو زراعتی زمین کی تقسیم وغیرہ ان ترقیاتی نظریات میں سے ہیں۔ جنہوں نے سماج میں انقلاب برپا کردیا۔اس قانون ساز ادارے میں فلاحی ریاست کے تصور کو، قطع نظر اس کےکہ حکومت کس کی ہے، بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1B4UG.JPG

تملناڈو کے سابق وزیراعلی ڈاکٹر کلائگنارایم کروناندھی کو یاد کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ کروناندھی نے اپنے سیاسی کیئریر کاآغاز اپنی نوجوانی سے کیا تھا،جبکہ ہندوستان آزادی کے لئے جدوجہد میں مصروف تھا اور وہ حال ہی میں ہم سے جدا ہوئے ہیں۔ نوعمری میں ہی نظریات سے متاثر ہو کرجس وقت انہوں نے پسماندہ لوگوں کے لئے کام کرنا شروع کیا، ہندوستان اس وقت برسوں سے غیرملکی حکمرانی کے شکنجے میں تھا اور یہاں غربت اور جہالت چھائی ہوئی تھی۔جس وقت انہوں نے آخری سانس لی تو انہیں یقیناً یہ اطمینان رہا ہوگا کہ ان کے وطن کے لوگوں نے تمام محاذوں پر نمایاں طور پر ترقی کرلی ہے وہ اس بنا پر بھی مطمئن رہے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی زندگی کاہر پل اپنی ریاست اور اپنے ملک کے عوام کی خدمت میں گزارا۔

تمل لٹریچر اور سنیما کے لئے کرونا ندھی کی خدمات کاحوالہ دیتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ بہت کم سیاسی رہنما زبان کے حوالے سے اتنے جذباتی ہوتے ہیں۔ کروناندھی کے لئے ان کی مادری زبان عبادت کا ایک وسیلہ تھی۔ صدرنے کہا کہ تمل زبان بے شک بنی النوع انسان کی عظیم ترین اور قدیم ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔تمام دنیا کو اس کے گراں مایہ ورثے پر فخر ہے،لیکن یہ کروناندھی کی ذات ہی تھی کہ جس کی وجہ سے اس زبان کو ایک کلاسیکی کی زبان کی حیثیت سے تسلیم کیاگیا۔کروناندھی اپنی قسم کے ایک ہی لیڈر تھے۔وہ ہمارے قومی تحریک کے رہنماؤں کے سلسلے کی ایک آخری کڑی تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2BE11.JPG

صدرجمہوریہ نے کہا کہ اس وقت جبکہ ملک آزادی کی 75 ویں سالگرہ منارہا ہے، وہ قومی تحریک کے عظیم سرماؤں کو یاد کرنا چاہیں گے۔ ہماری قومی تحریک 1857 بلکہ اس سے پہلے سے شروع ہو کر 1947 پر ختم ہوتی ہے، ان عشروں کے دوران ہمارے یہاں بہت زیادہ پرجوش اور انقلاب پسند شخصیتیں تھیں۔یہاں امن حامی اور آئین پسند لوگ بھی تھے۔ ان کااندازہ فکر اور طریقہ کار بھی مختلف تھا، لیکن وطن عزیز کے احترام میں وہ سب متحد تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے بھارت ماتا کی خدمت کرنے کے لئے اپنے اپنے طریقے سے کام کیا۔جس طرح کسی دریا میں بہت سے معاونین دھارے آکر مل جاتے ہیں، اسی طرح یہ لوگ بھی ملک کی آزادی کے سلسلے میں متحد ہو کر کام کرتے تھے۔

صدرمملکت نے کہا کہ ان لوگوں نے تمام نظریات کا سنگم گاندھی  جی کی شکل میں پا لیا تھا،گاندھی جی نے نہ صرف ہماری بہترین روایات  اور ثقافت کو عملی طور پر پیش کیا۔بلکہ بہت سے مغربی مفکرین کے نظریات میں بھی بہتری پیدا کی۔ان کا ساتھ دینے والوں میں وطن پرستوں  کا ایک ہجوم تھا جن میں وکلاء، دانشور، سماجی مصلحین، مذہبی اور روحانی رہنما نیز دیگر لوگ شامل تھے۔ ان میں سے ہر ایک  اپنا جواب آپ تھا۔ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔کتنی بے مثال با بصیرت شخصیت تھے وہ۔لیکن ان لوگوں کے علاوہ جن کا نام تعریف کی کتابوں میں درج ہوچکا ہے، ایسے بھی بے شمار لوگ تھے جن کا ذکر تاریخ میں درج نہیں ہوپایا۔ ان لوگوں نے اپنے عیش و آرام، اپنے کلیئر اور وقت پڑنے پر اپنی زندگیاں تک قربان کردی صرف اس لئے  کہ ہم ایک آزاد ملک کے شہری بن کر رہ سکیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/33VUI.JPG

صدرجمہوریہ نے کہا کہ ان چند عشروں میں جو عظیم نسلیں وجود میں آئیں، روح زمین پر ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ ملک ہمیشہ ان کا قرض دار رہے گا۔ہم انہیں خراج عقیدت صرف اس طرح پیش کرسکتے ہیں کہ ہم ان کی زندگیوں اور ان کے نظریات سے ہمیشہ ترغیب حاصل کرتے رہیں۔انہوں نے ہمیں آزادی کا تحفہ تو دیا ہی تھا، اس کے ساتھ ہمیں ذمہ داریاں بھی دی تھیں۔ان کاتصور آج حقیقت کی شکل اختیار کرچکا ہے،لیکن یہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے۔عین اسی طرح جس طرح ان لوگوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا، ہم سے ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

صدرمملکت نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ حال کو سمجھنے اور مستقبل میں ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لئے اپنے ماضی کے ساتھ مستقل طور پر جڑے رہیں۔انہوں نے  یہ بھی کہا کہ انہیں مہاتما گاندھی، سبرا منیم بھارتی اورجدوجہد آزادی کے دیگر رہنماؤں کی زندگیوں میں انہیں  ان سوالوں کے جوابات مل جائیں گے جو نوجوانوں کے ذہنوں میں اکثر و بیشتر ابھرتے رہتے ہیں۔جناب صدر نے کہا کہ انہوں نے یہ پایا ہے کہ نئی نسل ہماری موجودہ تاریخ میں زیادہ سے زیادہ  دلچسپی لے رہی ہیں۔ان لوگوں  کی  اس  دلچسپی سے انہیں یہ امید ہے کہ جو کام ہمارے معروف اور غیرمعروف مجاہدین آزادی نے شروع کیاتھا وہ جاری رہے گا۔ نیز یہ کہ ہندوستان اپنی بصیرت کے ساتھ اس صدی میں دنیا کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے گا۔

 

******

 

 

( ش ح ۔س  ب۔رض)

U- 7390



(Release ID: 1741783) Visitor Counter : 48


Read this release in: English , Hindi , Marathi , Punjabi