کامرس اور صنعت کی وزارتہ

اپیڈا نے جنوبی کوریاکے لئے آم کی برآمدات کو فروغ دینے کے غرض سے خریداروں اور فروخت کاروں کی ورچوئل میٹنگ کا انعقاد کیا

بھارت نے جنوبی کوریاکو جغرافیائی طورپر نشان کردہ (جی آئی ) سے تصدیق شدہ 2.5میٹرک ٹن آموں کی کھیپ بحری جہاز سے روانہ کی

Posted On: 21 MAY 2021 11:06AM by PIB Delhi

 

نئی دہلی ،21مئی :جنوبی کوریاکے لئے آموں کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے کوشش کے طورپر ، اپیڈا نے  سیول میں بھارت کے سفارت خانے اورکوریامیں انڈین چیمبرس آف کامرس (آئی سی سی کے ) کے اشتراک سے خریداروں اور فروخت کاروں کی ایک ورچوئل میٹنگ کا اہتمام کیا۔

اپیڈا،بھارت کے سفارت خانے کے سینیئر عہدیداروں ، آئی سی سی کے ، بھارت کے برآمدکاروں اور جنوبی کوریاکے درآمدکاروں نے کل وی بی ایس ایم میں حصہ لیا۔

کووڈ -19عالمی وباء کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے برآمدات کے فروغ سے متعلق پروگراموں کو فزیکل طریقے سے منعقد کرنا ممکن نہیں تھا۔ اپیڈا نے بھارت کے آم برآمدکرنے والوں اور جنوبی کوریا کے آم درآمدکرنے والے کاروباریوں ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کی غرض سے ایک ورچوئل بی ایس ایم کے انعقاد کے سلسلے میں پہل کی ۔

اس مہینے کے شروع میں ، اس سیزن میں پہلی مرتبہ بھارت نے آندھراپردیش کے کرشنا اور چتور اضلاع کے کسانوں سے حاصل کئے گئے جغرافیائی طورپرنشان کردہ (جی آئی ) سے تصدیق شدہ ، بنگن اپلّی اور ایک دیگرقسم سورورنریکھا آموکی 2.5میٹرک ٹن کی کھیپ بحری جہازوں سے روانہ کی ۔

جنوبی کوریا کے لئے برآمدکئے گئے آموں کو پہلے آندھراپردیش میں تروپتی کے مقام پراپیڈاکی مدد والے اوررجسٹرڈ پیک ہاوس اور بھاپ کی گرمی سے آموں کو محفوظ کرنے والی سہولت میں پہلے چھانٹاگیا، صاف کیاگیا اور پھرافکو کسان ایس ای زیڈ ( آئی کے ایس ای زیڈ ) کے ذریعہ برآمدکیاگیا۔
آئی کے ایس ای زیڈ کے ذریعہ برآمدکی گئی یہ پہلی کھیپ تھی ۔ آئی کے ایس ای زیڈ ، افکو کا ایک ذیلی ادارہ ہے ،جوکثیر ریاستی امدادباہمی کی انجمن ہے اور 36000سوسائٹیاں اس کے ارکان میں شامل ہیں ۔ اس سیزن میں جنوبی کوریاکو مزید آم برآمدکئے جانے کا امکان ہے ۔ افکوکسان ایس ای زیڈ نے اس سیزن میں جنوبی کوریاکو 66میٹرک ٹن آم سپلائی کرنے کے لئے جنوبی کوریاکی فرم می جیم کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیاہے اور آندھراپردیش کے باغبانی کے محکمے نے بھی اس کوشش میں اشتراک کیاہے ۔

جنوبی کوریابرآمدکئے جانے والے آموں کو آندھراپردیش میں تروپتی کے مقام پر اے پی ایگروز انٹی گریٹڈ پیک ہاؤس اینڈ وی ایچ ٹی سسٹم میں آموں کو محفوظ رکھنے کے مقصد سے انھیں پروسیس کیاگیاتھااور خطے سے تازہ پھلوں اورسبزیوں کو برآمدکرنے میں سہولت پیداکرنے کی غرض سے اپیڈا اس یونٹ کو مالی مدد فراہم کرتی ہے ۔

تقریبا 40میٹرک ٹن تازہ پھل اورسبزیاں پیک ہاؤس سے برآمدکی گئی ہیں ۔ یہ پیک ہاوس باغبانی کی پیداوارکو یوروپی یونین اورغیریوروپی یونین ملکوں کو برآمدکرنے کی خاطرجنوبی ریاستوں کے ساتھ تعاون کرتی ہے ۔ موجودہ سیزن میں 30میٹرک ٹن آموں کو یوروپی یونین ، برطانیہ ،آئرلینڈ اورمشرق وسطیٰ وغیرہ کے ملکوں کو برآمدکیاجاچکاہے ۔

بھارت میں آم کو پھلوں کا راجہ بھی کہاجاتاہے اورقدیم مقدس صحیفوں میں اس کا ‘‘کلپ ورکشا’’ ( منّت پوری کرنے والے پیڑ) کے طورپربھی ذکرکیاگیاہے ۔ حالانکہ بھارت میں زیادہ ترریاستوں میں آم کی کاشت کی جاتی ہے ، لیکن اترپردیش ، بہار، آندھراپردیش ، تلنگانہ اور کرناٹک ملک میں  آم کی کل پیداوارکا ایک بڑا حصہ پیداکرتے ہیں ۔

بھارت سے برآمد کی جانے والی قسموں میں الفانسو، کیسر، طوطاپری اور بنگن پلّی آم سب سے زیادہ برآمدکئے جاتے ہیں ۔ آم کی برآمدات بنیادی طورپر تین شکلوں میں کی جاتی ہے :تازہ آم، آم کا گودہ اورآم کی قاشیں ۔

آموں کو پہلے  اپیڈارجسٹرڈ پیک ہاؤس مراکزکے ذریعہ خراب ہونے سے محفوظ بنایاجاتاہے اورپھرانھیں مشرق وسطیٰ ، یوروپی یونین ، امریکہ ، جاپان اورجنوبی کوریاسمیت مختلف خطوں اورملکوں کو برآمدکیاجاتاہے ۔

*****************

)21.05.2021 (ش ح ۔ ع م ۔ع آ

U-4690



(Release ID: 1720561) Visitor Counter : 20


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Telugu