وزارت دفاع

رکشا منتری نے آرٹیفیشل انٹلی جنس کے ذریعے چلنے والے شکایت نظم کے ایپلی کیشن کا مبارک آغاز کیا

جناب راجناتھ سنگھ نے لوگوں کو طاقتور بنانے والی شہریوں پر مرکوز اصلاحات کی ستائش کی

رکشا منتری نے قوم کی مجموعی ترقی کے لئے آرٹیفیشل انٹلی جنس کے استعمال پرزور دیا

Posted On: 15 JUL 2021 4:59PM by PIB Delhi

رکشا منتری جناب راجناتھ سنگھ نے 15جولائی 2021ء کو نئی دہلی میں ایک آرٹیفیشل انٹلی جنس (اے آئی)سے چلنے والے شکایت نظم ایپلی کیشن کامبارک آغاز کیا، جس کو وزارت دفاع نے آئی آئی ٹی-کانپور کی مدد سے تیار کیا ہے۔اس موقع پر عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت(آزادانہ چارج)ڈاکٹر جتندر سنگھ بھی موجود تھے۔

یہ شکایت کے ازالے میں بہتری لانے کے لئے تیار کی گئی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم ہے۔اس پہل کے تحت تیار شدہ اے آئی ٹول میں شکایت میں تحریر شدہ باتوں کی بنیاد پر شکایت کو سمجھنے کی صلاحیت ہے۔نتیجے کے طورپر یہ دوہرائی جانے والی شکایتوں یا اسپام کی پہچان از خود کر سکتا ہے۔شکایت کے مفہوم کی بنیاد پر یہ مختلف نوعیت کی شکایتوں کی زمرہ بندہ کرسکتا ہے، بھلے ہی ایسی تلاش کے لئے عام طور سے استعمال کئے جانے والے کی  ورڈ شکایت میں موجود نہ ہوں۔ یہ ایک زمرے میں شکایتوں کا جغرافیائی تجزیہ کرنے کی سہولت مہیا کرتا ہے،  جس میں یہ تجزیہ بھی شامل ہے کہ شکایت کا متعلقہ دفتر کے ذریعے ٹھیک طرح سے نمٹارا کیا گیا یا نہیں۔آسان استعمال –بہترتلاش کرنے کی سہولت  استعمال کرنے والے کو انتظامی ضرورتوں کی بنیاد پر اپنے سوالوں –نوعیت کو تیار کرنے اور پوچھے گئے سوال کی بنیاد پر کارکردگی کا نتیجہ حاصل کرنے میں اہل بناتی ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایت کے محکمے(ڈی اے آر پی جی)کے سی پی جی آر اے ایم ایس پورٹل پر لاکھوں شکایتیں موصول ہوتی ہیں۔ اس ایپلی کیشن کا شکایتوں کی نوعیت کو سمجھنے میں اور جہاں سے یہ شکایتیں آرہی ہیں، اُن جگہوں کو جاننے میں بہت فائدہ ہوگا۔ ساتھ ہی اُن پالیسی ساز تبدیلیوں کو بھی عمل میں لانے میں مدد ملے گی، جو اِن شکایتوں کو دور کرنے کے تعلق سے انتظامی اصلاحات کرنے کے لئے لائے جاسکتے ہیں۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے رکشا منتری نے ایپلی کیشن کو بہتر حکمرانی کا نتیجہ قرار دیا۔جو  حکومت اور ماہرین تعلیم کے درمیان بڑھتے تال میل کو ظاہر کرتا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ یہ پہل حکومت کی ایک اور عوام پر مبنی اصلاح ہے، جس کا مقصد بڑے پیمانے پر لوگوں کو با اختیار بنایا ہے۔

جناب راجناتھ سنگھ نے عوامی شکایت ازالے کے نظام کی اصلاح میں اہم رول ادا کرنے کے لئے انتظامی اصلاح اور عوامی شکایات  کے محکمے (ڈی اے آر پی جی)کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی شکایتوں کا ازالہ کرنا اپنے آپ میں ایک عظیم خدمت ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی آئی ٹی-کانپور جیسے باوقار اداروں کی سرگرم حصے داری اس نظام کو اور مضبوطی عطا کرے گی اور لوگوں کی شکایتوں کا شفاف اور مؤثر طریقے سے ازالہ کرے گی۔

رکشا منتری کو بتایا گیا کہ یہ آرٹیفیشل انٹلی جنس پر مبنی ایپلی کیشن لوگوں کی شکایتوں کو از خود دیکھ کر اُن کا تجزیہ کرے گااور انسانی مداخلت کو کم کرے گا، وقت بچائے گا اور شکایتوں کے نمٹارے میں زیادہ شفافیت لائے گا۔

4اگست 2020ء کو محکمہ دفاع ، وزارت دفاع اور انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے محکمے آئی آئی ٹی-کانپور کے مابین اس منصوبے کے لئے ایک سہ رُخی مفاہمتی عرضداشت پر دستخط کئے گئے تھے۔

اس ایپلی کیشن کا آغاز حکمرانی اور انتظامیہ میں اے آئی پر مبنی اختراعات کی شروعات کی علامت ہے۔ یہ منصوبہ شکایت کے ازالے میں اے آئی ، ڈاٹا سائنس اور مشین لرننگ تکنیکوں کا استعمال کرنے کے لئے حکومت کی اپنی طرح کی اولین پہل ہے۔ وزارت دفاع میں اس منصوبے کی کامیابی دیگر وزارتوں میں اس کی توسیع کا راستہ ہموار کرے گی۔ وزارت دفاع اور آئی آئی ٹی –کانپور آنے والے برسوں میں اپنے تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ شہریوں کی شکایتوں کے نمٹارے کے لئے آرٹفیشل انٹلی جنس کے استعمال کا بہتر فائدہ اٹھایا جاسکے۔ویب-مبنی ایپلی کیشن کو محکمہ دفاع ، وزارت دفاع، انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے محکمے اور آئی آئی ٹی کانپور کی ایک ٹیم اس میں پروفیسر شلبھ، نشیت سریواستو اور پیوش رائے شامل ہیں، کے ذریعے مشترکہ طورپر تیارکیا گیا ہے۔

دفاعی سیکریٹری ڈاکٹر اجے کمار، ڈی اے آر پی جی کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب وی سرینواس ، ایڈیشنل سیکریٹری وزارت دفاع محترمہ نویدتا شکلا ورما، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی کانپور پروفیسر ابھے کرن دیکر اور وزارت دفاع کے دیگر اعلیٰ حکام اس ایپلی کیشن کے لانچ کے موقع پر موجود تھے۔

 

01.jpg

 

 

02.jpg

 

************

 

ش ح۔ج ق۔ن ع

(U: 6603)



(Release ID: 1735983) Visitor Counter : 137