زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

مرکزی وزیر زراعت شری نریندر سنگھ تومر نے زراعت برائے خریف مہم -2021 کے موضوع پر قومی کانفرنس کا افتتاح کیا

زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں نے وبائی مرض کے دوران جی ڈی پی کی شراکت میں مستقل نمو درج کی ہے: جناب نریندر سنگھ تومر

غذائی اجناس کی پیداوار کا ہدف 2021-22 کے لیے 307 ملین ٹن ہے: مرکزی وزیر زراعت

Posted On: 30 APR 2021 4:38PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے 30 اپریل 2021 کو ’زراعت برائے خریف مہم کے موضوع پر قومی کانفرنس‘ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب پرشوتم روپالا اور جناب کیلاش چودھری بھی موجود تھے۔ خریف کی فصل کے دوران فصلوں کے مؤثر انتظام کے لیے چیلنجوں اور مؤثر فصلوں کے انتظام کے لیے حکمت عملیوں پر ریاستوں سے تبادلہ خیال کے لیے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔

 

 

کانفرنس کے دوران، خریف فصلوں کے انتظام اور بیج، کیڑے مار دوا، کھاد، مشینری کی فراہمی اور بلاک سطح پر ان کی تیاری کو یقینی بنانے کا جائزہ لینے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، کسی بھی ضلع میں خشک سالی جیسی صورتحال ہونے پر تیاری کے لیے، نیز مربوط غذائیت کے انتظام اور کیڑوں کے مربوط نظم، فصلوں میں تنوع اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ؛ تیل کے بیج اور دالوں کی پیداوار کے لیے مرکوز حکمت عملی، ربیع کی فصلوں کی مارکیٹنگ اور ایم ایس پی پر خریداری کووڈ کی وبا کے دوران زراعت کے نظم کے لیے ایکشن پلان اور رہنما اصولوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے اناج (303.34 ملین ٹن) کی ریکارڈ پیداوار کے لیے کسانوں کی کاوشوں کی تعریف کی، جو پچھلے سال کی پیداوار (297.50 ملین ٹن) سے 1.96 فیصد زیادہ ہے۔ دالوں اور تخم روغن کی پیداوار بالترتیب 24.42 اور 37.3 ملین ٹن ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے سبب زراعت کے شعبے نے اپنی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں نے جی ڈی پی کی شراکت میں مستقل اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ اقتصادی سروے 2020-21 کے مطابق جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 2019-20 میں 17.8 فیصد سے بڑھ کر 2020-21 میں 19.9 فیصد ہو گیا ہے۔ انھوں نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مرکز کے تعاون سے چلنے والی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کے لیے ریاستی حکومتوں کی بھی تعریف کی۔

جناب تومر نے گذشتہ سال 2020-21 کے پیداواری اہداف کے مقابلے میں سال 2021-22 کے لیے 301.92 سے 307 ملین ٹن تک اناج کے اعلی پیداوار کے اہداف کا اعلان کیا تھا۔ درآمد پر ہمارے انحصار کو کم کرنے اور آتم نربھر بھارت کا خواب پورا کرنے کے لیے دالوں اور تخم روغن کی اعلیٰ پیداواری اہداف ملک کی ضرورت ہیں۔

تیل کے بیجوں اور دالوں کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جناب تومر نے ریاستی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ قلت کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مشن وضع پر کام کریں۔ انھوں نے ریاستی حکومتوں سے ایسی جگہوں کی نشاندہی کرنے کی بھی درخواست کی جہاں نامیاتی کاشتکاری کی پیروی کی جا رہی ہے اور کیمیائی مادوں سے پاک ہیں تاکہ انھیں نامیاتی کی حیثیت سے سند دی جا سکے اور انہیں مارکیٹ سے منسلک کیا جا سکے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ حکومت ہند ریاستی حکومتوں کو درپیش تمام پریشانیوں کو حل کرنے میں مدد کرے گی۔

سکریٹری (اے سی اینڈ ایف ڈبلیو)، جناب سنجے اگروال نے بتایا کہ محکمہ زراعت کی فعال شمولیت سے خریف کی فصلوں کے لیے بیج منی کٹ تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاستی زراعت کے محکموں کو چاہیے کہ وہ فصل کی پیداوار کے اہم مراحل پر کاشتکاروں کو بیجوں اور کھادوں کی بر وقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مرکز کے پاس اپنے مطالبات پیش کریں۔

شروعات میں، زراعت کمشنر، ڈی اے سی اور ایف ڈبلیو ڈاکٹر سریش ملہوترا نے خریف سیزن میں فصلوں کے انتظام کی حیثیت اور حکمت عملی پیش کی۔ انھوں نے 2020-21 (303 ملین ٹن) میں ریکارڈ اناج کی پیداوار کا ذکر کیا اور کہا کہ موسم گرما / زائد سیزن میں خصوصی پروگرام کے نفاذ کی وجہ سے موسم گرما کے رقبے میں (63.44 سے 75.75 لاکھ ہیکٹر) کا اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے ریاستوں سے بارش کا پورا فائدہ اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا جس کی معمول کے مطابق ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے (اوسطاً 98 فیصد)۔ قحط سالی سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی منصوبہ تیار کیا جا سکتا ہے۔

تمام ریاستوں نے وی سی کے ذریعے بات چیت کی اور اپنی کامیابیوں اور پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا اور مرکز کو انھیں درپیش رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔

اس کانفرنس میں سکریٹری (اے سی اینڈ ایف ڈبلیو)، سکریٹری (کھاد)، سکریٹری (ڈی اے آر ای) اور ڈی اے سی اینڈ ایف ڈبلیو، ڈی ای آر ای، آئی سی اے آر کے سینیر افسران اور ریاستوں / یو ٹی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ ریاستی حکومتوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں نے اپنے اے پی سی، پرنسپل سکریٹریز، سکریٹریوں اور کمشنروں اور محکمہ زراعت کے آئی سی اے آر اور ریاستی زراعتی یونیورسٹیوں کے زراعت سے متعلق سائنس دانوں (ڈائریکٹرز) کے ساتھ نئی پیداواری تکنیکوں، تنوع، فصلوں کے ذریعے پیداواری اور پیداوار میں اضافے کے منصوبے پر غور کیا۔

                                       **************

ش ح۔ ف ش ع-م ف   

01-05-2021

U: 4112



(Release ID: 1715477) Visitor Counter : 11