امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

میرا راشن موبائل ایپ کی آج شروعات کی گئی

اس وقت 32 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا او این او آر سی کے تحت احاطہ کیا جاچکا ہے اور امید ہے کہ باقی چار ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا الحاق بھی اگلے چند مہینوں میں مکمل ہوجائے گا

اپریل 2020 سے فروری 2021 کے دوران او این او آر سی کے تحت کل ملا کر تقریباً 15.4 کروڑ پورٹیبلیٹی لین دین کا اندراج کیا گیا ہے:خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے سکریٹری

خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے محکمے کے سکریٹری نے ون نیشن ون راشن کارڈ (او این او آر سی) کے بارے میں ایک پریس بریفنگ کی

Posted On: 12 MAR 2021 4:33PM by PIB Delhi

نئی دہلی ،12مارچ ،2021، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم نیز صارفین کے امور کی وزارت  کے تحت خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے محکمے کے سکریٹری جناب سدھانشو پانڈے نے ’’ون نیشن ون راشن کارڈ‘‘ (او این او آر سی) منصوبے پر آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر سکریٹری صاحب نے میرا راشن موبائل ایپ کی شروعات بھی کی۔ اس ایپ سے خاص طور پر راشن کارڈ رکھنے والے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جو اپنی روزی روٹی کی وجہ سے نئی نئی جگہوں پر جاتے رہتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001AMN6.jpg

اس موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے  جناب پانڈے نے کہا کہ یہ سسٹم اگست 2019 میں ابتدائی طور پر چار ریاستوں میں شروع کیا  گیا تھا جو مختصر وقت میں دسمبر 2020 تک 32 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک پھیل چکا ہے اور امید ہے کہ باقی ماندہ چار ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں (آسام، چھتیس گڑھ، دہلی اور مغربی بنگال) کا الحاق بھی اگلے چند مہینوں میں مکمل ہوجائے گا۔ جناب پانڈے نے بتایا کہ اس وقت یہ نظام تقریباً 69 کروڑ این ایف ایس اے مستفیدین (این ایف ایس اے آبادی کا تقریباً 86 فیصد) کا احاطہ کرتا ہے اور  او این او آر سی کے تحت تقریباً ہر مہینے اوسطاً 1.6 سے لے کر 1.6 کروڑ پورٹیبلیٹی لین دین کا اندراج کیا جارہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00243RZ.jpg

جناب پانڈے نے  اپنی پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ او این او آر سی کووڈ-19 وبائی بیماری کے دوران  این ایف ایس اے مستفیدین کے لیے زبردست مددگار سروس ثابت ہوئی ہے۔ خاص طور پر  مائی گرینٹ افراد کے لیے جنھیں یہ اجازت تھی کہ وہ سبسڈی والا اناج لاک ڈاؤن/ بحران کے زمانے میں کسی بھی جگہ جاکر لے سکتے ہیں۔ کسی بھی  سستے اناج کی دوکان کا انتخاب کرنے کی سہولت پہلے حاصل نہیں تھی۔ اپریل 2020 سے فروری 2021 کے دوران او این او آر سی  کے تحت تقریباً 15.4 کروڑ پورٹیبلیٹی لین دین ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک مائی گرینٹ این ایف ایس اے  مستفیدین تک رسائی کا تعلق ہے یہ محکمہ دیگر وزارتوں/ محکموں کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ قائم کئے ہوئے ہے۔  انھوں نے کہا کہ مائی  گرینٹ پورٹل کو او این او آر سی سسٹم کے ساتھ مربوط کرنے کا کام  محنت اور روزگار کی وزارت کی مدد سے کیا جارہا ہے اور او این او آر سی کو ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے پی ایم سواندھی پروگرام کا ایک حصہ بنا دیا گیا ہے۔شرامک خصوصی ٹرینوں سمیت ریل گاڑیوں میں سفر کرنے والے  مائی گرینٹ لوگوں کے لیے آگاہی مہم  چلائی جارہی ہے۔(ریلوے اسٹیشنوں پر اے/ وی ایس کے اشتہارات اور اعلانات)۔ اس کے علاوہ اطلاعات ونشریات کی وزارت ،پریس انفارمیشن بیورو، مائی گو، بیورو آف آؤٹریچ اینڈ کمیونی کیشن کے ذریعے میڈیا پبلی سٹی چلائی جارہی ہے۔

پورے ملک میں 2400 ریلوے اسٹیشنوں پر آڈیوں اعلانات کے ذریعے ہندی اور علاقائی زبانوں میں زبردست آگاہی مہم چلائی جارہی ہے۔ 167 ایف ایم اور 91 کمیونیٹی ریڈیواسٹیشنوں (وزیر اعظم کے پیغام کے ساتھ)۔ بس اسٹیشنوں ، او این  او آر سی کے تحت تمام  ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کے بس اسٹیشنوں اور ریاستی ٹرانسپورٹ  بسوں میں بھی  اس سلسلے میں آگاہی مہم چلائی جارہی ہے۔ سستے اناج کی دوکانوں پر بینر اور پوسٹر لگا  کر نیز آؤٹ ڈور پبلی سٹی کے لیے اس سلسلے میں معلومات کو پھیلایا جارہا ہے۔ عوام تک  رسائی کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں مثلاٹوئٹر، یوٹیوب، مائی گو کا سرگرم استعمال کیا جارہا ہے۔ محکمے کی طرف سے وی سی  اور ویب کاسٹنگ کے ذریعے ضلع کی سطح کے افسران، فیلڈ کارکنوں اور سستے اناج کے ڈیلروں کے لیے تربیت  اور صلاحیت سازی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

 او این او ا ٓر سی اسکیم پر محکمے کی طرف سے نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) کے تحت راشن کارڈوں کی ملک گیر پورٹیبلیٹی پر عمل کیا جارہا ہے۔ اس نظام کے تحت تمام این ایف ایس اے مستفیدین کو خاص طور پر مائی گرینٹ مستفیدین کو یہ اجازت دی جاتی ہے کہ وہ ملک میں موجودہ راشن کارڈ کے ذریعے بغیر کسی پریشانی کے بایو میٹرک / آدھار کی تصدیق کے ذریعے سستے اناج کی کسی بھی دوکان سے اپنا پورا اناج یا اس  کاکچھ حصہ حاصل کرسکتے ہیں۔اس نظام کے تحت ان کنبے کے لوگ اگر گھر واپس جاتے ہیں تووہ اسی راشن کارڈپر اپنا بقیہ اناج حاصل کرسکتے ہیں۔

ڈی ایف پی ڈی، پی پی ٹی، او این او آر سی دیکھنے کے لیے یہا ں کلک کیجیے

او این او آر سی، پی پی ٹی ، موبائل ایپ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

*****

ش ح ۔اج۔را

U.No.2458



(Release ID: 1704483) Visitor Counter : 6