مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت

آتم نربھر بھارت کے تحت ایک اور اقدام-ٹیلی کام سیکٹر کیلئے پی ایل آئی اسکیم

پانچ برسوں میں 12195 کروڑ روپئے کے اخراجات کے ساتھ ٹیلی کام پروڈکٹس کو بڑھاوا ملےگا، جس سے 2.4 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کی پیداوار ہوگی

Posted On: 17 FEB 2021 3:14PM by PIB Delhi

نئی دہلی:17،فروری، 2021:حکومت ہند کے ذریعے مختلف شعبوں کو فراہم کی جارہی پی ایل آئی کی غیرمعمولی حوصلہ افزائی کے تحت مرکزی کابینہ نے آج ٹیلی مواصلات اور نیٹ ورکنگ پروڈکٹس کی پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) اسکیم کو منظوری دی۔

یہ منظوری موبائل اور اس سے منسلک اجزا کی پیداوار سے متعلقہ پی ایل آئی کی بیحد حوصلہ افزا کامیابی کو دیکھتے ہوئے دی گئی ہے۔ اس پی ایل آئی کا اعلان اپریل 2020 میں کووڈ وبا کے عروج کے دوران کیا گیا تھا۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 31 جولائی 2020 ہونے کے باوجود، اس اسکیم کو شاندار ردعمل حاصل ہواتھا۔ دنیا کے سبھی اہم موبائل سے منسلک اجزاء کے مینوفیکچرر بھارت میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے، برآمدات کی شروعات کرتے ہوئے اور ہزاروں ہندوستانیوں کو روزگار فراہم کرتے ہوئے یہاں اپنی مضبوط  موجودگی کی توسیع کررہے ہیں۔

کابینہ کے آج کے فیصلے نے بھارت کو کورٹرانسمیشن  آلات، 4جی/5کی نیکسٹ جنریشن ریڈیو ایکسیس نیٹ ورک اور وائرلیس آلہ، ایکسیس اینڈ کسٹمر پریمیسس اکویپمنٹ (سی پی ای)، انٹرنیٹ آف تھنگس (آئی او ٹی) ایکسیس ڈیوائس، دیگر وائرلیس آلات اور سوئچ، راؤٹروغیرہ جیسے انٹرپرائز آلات سمیت ٹیلی موصلات سے متعلق مختلف آلات کی مینوفیکچرنگ کا ایک عالمی مرکز بنانے کے آتم نربھر بھارت کے ایک دیگر مقصد کو پورا کیا۔

  1. اس اسکیم کو مینوفیکچررس، صنعتی لیڈروں اور تنظیموں کے رہنماؤں جیسے مختلف اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ وسیع تبادلہ خیال کے بعد حتمی شکل دی گئی۔
  2. اس اسکیم کا بنیادی جزو 50 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ قیمت کے ٹیلی مواصلات آلات کے بھاری بھرکم درآمدات کو کم کرتے ہوئے اس کی جگہ گھریلو بازاروں اور برآمدات، دونوں کیلئے ‘میڈ اِن انڈیا’ مصنوعات کو  فروغ دینا ہے۔
  3. اس اسکیم کی  اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
  1. اس اسکیم کے اخراجات پانچ برسوں کے لئے 12195 کروڑ روپئے  ہیں۔
  2. اس اسکیم کے لئے اہلیت کُل سرمایہ کاری میں مجموعی اضافے کی کم سے کم حد کی حصولیابی  اور خالص ٹیکسوں سے پیدا کردہ مال کی فروخت میں اضافے کے تحت ہوگی۔
  3. مالی سال 20-2019 کو خالص ٹیکسوں سے تیار کردہ سامان کی فروخت میں مجموعی اضافے کی گنتی کیلئے بنیادی سال کے طور پر مانا جائیگا۔
  4. ترغیبات کا ڈھانچہ درج ذیل ہوگا:۔
 

سال 1

سال 2

سال 3

سال 4

سال 5

ایم ایس ایم ای

7%

7%

6%

5%

4%

دیگر

6%

6%

5%

5%

4%

 

  1. بہت چھوٹی، چھٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کیلئے، سال 1، سال2 اور سال 3 میں ایک فیصد (1فیصد) زیادہ ترغیبات کی تجویز ہے۔
  2. بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کیلئے کم از کم سرمایہ کاری کی حد 10 کروڑ روپئے اور دوسری صنعتوں کیلئے 100 کروڑ روپئے رکھی گئی ہے۔
  3. ایک بار اہل قرار دیے جانے کے بعد، سرمایہ کاروں کو ان کی غیراستعمال شدہ صلاحیت کا استعمال کرنے کیلئے کم از کم سرمایہ کاری حد کے 20 گنا تک ترغیبات دی جائے گی۔
  4. یہ اسکیم یکم اپریل 2021 سے شروع ہوگی۔
  1. یہ اسکیم  بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) زمرے میں مقامی پیداوارکا بھی دھیان رکھتی ہے کیوں کہ  حکومت چاہتی ہے کہ ٹیلی مواصلات کے سیکٹر میں بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتیں (ایم ایس ایم ای) ایک اہم کردار نبھائیں اور قومی  چمپئن کے طور پر اُبھریں۔
  2. اس اسکیم سے 5برسوں میں لگ بھگت دو لاکھ کروڑ روپئے کی برآمدات کے ساتھ لگ بھگ 2.4 لاکھ کروڑ روپئے کی ترغیباتی پیداوار ہوگی۔ ایسی امید ہے کہ یہ اسکیم 3000 کروڑ روپئے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو راغب کرے گی اور وسیع پیمانے پر براہ راست اور بالواسطہ روزگار اور ٹیکس، دونوں پیدا کریگی۔

 

-----------------------

ش ح۔م ع۔ ع ن

U NO: 1670



(Release ID: 1698929) Visitor Counter : 4