حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر

پرنسپل  سائنسی  مشیر کے دفتر کے کسان متر اور  کسان وکاس کیندر مقامی بولی  کے اجلاسوں کے ذریعہ  ایگری ٹیک کو  کسانوں کے لئے قابل رسائی بنانے   کے کام میں شراکت داری کریں گے

Posted On: 07 JUL 2021 4:18PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  7 جولائی 2021،   زرعی پریزینٹیشن  کی  سیریز  کے 28 ایڈیشن میں  پنجاب کے ایک کسان بلراج  مہمان کے طور پر شامل ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ماحول میں رطوبت  کا پتہ لگانے کے لئے  ایک سینسر لگائے جانے سے  ان کے آبپاشی کے طریقے پر کیا اثر پڑا ہے۔ان کے گاؤں میں بجلی نہیں ہے اور وہ  ڈیزل سے چلنے والا پمپ استعمال کرتے ہیں۔ اس سینسر کو لگانے سے ڈیزل اور پانی دونوں کی بچت ہوئی (جو کہ ان کے مطابق 15، 20 گھنٹے پمپ چلانے کے  برابر ہے)۔ سینسر سے مٹی کی نچلی سطحوں میں  نمی کا پتہ  لگایا جاسکا۔ ان کو بہتر فصل حاصل ہوئی اور سوائل ہیلتھ  میں  بھی بہتری آئی۔ یہ سینسر ایک ایگری ٹیک اسٹارٹ اپ میں تیار ہے۔

زرعی ٹکنالوجی اسٹارٹ اپس کے لئے  ایک بڑا چیلنج کسانوں،  ایف پی او اور کرشی وکاس کیندروں (کے وی کے)  یعنی  استعمال کرنے  والوں تک  رسائی کا ہے۔ اس سلسلے میں کسان متر  کا نظریہ تیار کیا گیا اور  یہ سپلائی کو مانگ سے  جوڑنے میں  کامیاب رہا ہے۔ اسٹارٹ اپس ، کے وی کیز کے ذریعہ کسانوں کی مدد کرسکتے ہیں اور  کسان اپنے  کچھ چیلنجوں کے سولیوشنز حاصل کرسکتے ہیں۔

بھارتی تحقیقی اداروں میں  ٹکنالوجی تیار کرنے والوں کے ذریعہ  زرعی پریزینٹیشن کی سیریز اور  ان کے انکیوبیٹیڈ اسٹارٹ اپس نے مختلف  معاملات  زرعی بندوبست ، فصل  کے بعد کے بندوبست ،  متعلقہ  زراعت  وغیرہ  کی تقریباً 150  زرعی ٹکنالوجیز کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ٹکنالوجیز حکومت ہند کے  پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر  کے تحت  تیار کی گئی ہیں۔ پریزینٹیشن بنیادی طور پر مانگ کرنے والے ارکان  (صنعت اور انکیو بیٹرز) کے لئے تیار کئے گئے ہیں اور ان کا مقصد  ٹکنالوجیز کا  اندازہ قدر اور  ٹکنالوجی کے ذریعہ  زراعت کی  سپلائی سائڈ کو  مانگ کی سائڈ سے جوڑنا ہے۔

تین جولائی 2021 کو  28 ویں ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے  آئی سی اے آر کے  ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل (ایگری کلچرل ایکسٹیشن) ڈاکٹر اے کے سنگھ نے بتایا کہ   کسان متر، کسانوں کے مسائل کے لئے  ٹکنالوجی سولیوشنز تیار کرنے کے  وزیراعظم کے وژن کو  پورا کرنے میں مدد کررہا ہے۔ انہوں نے  پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر  ، آئی سی ایس ٹی، این ایس آر سی ای ایل کو  ایسی ٹکنالوجی اور اختراعات  تیار کرنے کے عمل کے لئے مبارکباد پیش کی جو ریسرچ لیباریٹری  میں تیار ہورہی ہیں اور ملک  کے کسانوں   تک پہنچ رہی ہیں۔ ان ویبیناروں کے  مقامی بولی کے اجلاس  منعقد کئے جانے  کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے  امید ظاہر کی کہ  آئندہ ویبیناروں میں  اپنے مسائل کے بارے میں  بات کرنے اور  انہیں کس طرح کے ٹکنالوجی سولیوشنز کی ضرورت ہے، یہ بتانے کے لئے مزید کشان آگے آئیں گے۔  انہوں نے کہا کہ  ’’ایک کسان ، بہت سے کسانوں کی تربیت میں معاون ہوگا۔ اس لئے اگر ہم  ایک کسان کو ٹکنالوجی کی تربیت دیں گے تو  اس سے  معلومات کی منتقلی میں بھی مدد ملے گی‘‘۔ ڈاکٹر سنگھ نے  کسانو وکاس کیندروں کو ان سولیوشنز کو کسانوں تک پہنچانے  میں مددگار بتایا ۔ انہوں نے کہا کہ کسان وکاس کیندروں کے دفتروں میں، کسانوں کے لئے ٹکنالوجی کے مظاہرے کے انعقاد سے  یہ سولیوشنز کسانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اس کام میں اب تک  75  کے وی کیز  نے شرکت کی ہے۔

اٹھائیسواں ایڈیشن یہاں دیکھیں : https://www.youtube.com/watch?v=8SyC2G2DRT0

کسانوں کے لئے  مقامی زبان کے ان اجلاسوں  کے انعقاد کی سہولت  فراہم کرانے والی رضا کار تنظیموں میں  وی آئی ٹی اسکول آف ایگری کلچرل انوویشنز اینڈ ایڈوانسڈ لرننگ،  وی اے آئی اے ایل (تمل)،  اور گرامین انکیوبیشن سنٹر (تیلگو) شامل ہیں۔ یہ ٹیمیں  گجراتی، مراٹھی اور راجستھانی میں  اجلاس منعقد کرنے کے لئے  دوسروں سے بھی بات چیت کررہی ہیں۔تمل اور تیلگو میں آئندہ   اجلاس 10 جولائی اور 17 جولائی کو منعقد کئے جانے ہیں۔ آئندہ مہینوں میں اس پہل میں مزید کے وی کے  کے شرکت کرنے پر  دیگر مقامی زبانوں میں بھی  ان اجلاسوں  کے ٹیلی کاسٹ کا منصوبہ ہے۔

کسان متر کے بارے میں :

کسان متر یا ’ کسانوں کے دوست‘ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کی ایک پہل ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد  حکومت کے مختلف محکموں کے  مختلف ڈاٹا ذرائع سے  معلومات کی بنیاد پر  شفارشات کرنے اور  بھارتی کسانوں کو  معلومات فراہم کراتے ہوئے   انہیں  مزید  خود کفیل بنانا ہے۔ ویب سائٹ یہ ہے: https://kisanmitr.gov.in/

حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کے بارے میں:

نومبر 1999 میں  کابینہ سکریٹریٹ نے  حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کا دفتر قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد  سرکاری محکموں، اداروں اور صنعت  کی شراکت داری میں اہم بنیادی ڈھانچے ، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال پر فوکس کرتے ہوئے سائنس، ٹکنالوجی  اور اختراع سے متعلق معاملوں میں وزیراعظم اور  کابینہ کو  مفید اور بامقصد   مشورہ دینا ہے۔

کے وی کے بارے میں:

کرشی وگیان کیندر (کے وی کے)  ’’ٹکنالوجی کا جائزہ لینے اور  اس کے استعمال کے لئے  مظاہرہ اور صلاحیت سازی‘‘  کی تفویض کردہ ذمہ داری  پوری کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ یہ کیندر نیشنل ایگری کلچرل  ریسرچ سسٹم (این اے آر ایس) کا ایک حصہ ہیں ، جس کا مقصد  زراعت اور متعلقہ صنعتوں میں  ٹکنالوجی کے جائزے، انہیں بہتر بنانے اور  ان کے مظاہرے کے ذریعہ  مقام مخصوص کے ٹکنالوجی ماڈیولز کا جائزہ لینا ہے۔

انڈین سی ایس ٹی کے بارے میں:

پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر  نے  ایک رجسٹرڈ پبلک ٹرسٹ  انڈین سینٹر فار سوشل ٹرانسفارمیشن  (انڈین سی ایس ٹی) کی خدمات حاصل کی ہیں جو کہ  26 نومبر 2016 سے  مویشی پروری ، ڈیری مصنوعات اور ماہی گیری  کی وزارت  (جو کہ  اس وقت)  زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے لئے  ویب سائٹ  https://epashuhaat.gov.in  کو  چلاتا ہے۔ یہ ویب سائٹ انڈین سی ایس ٹی نے ہی تیار کی ہے۔ انڈین سی ایس ٹی نے  ای۔ پشو ہاٹ کی طرز پر  کسانو متر پورٹل تیار کرنے کے لئے  اپنے جی پی ایم  ایس ٹرانسپورٹل  کا تعاون بھی کیا ہے۔

این ایس آر سی ای ایل کے بارے میں:

خصوصی طور پر صنعت کاروں  اور طلبا اور خاتون صنعت کاروں  کو خدمات فراہم کرانے والے  پروگراموں کے ساتھ  آئی آئی ایم بی کا این ایس آر سی ای ایل اسٹارٹ اپس ایکو سسٹم  کے مختلف صنعت کاروں  کی مدد کرتا ہے۔ این ایس آر سی ای ایل اسٹارٹ اپس ، صنعتی  سرپرستوں اپنے بنیادی ادارے  انڈین انسٹی ٹیوٹ آف  بنگلور کے ممتاز ماہرین تعلیم  اور  محققین کو  ایک مقام پر جمع کرتا ہے جو کہ  تھیوری اور پریکٹس کے بارے میں مسلسل بات چیت  جاری رکھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ا گ۔ن ا۔

U-6282



(Release ID: 1733452) Visitor Counter : 169