قبائیلی امور کی وزارت

جنگلات کے حقوق کے ایکٹ کے مزید موثر نفاذ کے لئے مشترکہ اعلامیہ پر ماحولیات اور قبائلی امور کی وزارتوں کے دستخط

جناب ارجن منڈا نے کہا کہ اس سے جنگلات کے انتظام میں درج فہرست قبائل کے لوگوں اور جنگل کے مکینوں کی شراکت میں بہتری آئے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ جنگل کے حقوق کے ایکٹ کو کلی طور پر نافذ العمل کیا جائے

جناب پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ مشترکہ اعلامیہ الگ الگ کام کرنے کے بجائے وزارتوں اور محکموں کے مابین تال میل اور ہم آہنگی کے حصول کا مظہر ہے

Posted On: 06 JUL 2021 7:36PM by PIB Delhi

 

ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) کے سکریٹری جناب آر پی گپتا، اور قبائلی امور کی وزارت  (ایم او ٹی اے) کے سکریٹری ، جناب انل کمار جھا نے  وزیر ماحولیات جناب  پرکاش جاوڈیکر اور قبائلی امور کے وزیر، جناب ارجن منڈا کی موجودگی میں آج نئی دہلی میں مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے گئے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001OT81.jpg

مشترکہ اعلامیےکا جس میں ریاستوں /مرکزی خطوں کے تمام چیف سکریٹریوں سے رجوع کیا گیا ہے، جنگلات کے حقوق سے متعلق ایکٹ (ایف آر اے)  2006 کے مزید موثر نفاذ اور جنگل میں رہنے والے درج فہرست قبائل اور روایتی طور پر جنگل میں رہنے والے دیگر لوگوں کے روزگار کی بہتری کے امکانات کو بروئے کار لانے سے ہے۔

اس موقع پرقبائلی امور کے وزیر جناب ارجن منڈا نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائلی اور جنگل میں رہنے والے دیگر لوگ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ ، ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کے احاطہ کو بڑھانے کے ذریعہ آب و ہوا کی تبدیلی کی طرف کوششوں میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اپنے کلیدی خطبے میں جناب منڈا نے کہا کہ آج کے مشترکہ اعلامیے کا رُخ جنگل کے رہائشیوں کے حقوق اور فرائض کی طرف  ہے اور مقصد جنگل کے انتظام کے عمل میں ایسی برادریوں کی شرکت کو بہتر بنانا ہے۔

وزیر موصوف نے اجتماع کو مزید بتایا  کہ 10 اگست 2020 کو دونوں وزراء کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس کا مقصد جنگلات کے انتظام میں برادری کی شرکت کو یقینی بنانے کے معاملات کو حل کرنا تھا اور آج کا مشترکہ اعلامیہ  اس کے بعد کی جانے والی مشاورتوں کا نتیجہ ہے۔

وزیر ماحولیات  جناب جاوڈیکر نے کہا کہ مشترکہ اعلامیہ وزارتوں اور محکموں کے مابین ہم آہنگی کے لئے الگ الگ کام کرنے کے بجائے وزارتوں اور محکموں کے مابین تال میل اور ہم آہنگی کے حصول کا مظہر ہے اور یہ ایک بہت ہی مثبت پیشرفت ہے۔

وزیر ماحولیات نے کہا ''حکومتِ ہند قبائلیوں اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے پرعزم ہے۔ منظور شدہ اکلوویہ ماڈل رہائشی اسکولوں  کی تعداد 620 ہوگئی ہے۔ اسی طرح ، ون دھن یوجنا کےآغاز اور پچھلے کچھ برسوں میں کم سے کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی حد میں معمولی جنگلاتی مصنوعات کی تعداد میں اضافے نے قبائلیوں کی آمدنی اور معاش کے امکانات کو بہتر بنانے میں بے حد مدد کی ہے''۔

 

اس موقع پر وزیر مملکت برائے قبائلی امور  محترمہ رینوکا سنگھ سروتہ نے خوشی کا اظہار کیا اور مشترکہ اعلامیے کو تاریخی قرار دیا جو تمام ذمہ داروں کو اکٹھا کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگل میں رہنے والوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

وزیر مملکت برائے ماحولیات جناب بابل سپریو  نے جنگلات کے حقوق کے ایکٹ مجریہ 2006 کے مقاصد کو صحیح طریقے سے حاصل کرنے کے لئے عملی اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ یہ اقدام جنگلات کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے ساتھ  ساتھ درج فہرست قبائل اور دیگر رہائشیوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک طویل سفر طے کرے گا۔

اس تقریب میں 300 سے زائد مدعوئین نے شرکت کی جن میں ریاستی حکومت کے عہدیدار شامل ہیں جیسے جنگل، محصول اور قبائلی بہبود کے محکموں کے پرنسپل سکریٹری/ سیکریٹریز، جنگل کے پرنسپل چیف کنزرویٹرز، قبائلی بہبود کے محکموں کے کمشنر/ ڈائریکٹرز، قبائلی تحقیقاتی اداروں کے ڈائریکٹرز نیز غیر سرکاری تنظیموں اور شراکت دار تنظیموں کے ممبران۔

مشترکہ اعلامیے کی نمایاں خصوصیات کے لئے یہاں کلک کریں

*****

 

ش ح - س  ک

U.No. : 6272



(Release ID: 1733296) Visitor Counter : 36