ٹیکسٹائلز کی وزارت

حکومت نے ملبوسات/کپڑے اور میڈ اَپس کی برآمدات پر ریاستی اور مرکزی ٹیکسز اور محصولات (آر او ایس سی ٹی ایل) میں چھوٹ کو جاری رکھنے کی منظوری دی

موجودہ شرحوں پر آر او ایس سی ٹی ایل کو 31 مارچ 2024 تک بڑھا دیا گیا ہے

یہ مستحکم اور متوقع پالیسی کے نظام کو یقینی بناتا ہے

عالمی  سطح پر مسابقتی ہندوستانی ٹیکسٹائلس کی برآمدات میں اضافہ ہوگا

اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کے ذریعے برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا

لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی اور اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا

Posted On: 14 JUL 2021 4:13PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے ، ٹیکسٹائل کی وزارت کے ذریعے 8 مارچ 2019 کو جاری کی گئی نوٹیفکیشن میں بتائی گئی شرحوں پر ہی، ملبوسات/ کپڑوں (ابواب- 61 اور 62) اور میڈ اَپس (باب-63) کی برآمدات پر ریاستی اور مرکزی ٹیکسز اور محصولات میں چھوٹ کو جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے، یہ ابواب برآمد کردہ مصنوعات پر محصولات اور ٹیکسز  کی منسوخی (آر او ڈی ٹی ای پی) کی اسکیم سے خارج ہیں۔ یہ اسکیم 31 مارچ 2024 تک جاری رہے گی۔

دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات (ابواب- 61، 62 اور 63 کو چھوڑ کر) جن کا احاطہ آر او ایس سی ٹی ایل کے تحت نہیں کیا گیا ہے، وہ آر او ڈی ٹی ای پی کے تحت فوائد حاصل کرنے کی اہل ہوں گی۔ یہ فوائد ان مصنوعات کو بھی حاصل ہوں گے جن کا فیصلہ محکمہ کامرس کے ذریعے اس سلسلے میں نوٹیفائی کی جانے والی تاریخوں سے کیا جائے گا۔

ملبوسات/ کپڑے اور میڈ اَپس کے لیے آر او ایس سی ٹی ایل کو جاری رکھنے سے ان مصنوعات کے عالمی سطح پر مسابقتی بننے کا امکان ہے، کیوں کہ انہیں ان تمام ٹیکسز/ محصولات سے چھوٹ دی جا رہی ہے جو کسی اور میکانزم کے تحت فی الحال نہیں دی جاتی۔ یہ مستحکم اور متوقع پالیسی کے نظام کو یقینی بنائے گا اور ہندوستانی ٹیکسٹائلس کے برآمد کاروں کو برابر کا موقع عطا کرے گا۔ مزید برآں، یہ برآمد کرنے اور لاکھوں نوکریاں پیدا کرنے کے لیے اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو فروغ دے گا۔

برآمد کردہ مصنوعات کے لیے ٹیکس کی واپسی

یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصول ہے کہ ٹیکسز اور محصولات کو برآمد نہیں کیا جانا چاہیے، تاکہ برآمد کاروں کو بین الاقوامی بازار میں برابری کے مواقع حاصل ہو سکیں۔ اس کے علاوہ، درآمد پر لگنے والی محصولات اور جی ایس ٹی جسے عام طور پر واپس کر دیا جاتا ہے، کے لیے متعدد دیگر ٹیکسز/ محصولات موجود ہیں جو مرکزی، ریاستی اور علاقائی حکومت کے ذریعے وصول کیے جاتے ہیں جنہیں برآمد کاروں کو واپس نہیں کیا جاتا۔ یہ ٹیکسز اور محصولات بالآخر برآمد کی جانے والی مصنوعات کی قیمت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے شامل کیے گئے ٹیکسز اور محصولات ہندوستانی ملبوسات اور میڈ اَپس کی قیمت میں اضافہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی بازار میں مقابلہ آرائی ان کے لیے مشکل ہو جاتی ہے۔

کچھ محصولات، ڈیوٹیز جن کے لیے ٹیکسز اور محصولات کو واپس نہیں کیا جاتا اور جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر شامل کیے گئے ٹیکسز کاحصہ ہیں، درج ذیل ہیں:

  1. اشیاء کی نقل و حمل، بجلی کی پیداوار اور زرعی شعبہ میں استعمال کیے جانے والے ایندھن پر مرکزی اور ریاستی ٹیکس، محصولات اور سیس۔
  2. منڈی ٹیکس
  3. پیداوار کی کڑی کی تمام سطحوں پر بجلی کی قیمتوں پر لگنے والا ٹیکس
  4. اسٹامپ ڈیوٹی
  5. حشرہ کش، کھاد وغیرہ جیسے ان پُٹ پر ادا کی گئی جی ایس ٹی
  6. غیر رجسٹرڈ ڈیلروں وغیرہ  سے خریداری پر ادا کی گئی جی ایس ٹی
  7. کوئلہ یا کسی دوسری مصنوعات پر لگنے والا سیس

شامل کیے گئے ٹیکسز اور محصولات کو واپس کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، ٹیکسٹائلس کی وزارت نے 2016 میں ریاستی محصولات کی چھوٹ (آر او ایس ایل) کے نام سے ایک اسکیم شروع کی تھی۔ اس اسکیم میں ملبوسات، کپڑے اور میڈ اَپس کے برآمدکاروں کو ٹیکسٹائلس کی وزارت کے بجٹ سے شامل کیے گئے ٹیکسز اور محصولات واپس کر دیے جاتے تھے۔ سال 2019 میں، ٹیکسٹائلس کی وزارت نے ریاستی اور مرکزی ٹیکسز اور محصولات (آر او ایس سی ٹی ایل) کی چھوٹ کے نام سے ایک نئی اسکیم نوٹیفائی کی۔ اس اسکیم کے تحت، برآمدکاروں کو برآمد کردہ مصنوعات میں شامل ٹیکسز اور محصولات کی قدر کے لیے ڈیوٹی کریڈٹ اسکرپٹ جاری کیا جاتا ہے۔ برآمد کار اس اسکرپٹ کو آلات، مشینری یا کوئی اور ان پُٹ درآمد کرنے کے لیے بنیادی کسٹمز ڈیوٹی ادا کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔

آر او ایس سی ٹی ایل شروع ہونے کے محض ایک سال بعد وبائی مرض آ گیا اور یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ برآمدکاروں کو کچھ مستحکم پالیسی کا نظام فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکسٹائلس کی وزارت نے آر او ایس سی ٹی ایل کی اسکیم کو آزادانہ طور پر ایک علیحدہ اسکیم کی شکل میں 31 مارچ 2024 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آر او ایس سی ٹی ایل اسکیم کو جاری رکھنے سے اضافی سرمایہ کاری پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور خواتین سمیت لاکھوں لوگوں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ روزگار ملے گا۔

*****

ش  ح –  ق ت –  ت  ع

U:6550

 

 



(Release ID: 1735556) Visitor Counter : 48