سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت

بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے دوران سبز نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے:گڈکری

Posted On: 24 MAR 2021 4:07PM by PIB Delhi

روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہ اور بہت چھوٹی ، چھوٹی اور درمیانی  صنعتوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے زور دے کر کہا ہے کہ ملک کو ترقی کی ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ایکو لوجی اور ماحولیات کو بھی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔’’فوکس آن گرین انفراسٹرکچر‘‘موضوع پر آج ورچوئل قومی سڑک اور شاہراہوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے سبز شاہراہوں کی کلیدی خصوصیات پر بات کی اور کہا کہ یہ شاہراہیں گرین ہاؤس گیس کے اخراج ، کاربن فُٹ پرنٹ کو کم کرنے اور غیر قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کام کررہی ہے۔

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کی قابل ذکر پہل، جو کہ ماحولیات دوست ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ پانی کی حفاظت کے لئے قدم اٹھائے گئے ہیں، جیسے کہ بارش کے پانی کی حفاظت اور قومی شاہراہوں کے کنارے مصنوعی زیر زمین واٹر ریچارج سسٹم۔ اس کے علاوہ  تمام  ٹول پلازہ کےلئے سولرپاور  کے استعمال کو لازمی بنایا گیا ہے۔وزارت نے سڑک اور پل کی تعمیر کے کام میں 10 فیصد پلاسٹک یا ربڑ کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ ماحولیاتی نقطہ نظر سے انتہائی ضروری ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ وزارت سڑک کی تعمیر میں رسّی اور جوٹ کے کارپیٹ کے استعمال کا منصوبہ بھی بنارہی ہے۔

جناب گڈکری نے کہا کہ این ایچ اے آئی میں گرین ہائی وے مشن کی تشکیل کی گئی ہے، جس کے تحت شاہراہوں کے کنارے شجر کاری کی جارہی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ موجودہ درختوں کو بچانے کےلئے انہیں منتقل کرنے کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ درختوں کی منتقلی کے لئے وزارت نے 1000ٹھیکہ داروں کو کام پر رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے، تاکہ ایک بھی درخت کو کاٹنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے تمام نفاذی ایجنسیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پلاننگ کی سطح پر جنگلی جانوروں کی تمام پناہ گاہوں ، قومی پارکو ں سے پرہیز کریں اور جہاں تک ممکن ہو سڑک کےلئے دوسرا راستہ اختیار کریں۔

جناب گڈکری نے کہا کہ حکومت 22گرین فیلڈ کوریڈور بنارہی ہے، جس میں 5 ایکسپریس ہائی ویز اور 17 ایکسس کنٹرول ہائی ویز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک روڈ کنکٹی وٹی کی بات ہے، گولڈن کواڈری لیٹرل پروجیکٹ ، این ایچ ڈی پی پروگرام، بھارت مالا، پی ایم جی ایس وائی، سیتو بھارتم اور ساگر مالا پروجیکٹ کے تحت ضروری کام کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے خاص طورسے دہلی –میرٹھ ایکسپریس وے کا ذکر کیا، جو اگلے دو مہینوں میں دونوں شہروں کے درمیان کی دوری موجودہ چار گھنٹے سے گھٹا کر صرف 45 منٹ کردے گا۔وزیر موصوف نے کہا کہ دہلی اور دہرادون کے درمیان کی دوری بھی گھٹاکر دو گھنٹے کی جائے گی، جو کہ اس وقت 7-6گھنٹے ہے۔انہوں نے چار دھام یوجنا کی تکمیل کی بھی بات کی، جس میں ہر موسم میں بدری ناتھ، کیدارناتھ، گنگوتری اور یمنوتری تک جانے والی سڑک شامل ہے، جس سے اتراکھنڈ میں سیاحت میں بھی اضافہ ہوگا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ وزارت سڑک اور پل کی تعمیر میں سیمنٹ اور اسٹیل کے استعمال کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کررہی ہے اور نئی ٹیکنالوجی اختیار کی جارہی ہے،جس میں اسٹیل اور سیمنٹ کا کم استعمال ہوگا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کےلئے ’فضلہ سے دولت‘اور’فضلہ سے توانائی‘ایک اہم اور دیر پا حل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی پر مبنی پبلک ٹرانسپورٹیشن سسٹم کو ترجیح دینے کےلئے کام کررہی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ اپریل 2020ء سے آج تک روزانہ 34 کلو میٹر کی شرح سے 12,205کلومیٹر قومی شاہراہ کی تعمیر ہوئی ہے۔

آپ ان کی پوری تقریر اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں: https://www.youtube.com/watch?v=URtXYlt-CvQ

 

*************

 

ش ح۔ق ت۔ ن ع

(25.03.2021)

(U: 3026)



(Release ID: 1707446) Visitor Counter : 2