وزارتِ تعلیم

مرکزی وزیر تعلیم نے یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل محترمہآڈرے ازولے کے ساتھ ملاقات کی

بات چیت کے دوران 2020 کے لیے قومی تعلیمی پالیسی اور کووڈ19عالمی وبا سے نمٹنے میں خاص طور پر تعلیم کے شعبہ میں بھارت کے جوابی اقدامات سمیت باہمی اہمیت کے وسیع شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا

جناب رمیش پوکھریال نشنک نے کہا ہے کہ حکومت ملک کے تعلیمی  منظر نامہ  میں اصلاحات، کارکردگی اور یکسر تبدیلی کرنے کے منتر پر کام کررہی ہے

وزیرموصوف نے کووڈ19 عالمی وبا کے دوران تعلیمی سال کا نقصان نہ ہونے کو یقینی بنانے کی غرض سے کیےگئے اقدامات کا اجاگر کیا

جناب رمیش پوکھریال نے کہا ہے کہ این ای پی-2020 کی سفارشات کوایس ڈی جی کے چوتھے مقصد ‘‘سبھی کے لیے تعلیم’’ کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے

یونیسکو کی ڈی جی نے کووڈ 19 سے نمٹنے میں بھارت کے اقدامات کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ یہ پیمانے اور تنوع کے لحاظ سے غیرمعمولی اقدامات ہیں

یونیسکو نے قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں اپنی مکمل مدد کی پیشکش کی ہے

Posted On: 25 MAR 2021 7:03PM by PIB Delhi

تعلیم کے مرکزی وزیر جناب رمیش پوکھریال ‘نشنک’ نے آج نئی دہلی میں یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل  محترمہ آڈرے ازولے کے ساتھ ورچوئل طورپر میٹنگ کی۔ انہوں نے بھارت-یونیسکو اشتراک سے متعلق معاملات کے ساتھ ساتھ قومی تعلیمی پالیسی کووڈ 19 سے نمٹنے میں خاص طور پر تعلیم کے شعبہ میں بھارت کے اقدامات سمیت باہمی اہمیت کے کلیدی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس میٹنگ میں اعلی تعلیم کے سکریٹری جناب امت کھرے، یونیسکو کے وفد اور وزارت کے سینئر عہدیداربھی موجود تھے۔

جناب پوکھریال نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم جناب نریندرمودی کی قابل  بصیرت قیادت کے تحت وزارت تعلیم، حکومت ہند نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ملک کے دور دراز ترین حصے کے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کویقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں انہوں نے ان اقدامات کا ذکر کیا جو پورے ملک کے بچوں کے لیے تعلیم جارے رکھنے کی غرض سے کیے گئے ہیں۔جیسے وزیر اعظم ای-وددیااسکیم کے تحت دیکشا (معلومات کے تبادلے کے لیے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ) پلیٹ فارم کا آغاز کیاگیا تھا تاکہ انٹرنیٹ تک رسائی والے بچوں کی تعلیم جاری رہ سکے۔ جب کہ ‘ایک کلاس-ایک چینل’ ‘‘پروگرام’’، ‘‘سونم پربھا’’ بغیر انٹرنیٹ کی رسائی والے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے شروع کیاگیا تھا۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بچوں  کا قیمتی تعلیمی سال ضائع نہ ہو، کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس کوششیں کی گئیں تھیں۔ انہوں نے دویانگ بچوں کے لیے ایک پہل ‘‘ڈیجیٹل طورپر قابل  رسائی تعلیمی نظام’’ (ڈی اے آئی ایس وائی)کاذکر کیا۔ انہوں نے طلبا،اساتذہ اور اہل خانہ کے لیے ان کی دماغی صحت اور جذباتی بہتری  کے لیے آن لائن نفسیاتی مدد فراہم کرنے کی خاطر حکومت کی پہل ‘‘منودرپن’’ کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل کی بدولت 12500 سے زیادہ بچوں کی مدد ہوئی ہے۔

وزیر موصوف نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کووڈ19 عالمی وبا کے دوران دنیا کے سب سے بڑے داخلہ جاتی امتحانات، تقریبا 23 لاکھ طلبا کے لیے  مقابلہ جاتی داخلہ امتحانات کامیابی سے اور محفوظ ماحول  میں کرائےگئے۔ عالمی وبا کے مشکل  دور کے دوران بھارت کے تعلیمی اداروں کے ذریعہ ادا کیے گئے  اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جناب پوکھریال نے کہا کہ ان اداروں نے کووڈ 19 سے درپیش چیلنجوں کومواقع  میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے اختراعی طریقے اختیار کرتے ہوئے کم لاگت والے ایک جگہ سےدوسری جگہ آسانی سے لے جانے والے وینٹی لیٹرس، سستے اور اے ون کی ماسک وغیرہ  بنائے۔ان اختراعات کی بدولت نہ صرف بھارت بلکہ 62 سےزیادہ ممالک میں بھی حفظان صحت سے متعلق سہولیات فراہم کرنے میں کافی مدد ملی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی 2 ویکسین سے نہ صرف بھارت میں کووڈ 19 سے نمٹنے میں مدد ملی بلکہ ان سے تمام دنیا کی بھی مدد ہوئی۔

وزیرموصوف نے زور دے  کر کہاکہ سال 2020 کو حکومت ہندکی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے لیے یاد کیاجائےگا۔ اس کا مقصد ملک کے 34 کروڑسے زیادہ طلبا کے لیے تعلیمی ایکو سسٹم کی  کایا پلٹ کرنا ہے۔ یہ برابری، مساوات، رسائی، قابل ذکر استطاعت اور قابل جوابدہی بنانے کی بنیادوں پر مبنی  ہے۔اس میں بھارت کوعلم کی ایک عالمی طاقت بنانے سے متعلق ہمارے وزیراعظم کے نظریہ اور ایک عالمی شہری تخلیق کرنے سے متعلق ان کے مشن کوپورا کرنے کی گنجائش  ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہند بھارت کے تعلیمی منظر نامہ میں اصلاحات، کارکردگی اور یکسر تبدیلی لانے کے منتر پر کام کررہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ این ای پی کا مقصد سال 2030 تک اسکول تعلیم میں 100فیصد جی ای آر حاسل کرنا ہے اور سال 2035 تک اعلی تعلیم میں 50 فیصد جی ای آر سے اضافی 3 کروڑ50 لاکھ طلبا اعلی تعلیم کے دائرے میں شامل ہوجائیں گے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت میں اعلی تعلیم میں جنسی مساوات کا  اشاریہ ایک سے تجاوز کرگیا ہے۔

انہوں نے یہ بات اجاگر کی کہ این ای پی-2020 کی سفارشات، ایس ڈی جی کے مقصد چار ‘سبھی کے لیے تعلیم’ کے عین مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ای پی کی سفارشات کے مطابق حکومت جلد ہی ایسی اسکولی نصاب کی کتابیں تیارکرے گی جن میں ماحولیات سے متعلق تعلیم پر زیادہ زور دیاگیا ہوگا۔

بھارت کی آزادی کے 75سال (آزادی کا امرت مہوتسو) کے یادگاری موقع کیاہمیت بیان کرتے ہوئے وزیرموصوف نے یونیسکو کے ہیڈکوارٹرس میں ان 75سالوں کےدوران بھارت کے سفر کو اجاگر کرنے والی ایک تقریب منعقد کرانے کی تجویزپیش کی۔یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ آڈرے ازولے نے کووڈ عالمی وبا کے چیلنجوں سے نمٹنے میں حکومت ہند کے اقدامات اور ملک کے آخری  طالب علم تک بھی ٹی وی، ریڈیو اور آن لائن وغیرہ کے مختلف وسیلوں کےذریعہ طلبا کو تعلیم فراہم کرکے کووڈ عالمی وباکے دوران تعلیمی سلسلے کوجاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہند کی ستائش کی ہے۔ انہوں نے رائے زنی کی کہ کووڈ سے نمٹنے میں بھارت کے اقدامات، پیمانے اور تنوع کے لحاظ سےغیر معمولی ہیں۔انہوں نے مرکزی وزیر سے درخواست کی کہ وہ بھارت کے تعلیمی شعبے سے متعلق بہترین طور طریقوں اور تجربات سے یونیسکو کے رکن ملکوں کو بھی واقف کرائیں۔انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی پیش کرنے کے لیے وزیرموصوف کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ پالیسی نظریاتی ہے اور اس میں تعلیمی شعبے کی کایا پلٹ کرنے کی صلاحیت ہے۔

انہوں نے تبصرہ کیا کہ انتظامی صلاحیتوں کا استحکام، سماجی، ذہنی تعلیم اور ماحولیات کے بارے میں بیداری وغیرہ جیسے  این  ای پی کے تحت اہم نظریات،طلبا کی ترقی کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔  یونیسکو کی جانب سے انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں مکمل حمایت کی پیشکش کی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۔ج ا ش ح ۔  ۔ع م )

U.NO. 3081



(Release ID: 1707728) Visitor Counter : 106