سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
معزز شخصیات نے سائنس او رٹکنالوجی محکمے کے گولڈن جوبلی گفتگو سیریز میں ڈیٹا کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا
سائنس اور ٹکنالوجی محکمہ، ڈی ایس ٹی کے سکریٹری پروفیسر آشوتوش شرما نے کہا –آرٹی فیشنل انٹیلی جینس (مصنوعی ذہانت )- اے آئی کی شروعات ہوچکی ہے لیکن اس کی کوئی حد نہیں ہے اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید فروغ پائے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2021 12:05PM by PIB Delhi
نئی دہلی،1 اپریل 2021/ سائنس اور ٹکنالوجی محکمے( ڈی ایس ٹی)کی گولڈن جوبلی گفتگو سیریز میں معزز شخصیات نے آرٹی فیشنل انٹیلی جینس (اے آئی) کے ابھرتے ہوئے امکانات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ڈیٹا کو سمجھنے اور اسے کنٹرول کرنے سے ہندستان مستقبل کے لئے انہیں کیسے آپریٹ کرسکتا ہے۔
گفتگو سیریز کے ایک حصہ کے طور پر آرٹی فیشنل انٹلی جینس اینڈ فیوچر آف پاور موضوع پر منعقدہ ایک پروگرام میں سائنس اور ٹکنالوجی محکمے نے (ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر آشوتوش شرما نے کہا کہ ، ’’آرٹی فیشل انٹیلی جینس (اے ایل) نے بتایا کہ ’’لیکن یہ کوئی اختتام نہیں ہے اور یہ وقت کے ساتھ اور زیادہ فروغ پائے گی۔ اس پروگرام کا انعقاد وگیان پرسار سائنس اور ٹکنالوجی مواصلات کونسل نے مشترکہ طور سے کیا تھا۔
اس موقع پر پروفیسر شرما نے ڈیٹا کی صحیح سمجھ اور کنٹرول کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بتایاکہ ’’ہندستان نے روایتی طور سے خام مال کا منظم استعمال نہیں کیا ہے۔ آج ڈیٹا خام مال ہے، اور ہمیں اس کا صحیح استعمال کرنا چاہئے۔ ڈیٹا کی صحیح سمجھ، ڈیٹا کو شیئر کرنے اور ڈیٹا کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر شرمانے کہاکہ مستقبل میں ٹکنالوجی کے انٹی گریشن (مربوط) ہونے اور تبدیل ہونے کے متعلق ہے ۔ ڈی ایس ٹی پچھلے چار برسوں سے اے آئی کے بارے میں غوروخوض کررہا ہے اور اس نے سائبر مشن پر مبنی قومی مہم کے تحت ملک بھر کے مختلف علاقوں میں 25 الگ الگ مرکز بنائے ہیں۔
انفنیٹی فاؤنڈیشن کے راجیوملہوترانے جو آرٹی فیشل انٹیلی جینس اینڈ دی فیوچر آف پاور کتاب کے مصنف بھی ہیں، اے آئی یونیورس اقتصادی ترقی اور نوکریوں ، عالمی طاقت اور پاور اورمیٹافزکس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہاکہ اے آئی سبھی پر اثر ڈالنے والا ہے اور یہ ہر چیز کو متاثر کرے گا۔ یہ سماج ، نوکری ، فوجی، مستقبل کے تعلیمی نظام اور سبھی کو متاثر کرنے والا ہے انہوں نے بتایاکہ آرٹی فیشل اینٹلی جینس (اے آئی) ایپلی کیشن کی تعداد بے شمار ہے، اور مستقبل میں آرٹی فیشنل انٹیلی جینس کے ذریعہ ہی طے یا مقرر ہونے جارہا ہے ۔ جناب ملہوترا نے یہ بھی کہاکہ ہندستان کو آرٹی فیشنل انٹیلی جینس کو اپنی ترقی کو تیز کرنا چاہئے اور اپنے پروڈکٹس کا استعمال کرنے کے لئے اپنے پروڈکٹس کو بنانے کی بجائے اپنے ڈیٹا اور اپنے دماغ کا استعمال کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ، یہ خودانحصاری کی راہ اہموا کر ے گا۔

ش ح۔ ش ت۔ج
Uno-3285
(ریلیز آئی ڈی: 1709137)
وزیٹر کاؤنٹر : 135