الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

ٹوئٹر کو ملک کے قوانین پر عمل کرنے کی ضرورت


سرکار نے ٹوئٹر کے ذریعے دیے گئے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے پوری طرح سے بےبنیاد، جھوٹا اور بھارت کو بدنام کرنے والا بتایا ہے، جسے کمپنی نے صرف اپنی احمقانہ غلطیوں کو چھپانے کےلیے دیا ہے

Posted On: 27 MAY 2021 7:20PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،27/مئی2021،

بھارتی حکومت نے آج پریس ریلیز جاری کرکے کہا ہے کہ وہ ٹوئٹر کے ذریعے کیے گئے دعوؤں کی سخت مخالفت کی ہے۔ بھارت میں آزادی رائے اور جمہوری  اقدار کی صدیوں پرانی روایت ہے۔ بھارت میں اظہار رائے کی آزادی  کا تحفظ کرنا صرف ٹوئٹر جیسی نجی ، منافع بخش، غیرملکی ادارے کا استحقاق نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور اس کے مضبوط اداروں کی عہد بستگی ہے۔

ٹوئٹر کا یہ بیان دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت پر اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوشش ہے۔اپنے کاموں اور دانستہ طور پر کی گئی خلاف ورزی سے، ٹوئٹر بھارت کے قانونی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹوئٹر انٹر میڈیئری  رہنما اصول میں انہی ضابطوں پر عمل کرنے سے انکار کرتا ہے، جن کی بنیاد پر وہ بھارت میں کسی بھی فوج داری کی ذمہ داریوں سے محفوظ ہونے کا دعوی کررہا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر ٹوئٹر میں اتنی عہدبستگی ہے تو اس نے بھارت میں اپنے دم پر ایسا میکانزم کیوں نہیں قائم کیا؟۔ بھارت میں ٹوئٹر کے نمائندےباضابطہ طور پر دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور انہیں اور بھارت کے لوگوں کو ہر چیز کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ٹوئٹر کے ہیڈکوارٹر کے ذریعے آگے بڑھانا پڑتا ہے۔ اپنے بھارتی صارفین کے لیے ٹوئٹر کی مبینہ عہدبستگی ، اس طرح نہ صرف کھوکھلی لگتی ہے، بلکہ پوری طرح سے خودساختہ ہے۔

بھارت میں ٹوئٹر کے پاس بڑی تعداد میں یوزرس ہیں، وہ بھارت میں اپنے کاروبار سے اچھی خاصی کمائی کرتا ہے، لیکن بھارت میں شکایت کی تلافی سے متعلق افسر ارو میکانزم، عمل درآمد سے متعلق چیف افسر اور نوڈل افسر کو مقرر کرنے کے لیے وہ تیار نہیں ہے۔ جہاں پر اس کے اپنے صارفین کسی بھی طرح کے قابل اعتراض ٹوئٹ کے خلاف شکایت کرسکتے ہیں۔

یہ ضابطے عام صارفین کو، جو ہتک عزت ْ تصویروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، جنسی استحصال اور قانون کی سنگین خلاف ورزی میں دیگر توہین آمیز مواد کی پوری سیریز کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس پر کارروائی کرنے کی مانگ کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نمائندوں سمیت وسیع تر ممکنہ صلاح ومشورے کے بعد ان ضابطوں کو حتمی شکل دی گئی۔ الیکٹرانکس اور آئی ٹی وزارت نے ضابطوں کے مسودےکو عام بھی کیا اور اس کے لیے عوامی رائے بھی لی۔وزارت کو افراد، سول سوسائٹی، صنعتی ایسوسی ایشن اور تنظیموں سے بڑی تعداد میں تبصرے موصول ہوئے۔ان تبصروں پر بڑی تعداد میں ردعمل بھی موصول ہوئے تھے۔ بھارت نے سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں کے ذریعے سرکار کو مناسب قدم کو اٹھانے کی ہدایت دینے والے مختلف عدالتی احکامات بھی موجود ہیں۔ اس سمت میں مناسب تدبیر کرنے کے لیے کئی پارلیمانی بحث اور سفارشیں بھی کی گئی ہیں۔

تقریب اور اظہاررائے کی آزادی بھارتی آئین کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔ بھارتی حکومت لوگوں کے سوال پوچھنے کے حق کا احترام کرتی ہے اور ٹوئٹر سمیت ان سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تنقید کا بھی احترام کرتی ہے۔ حکومت پراویسی کے حق کا یکساں طور پر احترام کرتی ہے۔ حالانکہ ٹوئٹر پر اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے کی واحد مثال خود ٹوئٹر اور اس کی غیرشفاف پالیسیاں ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کے اکاؤنٹ معطل کردیے جاتے ہیں اور من مانے طریقے سے ٹوئٹ ہٹا دیے جاتے ہیں۔

ٹوئٹر کو بلاوجہ نکتہ چینی کرنے کے بجائے ملک کے قوانین پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ قانون بنانا اور پالیسی بنانا خودمختار ملک کا استحقاق ہے اور ٹوئٹر صرف ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے اور بھارت کی قانونی پالیسی کا خاکہ کیا ہونا چاہیے، یہ طے کرنے میں اس کا کوئی رول نہیں ہے۔

ٹوئٹر نے دعوی کیا ہے کہ  وہ بھارت کے لوگوں کے لیے پرعزم ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ٹوئٹر کی یہ عہدبستگی سب سے زیادہ غائب  رہی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ حالیہ مثالیں پیش کرنا مناسب ہے:

  • ٹوئٹر نے اس وقت مرکز کے زیرانتظام علاقے لداخ کے کچھ مقامات کو پیپلز ری پبلک آف چائنا کے حصے کے طور پر دکھایا، جب بھارت اور چین دوطرفہ بات چیت کے توسط سے سرحد سے متعلق مسائل کے پرامن حل میں مصروف تھے۔ ٹوئٹر کو بھارت کی حساسیت اور علاقائی سلامتی کے تئیں اس سنگین گستاخی کی اصلاح میں کئی دن لگے، وہ بھی ایسا بار بار یاد دلانے کے بعد کیا۔
  • ٹوئٹر نے ان یوزرس کے خلاف خود سے کارروائی کرنے کا متبادل منتخب کیا، جنہیں وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں کیپٹل ہل میں ہوئے تشدد کا قصوروار مانتا تھا، لیکن دہلی میں لال قلعہ پر غیرقانونی واقعات کے کچھ ہی دنوں بعد ٹوئٹر نے نقلی قتل عام کے منصوبے کے بہانے تشدد بھڑکانے والے مواد کو بلاک کرنے کے لیے بھارتی حکومت کے ذریعے کی گئی جائز درخواست پر فورا کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔ بعد میں اس نے جزوی طور پر اس پر عمل کیا، وہ بھی اس وقت جب نقصان ہوچکا تھا۔
  • ٹوئٹر کے غیرذمہ دارانہ رویہ کے وجہ سے بھارت اور بھارتیوں کے خلاف فرضی اور نقصاندہ مواد کا تیزی سے پھیلاؤ ہوا ہے۔ ٹوئٹر پلیٹ فارم کا لوگوں میں ویکسین لگوانے کے شکوک کو بڑھاوا دینے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے اور پھر بھی ٹوئٹر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کیا اسے بھارت کے لوگوں کے تئیں عہد بستگی کہتے ہیں؟۔
  • ڈبلیو ایچ او کے سخت رہنما اصول کے باوجود B.1.617 میوٹینٹ کو ‘بھارتی قسم’ نام دے کر  بدنیتی پر مبنی ٹیگنگ  کی وجہ سے بھارتیوں اور بھارتی نژاد لوگوں کے خلاف سوتیلا برتاؤ کیا گیا ہے۔

ایک بار پھر سے ٹوئٹر نے بھارت کے لوگوں کی خدمت کرنے کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے اس طرح کے فرضی بیانات اور ٹوئٹس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ایک پرائیویٹ کمپنی، ٹوئٹر انک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ایک خودمختار جمہوری ری پبلک کی حکومت سے ‘‘عوام کے مفاد کے تحفظ’’ کے لیے ‘‘مثبت مکالمہ ’’،  ‘‘تعاون پر مبنی نظریہ’’اب وقت آگیا ہے کہ  ٹوئٹر ان بڑے بڑے دعوؤں سے انکار کرے اور بھارت کے قوانین پر عمل کرے۔

بھارتی حکومت ٹوئٹر کے ذریعے دیئے گئے افسوسناک بیان کو پوری طرح سے بے بنیاد، جھوٹا اور بھارت کو بدنام کرنے کی کوشش کی مذمت کرتی ہے، جو کہ ٹوئٹر اپنی احمقانہ غلطیوں کو چھپانے کےلیے دے رہا ہے۔

دہلی پولیس نے جاری جانچ سے متعلق ایک تفصیلی پریس ریلیز بھی جاری کے ہے، جو ٹوئٹر کے ذریعے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا پوری طرح سے جواب دیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

U-4908

ش ح۔   ف ا ۔  ت ع۔

 



(Release ID: 1722381) Visitor Counter : 305