الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

آئی ٹی وزیرجناب اشونی ویشنوکا ‘‘کچھ لوگوں کے فون ڈاٹاسے مبینہ طورپر جاسوسی نظام پیگاسس کے استعمال سے جڑی میڈیامیں 18جولائی کو سامنے آنے والی خبروں ’’کے حوالے سے پارلیمنٹ میں دیاگیابیان

Posted On: 19 JUL 2021 4:42PM by PIB Delhi

نئی دہلی،19؍جولائی:الیکٹرانکس اوراطلاعاتی ٹکنالوجی کے وزیرجناب اشونی ویشنونے کچھ لوگوں کے فون ڈاٹاسے مبینہ طورپر جاسوسی نظام پیگاسس کے استعمال سے جڑی میڈیامیں 18جولائی کو سامنے آنے والی خبروں کے حوالے سے آج پارلیمنٹ میں حسب ذیل بیان دیا:

‘‘محترم اسپیکر صاحب ،

میں کچھ لوگوں کے فون ڈاٹا سے جاسوسی نظام پیگاسس کے استعمال کے ذریعہ چھیڑچھاڑ کئے جانے کی خبروں کے حوالے سے بیان دینے جارہاہوں ۔

کل رات ایک ویب پورٹل کے ذریعہ زبردست طورپرحساس نوعیت کی ایک خبرشائع کی گئی ۔

اس رپورٹ میں بہت سے بیحدنامناسب الزامات لگائے گئے ہیں ۔

محترم اسپیکر صاحب ، پریس میں یہ اطلاعات پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے ٹھیک ایک دن قبل سامنے آئی ہیں ۔اسے محض ایک اتفاق کہہ کرنظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔

ماضی میں بھی ، پیگاسس کے استعمال کئے جانے کے حوالے سے واٹس ایپ پر اسی طرح کے دعوے کئے جاچکے ہیں ۔ ان اطلاعات کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں تھی اور تمام فریقوں نے سپریم کورٹ کے سامنے بھی ان خبروں کی واضح طورپر تردید کی تھی ۔ 18جولائی ، 2021کو شائع ہونے والی پریس کی اطلاعات بھی ہندوستانی جمہوریت اور اس کے بہترین اداروں کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش  ہی دکھائی  دیتی ہیں ۔

جن لوگوں نے اس خبرکو پوری تفصیلات کے ساتھ نہیں پڑھا ہے ، ہم انھیں غلطی پرنہیں قراردے سکتےاورمیں ایوان کے  تمام قابل احترام ارکان سے درخواست کروں گا کہ وہ تمام معاملات کو حقائق اورمنطق کی روشنی میں جانچ لیں ۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر اس بات کو بنایاگیاہے کہ کچھ جماعتوں کے ایک اتحاد نے 50000فون نمبرس کے لیک ہوجانے والے ڈاٹابیس تک رسائی حاصل کرنی ہے ۔ الزام یہ عائد کیاگیاہے کہ جن افراد کے یہ فون نمبرس ہیں ان کے خلاف جاسوسی کی جارہی تھی ۔ تاہم ، رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ :

ڈاٹابیس میں کسی فون نمبرکی موجودگی سے اس بات کااظہارنہیں ہوتاہے کہ فون پیگاسس سے متاثرتھا یااس کو ہیک کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تھی ۔

کسی بھی تکنیکی تجزیئے کا استعمال کئے بغیر، حتمی اوریقینی طورپر یہ بتانا ناممکن ہے کہ اس فون نمبر پر کوئی کامیاب سائبرحملہ کیاگیا یا اس کے ساتھ کامیابی کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی ۔

اس بناپریہ رپورٹ اپنے آپ اس بات کی وضاحت کردیتی ہے کہ ڈاٹابیس میں اسی نمبر کی موجودگی سے کسی قسم کی جاسوسی کئے جانے کا پتہ نہیں ملتا۔

محترم اسپیکرصاحب ، ہمیں اس ٹکنالوجی کی ایجاد کرنے والی کمپنی این ایس او کی طرف سے دیئے جانے والے بیان کو جانچناہوگا۔اس نے کہاہے :

این ایس او گروپ کا ماننا ہے کہ یہ دعوے جو آپ لوگوں تک پہنچائے گئے ہیں ،ڈاٹابیس میں دستیاب معلومات جیسے ایچ ایل آر، لک اپ سروسیز جن کا پیگاسس سے متعلق صارفین کی فہرست یا این ایس او کے کسی دوسرے پیشکش  سے کوئی لینادینا نہیں ہے ، کی غلط اورگمراہ کن تشریحات کا نتیجہ ہیں ۔

ایسی خدمات کسی بھی شخص کو ، کسی بھی جگہ اورکسی بھی وقت دستیاب ہیں اور دنیا بھرمیں سرکاری اداروں کے علاوہ نجی کمپنیوں کے ذریعہ بھی ان کا استعمال کیاجاتاہے ۔ اس میں کوئی رائے نہیں ہوسکتیں کہ ڈاٹابیس کا نگرانی یا این ایس او سے کوئی لینادینا نہیں ہے ۔ اس بنا پر اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہوسکتی کہ ڈاٹابیس کے استعمال کو کسی طریقے سے بھی جاسوسی کے مترادف قراردیاجاسکتاہے ۔

این ایس اونے یہ بھی کہاہے کہ پیگاسس کے استعمال کرنے والے ممالک کی جوفہرست دکھائی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہے اوربہت سے ممالک جن کا اس میں ذکرکیاگیاہے ہمارے موکل ہی نہیں ہیں ۔ این ایس او نے یہ بھی بتایاہے کہ اس کے زیادہ ترموکل مغربی ممالک ہیں ۔

یہ بالکل واضح ہے کہ این ایس او بھی صاف طورپر رپورٹ میں شائع دعووں کی تردید کردی ہے ۔

محترم اسپیکرصاحب ، ہمیں  نگرانی کا معاملہ سامنے آنے پرہندوستان کے مقررہ پروٹوکول پرایک نگاہ ڈالنی چاہیئے ۔ مجھے یقین ہے کہ حسب اختلاف سے تعلق رکھنے والے میرے وہ ساتھی جو برسوں تک اقتدارمیں رہ چکے ہیں ، اس پروٹوکول سے اچھی طرح واقف ہوں گے ۔ چونکہ یہ لوگ اس ملک پرحکومت کرچکے ہیں ، اس لئے انھیں اس کا بھی علم ہوگا کہ ہمارے قوانین اورعظیم اداروں میں جانچ پڑتال کی موجودگی میں کسی قسم کی غیرقانونی نگرانی یا جاسوسی کا امکان ہی نہیں ہے ۔

بھارت میں  ایک بہت مضبوط نظام موجود ہے ، جس پرعمل کرتے ہوئے مرکز اورریاستوں کی ایجنسیوں کے ذریعہ الیکٹرانک کمیونیکیشن کاقانونی طورپرسراغ لگایاجاتاہے ۔اس کا مقصد کسی بھی عوامی ایمرجنسی کے سامنے آنے کی صورت میں یا عوامی تحفظ کے مفاد   میں  قومی سیکیورٹی کا تحفظ ہوتاہے ۔ ایسے الیکٹرانک پیغامات کادرمیان راہ سراغ لگانے کے لئے انڈین ٹیلی گراف قانون  1885کے دفعہ 5(2)کے التزامات اور اطلاعاتی ٹکنالوجی قانون ، 2000کی دفعہ 69کے تحت  درخواستیں دی جاتی ہیں ۔

اس انٹرسیپشن یا نگرانی کے لئے مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل کی جاتی ہے۔ یہ اختیارات مجاز افسران کو ،ریاستی حکومتوں میں آئی ٹی (پروسیجراینڈ سیف گارڈس  فارانٹرسیپشن ، مانیٹرنگ اینڈ ڈی کرپشن آف انفارمیشن ) قوانین 2009، کے تحت حاصل رہتے ہیں ۔

ملک میں مرکزی کابینہ سکریٹری کے زیرقیادت ایک جائزہ کمیٹی کی شکل میں ایک مضبوط نگرانی کانظام موجود ہے ۔جہاں تک  ریاستی حکومتوں کاتعلق ہے  ، متعلقہ چیف سکریٹری کی سربراہی والی ایک کمیٹی کے ذریعہ ایسے معاملات کا جائزہ لیاجاتاہے ۔ایسے کسی بھی واقعہ سے جو لوگ بری طرح متاثرہوتے ہیں ، قانون ان کو انصاف دلانے کا پورا اہتمام کرتاہے ۔

اس لئے اس طریقہ کارسے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ کسی بھی معلومات پر درمیان راہ گرفت  یا نگرانی ،قانون کے ایک مناسب طریقہ عمل کے ساتھ ہی انجام دی جاتی ہے ۔ قانون کا یہ فریم ورک اور ہمارے ادارے وقت کی کسوٹی پرکھرے اترے ہیں ۔

محترم اسپیکرصاحب ، اپنے بیان کے اختتام میں ، میں انکساری کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ :

  • رپورٹ کے شائع کرنے والے کا بیان ہے کہ اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایاگیا کہ شائع کردہ لسٹ میں موجودہ نمبروں کی نگرانی کی  گئی ہے ۔
  • وہ کمپنی جس کی ٹکنالوجی کا مبینہ طورپراستعمال کیاگیا ،اس نے خود قطعی طورپر ان دعووں کی تردید کردی ہے ۔
  • اوروقت کی کسوٹی پرکھرے اترنے والے ہمارے  ملک کے طریقہ کاراس بات کی مضبوط ضمانت دیتے ہیں  کہ ہمارے یہاں ناجائز طورپرنگرانی یاجاسوسی نہیں کی جاسکتی ۔

محترمہ اسپیکرصاحب ، جب ہم اس معاملے کے منطقی پہلوؤں پر غورکرتے ہیں تویہ حقیقت کھل کرسامنے آتی ہے کہ ان سنسنی خیزخبروں کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے ۔

شکریہ ، محترم اسپیکرصاحب ۔’’


****************

 

ش ح ۔س ب۔ع آ

U NO. 6731



(Release ID: 1737111) Visitor Counter : 59