امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

رواں مالی برس 2021-22 کے دوران ایتھنول کی پیداوارکے لئے ہندوستان کی خوراک کی کارپوریشن کی چاول کی قیمت 2000 روپے فی کوئنٹل رہے گی

ڈی ایف پی ڈی نے 1684کروڑ لیٹر کی گنجائش والی 422 تجاویز کو سود سے متعلق مالی امدادی اسکیم کے لئے ، بنیادی منظوری دے دی ہے جس میں 42000کروڑ روپے مالیت کا قرض شامل ہے

ایتھنول مرکب بنانے کی پالیسی۔کسانوں کے لئے ایک تحفہ

Posted On: 01 MAY 2021 7:57PM by PIB Delhi

نئی دہلی یکم مئی 2021:زرعی معیشت کو مستحکم کرنے ،درآمد شدہ قدرتی ایندھن پر انحصار کو کم کرنے ، خام تیل درآمد کرنے کے خرچ کے ضمن میں زرمبادلہ کو بچانے کے لئے اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے تناظر میں حکومت نے پیٹرول کے ساتھ سن 2022 تک ایندھن کے گریڈ کے ایتھنول کے 10 فیصدبلینڈنگ  اور 2025 تک 20 فیصد بلینڈنگ کا  ہدف مقرر کیا ہے۔

چینی کے شعبہ کو مدد دینے کے تناظر میں اور گنے کےکسانوں کے مفاد میں ، حکومت نے بی ۔ہیوی شیرہ ،گنے کے رس ،گنے کی سیرپ اور چینی سے ایتھنول کی پیداوار کرنے کی اجازت دے دی ہے نیز چینی کے ملوں کی ایتھنول کی پیداوار کے لئے گنے کی زیادہ تعداد مخصوص کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کررہی ہے۔ 2019-20 کے سابقہ چینی کے سیزن میں تقریباً 9 ایل ایم ٹی  شوگر ایتھنول کے لئے مخصوص کی گئی تھی۔ 2020-21 کے رواں گنے کے سیزن میں یہ توقع ہے کہ 20 ایل ایم ٹی  گنے کو ایتھنول کی پیداوار کے لئے مخصوص کیا جائیگا ۔ 2025 تک یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 50-60 ایل ایم ٹی گنے سے ایتھنول تیار کیا جائے جو کہ چینی کی زیادہ ضرورت کے مسئلے کو حل کرے گا، ملوں کی لکویڈٹی کو بہتر بنائے گا جس کی وجہ سے کسانوں کے گنے کی ضروری ادائیگیاں بروقت کرنے میں مدد ملے گی۔ گنے کے گزشتہ 3 سیزنوں میں شوگر ملوں نیز شراب کے کارخانوں  نے 22 ہزار کروڑ روپے کا محصول او ایم سیز کو ایتھنول کی فروخت سے حاصل کیا تھا۔

ایندھن کی گریڈ کے ایتھنول کی  پیداوار کو بڑھانےاور بلینڈنگ کے ہدائف کو حاصل کرنے کے لئے حکومت ہند نے مکئی اور چاول کو ایتھنول کی پیداوار کے لئے ایف سی آئی کے ساتھ استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایف سی آئی کے پاس موجود چاول کو آئندہ برسوں میں شراب کے کارخانوں کو دستیاب کرایا جاتا رہے گا۔ فاضل اناج کی معمول سے زیادہ کھپت سے اصولی طور پر کسانوں کو فائدہ ہوگا کیونکہ انھیں اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملے گی اور یقینی طور پر اس کے خریدار ملیں گے اور اس طرح ملک بھر میں کروڑوں کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

حکومت نے مکئی سے تیار ہونے والے ایتھنول کی قیمت 51.55روپے فی لیٹر اور ایف سی آئی کے پاس دستیاب چاول سے تیار ہونے والے ایتھنول کی قیمت 56.87 روپے فی لیٹر ، ایتھنول کی 2020-21 کے سال کے دوران فراہمی کے لئے مقرر کی ہے۔ مالی برس 2020-21 کے لئے حکومت نے ایتھنول کی پیداوار کے لئے ایف سی آئی  کے چاول کی قیمت 2000 روپے فی کوئنٹل برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے صنعت کو خام مال کی قیمت اور اس کی دستیابی کے بارے میں اعتماد حاصل ہوگا۔ ایتھنول کی پیداوار کے لئے فاضل چاول کی فراہمی کے مقصد سے،شراب کے کارخانوں کو اپنی ضرورت نیز لاجسٹک کے حساب سے قریب ترین ایف سی آئی کے ڈپو کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے۔ 2020-21 (ای ایس وائی ) کے رواں ایتھنول فراہمی کے سال (دسمبر سے نومبر)میں بلینڈنگ کا 8.5 فیصد حاصل کرنے کا ہدف مقررکیا گیا ہے کیونکہ او ایم سیز کو فراہم کرنے کے لئے تقریبا 325 کروڑ لیٹر ایتھنول کی ضرورت ہے۔ 26.04.2021 کو تقریبا 349 کروڑ لیٹر ایتھنول ،او ایم سیز کے ذریعہ ، چینی کے ملوں نیز شراب خانوں کے لئے مختص کیا گیا ہے جن میں سے شراب خانوں کے ذریعہ تقریبا 302 کروڑ لیٹر کے کانٹریکٹ پر دستخط کئے جاچکے ہیں اور 124 کروڑ لیٹرایتھنول فراہم کیا جاچکا ہے۔ ڈی ایف پی ڈی اور ایم او ای این جی نیز او ایم سیز کے ذریعہ کاوشیں جاری ہیں کہ بلینڈنگ کے ہدائف کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔ 2021-22 کے آئندہ برس میں ، توقع ہے کہ 10 فیصد بلینڈنگ کا ہدف حاصل کرنے کے لئے او ایم سیز کو 400 کروڑ لیٹر سے زیادہ ایتھنول کی فراہمی کی جائے گی۔

 موجودہ صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کے تناظر کے ساتھ ڈی ایف پی ڈی  نے 14.01.2021 کو سود میں مالی امداد فراہم کرنے کی تبدیل شدہ اسکیم نوٹیفائی کی تھی جس کا مقصد اناج پر مبنی نئے شراب خانوں کا قیام ، اناج پر مبنی موجودہ شراب خانوں کی توسیع ، دوہری بھیڑ والے شراب خانوں اور شیرے پر مبنی شراب خانوں کو ایتھنول پیدا کرنے اور دیگر آئی جی فیڈ کے اسٹاک سے ایتھنول تیار کرنے کی راہ ہموار کرنا۔42000 کروڑ روپے کی رقم کے قرضہ کے لئے 1684کروڑ لیٹر کی صلاحیت کے ساتھ 422 تجاویز کو ڈی ایف پی ڈی منظوری دے دی ہے۔ توقع ہے کہ منظور شدہ تجاویز سے آئندہ 2 سے چار برس میں 600 کروڑ لیٹر سے زیادہ پیداوار ہوسکتی ہے۔ لہذا ان پروجیکٹوں اور جاری پروجیکٹوں کی ایتھنول بنانے کی صلاحیت 2024-25 تک 1500 کروڑ لیٹر تک پہنچ سکتی ہے جو کہ 20 فیصد کے بلینڈنگ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے کافی ہوگی۔

اترپردیش ، مہاراشٹر اور کرناٹک وہ تین ریاستیں ہیں جہاں گنا اور ایتھنول زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ ان تینوں ریاستوں سے دور دراز کے علاقوں میں ایتھنول کے نقل وحمل پر وسیع لاگت آتی ہے۔ پورے ملک میں اناج پر مبنی نئی شراب کی فیکٹریوں کے قیام سے ایتھنول کی پیداوار کی بہتر تقسیم ہوگی نیز اس سے نقل وحمل کے خرچ میں بڑی تخفیف کی جاسکے گی اور اس طرح بلینڈنگ کے ہدائف کے حصول میں تاخیر کو ختم کرنے کے علاوہ ملک بھر میں کسانوں کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

ایتھنول کی پیداوار کے لئے فیڈ اسٹاک کی وافر دستیابی ہے اور سرکار نے بھی مختلف فیڈ اسٹاک پر مبنی ایتھنول کی بہتر قیمتیں مقرر کی ہیں۔ ایتھنول کے یقین خریدار کے طور پر او ایم سیز نے آئندہ 15-10 سال کے لئے شراب کی فیکٹریوں سے ایتھنول کی خریداری کی یقین دہانی کرائی ہے لہذا ایتھنول کے یہ تمام پروجیکٹ زیادہ پر امید ہیں۔ ماحولیات ، جنگلات اور تبدیلی آب وہوا کی وزارت نے بھی ایتھنول کے پروجیکٹوں کے لئے ماحولیاتی کلیئرنس (ای سی ) کے عمل کو سہل بنایا ہے۔ مالی خدمات کے محکمے اور بھارت کے اسٹیٹ بینک نے  معیاری آپریٹنگ ضابطہ (ایس او پی) بھی جاری کئے ہیں جن کا مقصد ایتھنول کے پروجیکٹوں کے لئے قرضوں کی منظوری اور ستیابی کرانا ہے جس سے قرضوں کی منظوری اور دستیابی میں تیزی آئے گی۔

ایتھنول کی پیداوار سے نہ صرف زیادہ گنے کی ایتھنول کو دستیابی ہوسکے گی بلکہ اس سے کسانوں کو خاص طور پر مکئی کی کھیتی کرنے کے لئے اپنی فصلوں کو متونع بنانے کی حوصلہ افزائی ہوگی جن میں کم پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس سے مختلف فیڈ اسٹاک سے ایتھنول کی پیداوار بڑھے گی لہذا یہ پیٹرول کے ساتھ ایتھنول کےہدائف کو حاصل کرنے کی راہ ہموار کرے گا جس سے خام تیل پر درآمدگی کے انحصار میں تخفیف ہوگی نیز آتم نربھر بھارت کا مقصد حقیقت کا روپ حاصل کرے گا۔ یہ  کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کرے گا کیونکہ نئی شراب کی فیکٹریوں کے قیام سے نہ صرف ان کی فصلوں کی مانگ میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے ان کی فصلوں کے لئے کسانوں کو بہتر قیمت بھی مل سکے گی ۔

****

 

U.No. 4119

م ن۔ ا ع ۔س ا



(Release ID: 1715473) Visitor Counter : 18


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Punjabi