دیہی ترقیات کی وزارت

دیہی ترقیات، زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود، پنچایتی راج اور خوراک ڈبہ بندی صنعتوں کے وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے دین دیال انتودیہ یوجنا۔ قومی دیہی روزی روٹی مشن کے ذریعہ بہترین طریقہ ہائے کار اپنا کر صنفی مسائل کو حل کرنے کے موضوع پر مرتب کردہ ایک مجلہ کا اجراء کیا

Posted On: 29 JUN 2021 5:10PM by PIB Delhi

دیہی ترقیات، زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود، پنچایتی راج اور خوراک ڈبہ بندی صنعتوں کے وزیر اعظم جناب نریندر سنگھ تومر نے آج ایک مجلے کا اجراء کیا جس کا تعلق اس موضوع سے ہے کہ کس طریقے سے بھارت بھر سے جمع کیے گئے بہترین طریقہ ہائے کار کو ڈی اے وائی۔ این آر ایل ایم کے تحت یکجا کیا گیا ہے اور اس کے ذریعہ ایس ایچ جی فیڈریشنوں کے ذریعہ سماجی عمل کی کمیٹیوں کے توسط سے صنفی مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔ اس مجلے کا اجراء ایک ورچووَل تقریب کے ذریعہ کیا گیا جس کا اہتمام گاؤں کی سماجی عمل کی کمیٹیوں کی تنظیم کی جانب سے درونی تجربات اور کامیابی کی داستانوں کو ساجھا کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ یہ وہ کمیٹیاں ہیں جو خواتین اور لڑکیوں کو تعاون اور امداد فراہم کرنے کے معاملے میں سرفہرست رہی ہیں۔ بہترین طریقہ ہائے کار پر مشتمل مذکورہ مجلہ یا مرقع کا اجراء وزیر مملکت محترمہ سادھوی نرنجن جیوتی اور دیہی ترقیات کی وزارت کے سینئر افسران، ریاستی حکومتوں اور دیہی تنظیموں کے اراکین اور ریاستوں سے آئے ہوئے کلسٹر کی سطح کے فیڈریشنوں کے اراکین کی موجودگی میں آن لائن تقریب کی شکل میں عمل میں آیا۔

ورچووَل تقریب میں ایسی خواتین اور لڑکیوں کی آواز کو نمایاں کرکے پیش کیا گیا جنہوں نے متعدد اور مختلف النوع مسائل مثلاً اطفال کی شادیوں کی روک تھام، خواتین کے خلاف تشدد، جادوٹونااور توہمات سے متعلق طریقوں کے سدباب، روزگار کی بہم رسانی اور خواتین کے لئے روزی روٹی کے انتظام، رسمی میکنزم کے ذریعہ قانونی چارہ جوئی اور مشاورت کی فراہمی کے حل کے سلسلے میں سماجی ایکشن کمیٹیوں کے ذریعہ مدد فراہم کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ خستہ حال اور کمزور طبقات اور حاشیے پر زندگی بسر کرنے والی برادریوں کو شمولیت پر مبنی ترقی کے دائرے میں لایا گیا ہے اور اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ان کی آوازیں ان اداروں تک پہنچیں اور ان میں ان کی نمائندگی ممکن ہو سکے ۔ 23 ریاستوں میں کیے گئے مطالعات کے ذریعہ اس عمل کو نمایاں کیا گیا، میکنزم، حکمت عملیوں اور ان صنفی دخل اندازیوں کو بڑھاوا دینے اور ان پر عمل درآمد کو فروغ دینے کے سلسلے میں بھی تمام تر سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا تاکہ صنفی مساوات کو فروغ حاصل ہو سکے اور خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر طرح کی تفریق کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

مرکزی وزیر نے خواتین اور لڑکیوں کو اپنی آواز اٹھانے اور اپنی تشویشات کا ازالہ کرنے کے سلسلے میں فراہم کرائی گئی مدد کے لئے وزارت کی کوششوں کو سراہا اور ڈی اے وائی۔ این آر ایل ایم کے ذریعہ قائم کیے گئے ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعہ انہیں تعاون فراہم کرنے کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے خواتین ایس ایچ جی کی کوششوں کی بھی ستائش کی۔ نہ صرف ان چنوتیوں کو حل کرنے کے لئے جو خواتین اور لڑکیوں کو ان کے اپنے گھروں اور برادریوں میں درپیش ہوتے ہیں بلکہ ان کے ذریعہ دیے گئے اس تعاون کی بھی ستائش کی جو یہ خواتین اور لڑکیاں سماجی اصلاحات کے لئے دے رہی ہیں اور بھارت کی نمو اور ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے سماجی مسائل کو حل کر رہی ہیں۔

انہوں نے بھارت کو مضبوط تر اور خود کفیل بنانے کے سلسلے میں اس طرح کی کوششوں کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ مقامی حکمرانی میکنزم کی تعمیر کے ذریعہ اس عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور حاشیے پر زندگی بسر کرنے والی ازحد نازک حالات میں زندگی بسر کرنے والی اور خستہ حال خواتین اور لڑکیوں کی امداد کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم ہند کی جانب سے شروع کیے گئے آزادی کا امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر جو بھارت کی آزادی کے 75 سال منانے کی غرض سے ترتیب دیا گیا ہے اور جس کا مقصد زریں روایات اور متعدد شعبوں میں حاصل کی گئی ترقی کو ساجھا کرنا ہے، بھارت میں سیلف ہیلپ گروپ تحریک بھارتی خواتین کے ذریعہ پیش کی گئی لچک کے نمونے اور محنت و مشقت  کو نمایاں کرنا ہے۔

وزیر موصوف نے ایس ایچ جی اراکین کے رول کی اہمیت کو اجاگر کیا، ساتھ ہی ساتھ کہا کہ سوشل ایکشن کمیٹیاں کووِڈ19 کو پھیلنے سے روکنے کے سلسلے میں بیداری پھیلانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ساتھ ہی ساتھ عوام الناس کو ٹیکے لگوانے کے سلسلے میں تحریک  و ترغیب بھی فراہم کر سکتی ہیں۔

اس موقع پر وزیر مملکت سادھوی نرنجن جیوتی نے ایس ایچ جی کے ایک حصے کے طور پر کا م کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کی توسیعی پیش رفت کا تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے سماجی ایکشن کمیٹیوں جیسے پلیٹ فارموں کا استعمال فرسودہ طریقوں کے سدباب کے لئے کیا ہے اور اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ ان کی اپنی امنگیں اور توقعات پایہ تکمیل تک پہنچیں۔ وزیر موصوفہ نے دیگر ریاستوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس مجلے میں پیش کی گئی داستانوں سے ترغیب حاصل کرنی چاہئے اور یہ جاننا چاہئے کہ کس طریقے سے سماج پر مبنی ان اداروں کے ذریعہ صنفی مساوات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

دین دیال انتودیہ یوجنا۔ قومی دیہی روزی روٹی مشن (ڈی اے وائی۔ این آر ایل ایم) دیہی ترقیات کی وزارت کی جانب سے نافذ کی جانے والی ایک فلیگ شپ اسکیم ہے جس کا مقصد ناداروں کے لئے مضبوط اداروں کی تعمیر کے توسط سے کثیر پہلوئی ناداری کا خاتمہ ہے۔ اس اسکیم کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ مختلف طبقات، مختلف ذاتوں  کے مختلف زمروں سے تعلق رکھنے والی نادار خواتین باہم مل جل کر سیلف ہیلپ گروپوں کی شکل میں منظم ہوتی ہیں اور ان کی فیڈریشنیں اپنے اراکین کو اپنی آمدنی بڑھا نے اور معیارِ حیات کو بہتر بنانے کے لئے مالی، اقتصادی اور سماجی ترقیاتی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ کمیونٹی ریسورس پرسن (ایس ایچ جی) اراکین اور جو ایس ایچ جی پلیٹ فارموں کے توسط سے ناداری سے چھٹکارہ پا چکی ہیں، تبدیلی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرر ہی ہیں اور پروگرام کے نفاذ میں اپنا تعاون پیش کر رہی ہیں  ۔ فی الحال این آر ایل ایم کے ذریعہ 6758 بلاکوں پر احاطہ کیا گیا ہے، 76.2 بلین دیہی کنبوں کو ترغیب دے کر 69.9 لاکھ ایس ایچ جی کی شکل میں منظم بنایا گیا ہے۔

بھارت کے ایک سب سے بڑے روزی روٹی کے پروگرام کے ایک حصے کے طور پر 76 بلین سے زائد خواتین کو یکجا کیا گیا ہے، ڈاے وائی۔ این آر ایل ایم خواتین کی سماجی ۔ اقتصادی اختیارکاری کو فروغ دینے کے لئے خاصا امید افزا ماحول بنا رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ انہیں ایس ایچ جی اور دیہی ناداروں کی فیڈریشنوں کی شکل میں منظم بنایا جا رہا ہے۔ مختلف النوع سماجی ترقیاتی مسائل کو حل کرنے کے لئے ایس ایچ جی فیڈریشنیں سوشل ایکشن کمیٹیوں کی مدد سے مختلف قسم کی دخل اندازیاں شروع کر چکی ہیں۔

دیہی ترقیات کے سکریٹری، حکومت ہند جناب نگیندر ناتھ سنہا نے زور دے کر کہا کہ ایس ایچ جی اور ان کی فیڈریشنوں کی تربیت کی بڑی اہمیت ہے تا کہ وہ آخر کار نادار خواتین کے لئے سیلف گورننگ اداروں کے طور پر کام کر سکیں۔

ایڈیشنل سکریٹری محترمہ الکا اپادھیائے، دیہی ترقیات کی وزارت جوائنٹ سکریٹری محترمہ نیتا کجریوال نے بھی این آر ایل ایم کے ذریعہ کیے گئے توسیعی کام پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس کے تمام کاموں میں صنفی پہلو کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ سوشل ایکشن کمیٹیوں جیسے کمیونٹی پر مبنی پلیٹ فارموں کے ذریعہ اس کام کو مزید تقویت حاصل ہو اور حقوق تک مساویانہ رسائی کو فروغ دیا جا سکے، استحقاق فراہم کرائے جا سکیں اور خواتین اور لڑکیوں  کے لئے عمدہ طرز حیات ممکن بنایا جا سکے۔ وزارت کے افسران اور ریاستی حکومتوں نے بھی اس ورچووَل تقریب میں شرکت کی جس میں کمیونٹی ریسورس پر سن اراکین نے خواتین اور لڑکیوں کو درپیش مختلف النوع مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں سماجی ایکشن کمیٹیوں کے اثرات کو ساجھا کیا اور یہ بتایا کہ کس طریقے سے ادارہ جاتی میکنزم ، مختلف محکموں اور خدمات کے مابین تال میل اور ادارہ جاتی میکنزم اور یکجائی کی کوششیں ان تمام تر کوششوں کو آگے بڑھانے میں مہمیز کار کے طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

*******

ش ح ۔م  ن ۔ اب ن

U:6015

 



(Release ID: 1731351) Visitor Counter : 289