نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

نائب صدر نے ماحولیات کے تحفظ کی مہم میں تمام لوگوں سے جانباز بننے کی اپیل کی


آلودگی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی ضرورت

’آلودگی کی ادائیگی‘ کے اصول کو سختی سے نافذ کرنے پر غور کرنے کی ضرورت: نائب صدر

جناب نائیڈو نے موسم کی شدت میں اضافہ کے سبب ماحولیاتی بحران پر تشویش کا اظہار کیا

’ماحولیات اور صحت ایک دوسرے سے مربوط ہیں‘: نائب صدر نے ہمہ گیر تندرستی کے لیے قدرت کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا مشورہ دیا

جناب نائیڈو نے بچوں میں مایوپیا کے بڑھتے معاملوں پر فکرمندی کا اظہار کیا

نائب صدر نے اسکولوں میں ایک گھنٹہ کے لازمی آؤٹ ڈور کھیلنے کے وقت کی حمایت کی، نصاب میں باغبانی جیسے قدرت سے متعلق سرگرمیوں کو شامل کرنے کی اپیل کی

چوتھے صنعتی انقلاب کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت؛ صنعتوں کو مہارت کی جدیدکاری میں ضرور پہل کرنی چاہیے

جناب نائیڈو نے حیدر آباد واقع سورن بھارت ٹرسٹ میں زیر تربیت افراد کے ساتھ باہم گفت و شنید کی

Posted On: 16 JUL 2021 2:09PM by PIB Delhi

نائب صدر جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ دنیا جس ماحولیاتی بحران سے گزر رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے ماحولیات کی حفاظت کی مہم میں تمام لوگوں کو ضرور ایک جانباز بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’پنچایت سے لیکر پارلیمنٹ تک تمام وابستگان کو ماحولیات کی حفاظت کے لیے ضرور سرگرمی سے کام کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے آلودگی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی ضرورت اور ’آلودگی کی ادائیگی‘ کے اصول کو سختی سے نافذ کرنے پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ہماچل پردیش میں اچانک آئے سیلاب، اتراکھنڈ میں زمین کھسکنے اور کناڈا اور امریکہ میں لو (گرم ہوا) جیسی حالیہ آفات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی کے سبب موسم کی شدت میں بار بار ہونے والے اضافہ کی مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا، ’یہ واضح اشارہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقی ہے اور ان سے بچا نہیں جا سکتا۔‘

جناب نائیڈو نے اتر پردیش، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں حالیہ دنوں بجلی گرنے سے ہوئی اموات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بجلی گرنے کے واقعات میں ہوا اضافہ (پچھلے سال کے مقابلے بھارت میں 21-2020 کے دوران 34 فیصد زیادہ) کو بھی سائنس دانوں کے ذریعے ماحولیاتی بحران سے جوڑا جا رہا ہے۔

حیدر آباد کے سورن بھارت کے زیر تربیت افراد کے ساتھ باہمی گفت و شنید کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ان تشویش ناک رجحانوں کو دیکھتے ہوئے ہمارے لیے قدرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا اور سبھی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ماحولیات کی حفاظت کرنا لازمی ہے۔ نائب صدر نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہماری ترقیات سے متعلق ضروریات کو متوازن کرنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ ہمیشہ پرانے رویے پر ہی نہیں چلا جا سکتا۔

ہندوستانی تہذیب میں قدرت کو دی گئی اہمیت کو یاد کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ہمیں اپنے قدرتی ماحول کے ’ٹرسٹی‘ کے طور پر کام کرنا چاہیے جیسا کہ گاندھی جی نے مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے پیرس ماحولیاتی معاہدہ کے تئیں بھارت کے عزم، بین الاقوامی شمسی اتحاد بنانے میں قیادت کا ذکر کیا اور ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے کی سمت میں مزید ٹھوس عالمی کوششوں کی اپیل کی۔

نائب صدر نے یہ بھی نشان زد کیا کہ کس طرح ماحولیات اور صحت گہرائی سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ انہوں نے کہا، ’مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ قدرت کے ساتھ وقت گزارنے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، تناؤ کم ہوتا ہے اور جذباتی تندرستی میں اضافہ ہوتا ہے۔ قدرت کے قریب ہونے سے ہماری زندگی میں تبدیلی آتی ہے۔‘ انہوں نے کم عمر سے ہی قدرت کے ساتھ ہم آہنگی کی ضرورت پر بیداری پیدا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ یہ بھی پایا گیا کہ جن بچوں نے باہری تربیت حاصل کی، وہ زیادہ مطمئن اور جذباتی طور پر زیادہ متوازن تھے۔ ہر اسکول کو باغبانی اور ٹریکنگ جیسی آؤٹ ڈور سرگرمیوں کو نصاب کا اٹوٹ حصہ بنانا چاہیے۔

ٹرسٹ میں نوجوان زیر تربیت افراد سے بات چیت کرتے ہوئے، جناب نائیڈور نے بچوں میں مایوپیا کے بڑھتے معاملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایل وی پرساد آئی انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کیا اور آگاہ کیا کہ اگر جلد ہی کوئی مایوپیا مزاحم طریقہ تلاش نہیں کیا گیا تو، ماہرین کے مطابق ملک کے شہری علاقوں میں رہنے والے 64 ملین بچوں کو 2050 تک مایوپیا ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کی رائے کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ ڈجیٹل ایکو سسٹم اور درون خانہ مرکوز طرز زندگی بچوں میں مایوپیا کے بڑھتے معاملوں کے ممکنہ اسباب ہیں، نائب صدر نے سبھی اسکولوں میں ایک گھنٹہ کے آؤٹ ڈور کھیلنے کے وقت کو لازمی بنانے کی ماہرین کی صلاح کو لاگو کرنے کی اپیل کی۔

جناب نائیڈو نے زیر تربیت افراد سے خطاب کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ چوتھے صنعتی انقلاب کے سلسلے میں نئے روزگار بازار میں آنے کی وجہ سے ہنرمندی کے فروغ اور ہنرمندی کی تجدیدکاری ضروری ہے۔انہوں نے نوٹ کیا کہ نئی تعلیمی پالیسی اقتصادیات کے ان ابھرتے مطالبات کے موافق ہے اور صنعتی دنیا سے نوجوانوں کو تربیت یافتہ بنانے اور انہیں ماہر بنانے کے لیے حکومت سے ہاتھ ملانے کی اپیل کی۔ جناب نائیڈو نے کہا، ’ہنر مند افرادی قوت آنے والے برسوں میں بھارت کی فوری ترقی کے لیے اہم ہے۔‘

ایل وی پرساد آئی انسٹی ٹیوٹ کے بانی جناب جی این راؤ، ایل وی پرساد آئی انسٹی ٹیوٹ کے آنکھوں کے سینئر ماہر ڈاکٹر پرشانت گرگ، سورن بھارت ٹرسٹ کے صدر جناب چیگوروپتی کرشن پرساد، ملا ریڈی تعلیمی اداروں کے خزانچی جناب بھدر ریڈی، سورن بھارت ٹرسٹ میں تربیت حاصل کر رہے طلبہ اور دیگر افراد بھی پروگرام کے دوران موجود تھے۔

*****

ش  ح –  ق ت –  ت  ع

U:6632

 

 



(Release ID: 1736221) Visitor Counter : 32