جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

حکومت گرِ ڈ سے جڑے روف ٹاپ سولر سسٹم کی حوصلہ افزائی کررہی ہے

تین کلو واٹ صلاحیت کے روف ٹاپ سولر پلانٹوں کے لئے فراہم کردہ بینچ مارک لاگت پر 40فیصد کی رعایت

تین کلو واٹ سے زیادہ کی صلاحیت کے اور 10کلو واٹ تک کی صلاحیت کے روف ٹاپ سولر پلانٹوں پر 20 فیصد رعایت فراہم کی گئی

منصوبوں کی منظوری میں تیزی لانے، رپورٹ پیش کرنے اور آرٹی ایس پروجیکٹوں پر عمل درآمد کی پیش رفت کی نگرانی کےلئے آن لائن پلیٹ فارم اِسپن(ایس پی آئی این)تیار کیا گیا

Posted On: 28 JUL 2021 1:50PM by PIB Delhi

دیہی علاقوں سمیت ملک میں روف ٹاپ سولر (آر ٹی ایس)کو بڑھاوا دینے کےلئے نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت روف ٹاپ سولر پروگرام فیز IIکو لاگو کررہی ہے۔اس میں 2020ء تک کل 4000میگاواٹ کی آر ٹی ایس صلاحیت کو سبسڈی کے التزامات کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں میں قائم کرنے کا ہد ف رکھا گیا ہے۔الگ الگ خاندانوں کے لئے تین کلو واٹ تک کی صلاحیت کے آر ٹی ایس پلانٹوں کے لئے بینچ مارک لاگت کا 40 فیصد تک اور تین کلو واٹ سے زیادہ اور 10 کلو واٹ تک کی صلاحیت والے آر ٹی ایس پلانٹوں کےلئے 20 فیصد تک سبسڈی مہیا کی جاتی ہے۔گروپ ہاؤسنگ سوسائٹی ؍رہائشی فلاحی اداروں (جی ایچ ایس؍آر ڈبلیو اے)کے لئے عام سہولتوں کو بجلی کی سپلائی کے لئے استعمال کئے جانے والے 500کلو واٹ تک کی صلاحیت والے آر ٹی ایس پلانٹوں کے لئے بینچ مارک لاگت پر 20 فیصد تک سبسڈی محدود ہے۔

ملک میں گرِڈ سے جڑے روف ٹاپ سولر سسٹم کے جامع تشہیر کے لئے حکومت کی طرف سے درج ذیل اہم قدم اٹھائے گئے ہیں:

  • رہائشی علاقوں کے لئے مرکزی مالی امداد (سی ایف اے)کے تحت روف ٹاپ سولر پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز اور پچھلے سال کی قائم شدہ صلاحیت سے زیادہ اضافی صلاحیت کی دستیابی کےلئے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (ڈسکام)کےلئے سلیب میں رعایت و حوصلہ افزائی۔
  • اس سے پہلے پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت رہائشی ؍ادارہ جاتی ؍سماجی شعبوں کے لئے سی ایف اے امداد اور سرکاری شعبوں کے لئے حصولیابی سے جڑے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔
  • آن لائن پورٹل کا فروغ ؍اشتراک اور روف ٹاپ سولر پروجیکٹوں سے متعلق مطالبات کو اکٹھا کرنے میں ریاستوں کو مدد۔
  • سرکاری شعبے میں آرٹی ایس  پروجیکٹوں پر تیزی سے عمل آوری کے لئے ماڈل ایم او یو، پی پی اے اور کیپیکس معاہدے کی تیاری۔ پروگرام کے سابقہ مرحلہ Iکے تحت مختلف وزارتوں ؍محکموں میں آر ٹی ایس پروجیکٹوں پر عمل آوری کے لئے امداد مہیا کرنے اور امداد فراہم کرنے کے لئے وزارت وار ماہر پی ایس یو کی شناخت کی گئی تھی۔
  • ریاستوں کو آرٹی ایس منصوبوں کے لئے نیٹ ؍مکمل مانیٹرنگ ضابطوں کو نوٹیفائی کرنے کی صلاح دینا۔موجودہ وقت میں تمام 36ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس ای آر سی نے ایسے ضابطوں ؍ٹیرف احکامات کو نوٹیفائی کیا ہے۔
  • ایس پی آئی این-منصوبوں کی منظوری میں تیزی لانے، رپورٹ پیش کرنے اور آر ٹی ایس منصوبوں پر عمل درآمد کی پیش رفت کی نگرانی کے لئے وضع کردہ ایک  آن لائن پلیٹ فارم ۔
  • عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)سے بالترتیب ایس بی آئی اور پی این بی کے توسط سے  رعایتی قرض کی سہولت ، صنعتی اور کاروباری شعبوں کو قرض کی تقسیم کے لئے جہاں وزارت کے ذریعے سی ایف اے؍حوصلہ افزائی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔
  • اولیت والے شعبوں کو قرض دینے کے تحت شامل قابل تجدید توانائی سال 2022ء تک قابل تجدید توانائی خرید ذمہ داری(آر پی او)کے پس منظر میں اعلان ، سولر فوٹو وولٹک سسٹم ؍آلات کی تعیناتی کے لئے معیارات کو نوٹیفائی کیاگیا۔
  • روف ٹاپ سولر کےلئے اختراعاتی کاروباری ماڈل ریاستوں کے ساتھ ساجھا کئے گئے۔
  • پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے توسط سے معلومات اور عوامی بیداری کی سرگرمیاں۔

یہ معلومات کل راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بجلی اور نئی و قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر جناب آر کے سنگھ نے دی۔

 

************

ش ح۔ج ق۔ن ع

 (U: 7143)



(Release ID: 1740157) Visitor Counter : 71