وزارت خزانہ

شہری مقامی ادارہ جات (یو ایل بی) اصلاحات کو مکمل کرنے والی راجستھان پانچویں ریاست بنا

2731 کروڑ روپئے کا اضافی قرض لینے کی اجازت ملی

یو ایل بی اصلاحات نافذ کرنے والی پانچ ریاستوں کو اب تک 10212 کروڑ روپئے کا اضافی قرض لینے کی اجازت دی گئی ہے

Posted On: 28 JAN 2021 2:10PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  28/جنوری 2021 ۔ راجستھان شہری مقامی ادارہ جات (یو ایل بی) اصلاحات کو کامیابی کے ساتھ نافذ کرنے والا ملک کی پانچویں ریاست بن گیا ہے۔ یہ اصلاحات وزارت خزانہ محکمہ اخراجات کے ذریعے طے کردہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان اصلاحات کے متعلق اضافی قرض حاصل کرنے کا اہل ہوگیا ہے۔ اس کے مطابق محکمہ اخراجات کے ذریعے ریاست کو کھلے بازار سے قرض کے ذریعے 2731 کروڑ روپئے کو اضافی مالی وسائل جمع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

راجستھان کے علاوہ چار دیگر ریاستوں، آندھراپردیش، مدھیہ پردیش، منی پور اور تلنگانہ نے بھی اس سے قبل شہری مقامی اصلاحات کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے۔ ان اصلاحات کو نافذ کرنے پر ان پانچ ریاستوں کو 10212 کروڑ روپئے کا اضافی قرض لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ اضافی قرض کی اجازت کی ریاست وار رقم حسب ذیل ہے:

نمبر شمار

ریاست

رقم (کروڑ روپئے میں

1.

آندھرا پردیش

2,525

2.

مدھیہ پردیش

2,373

3.

منی پور

75

4.

راجستھان

2,731

5.

تلنگانہ

2,508

 

شہری مقامی اداروں اور شہری سہولتوں میں بہتری کا ہدف ریاستوں نے شہری مقامی اداروں کو مالی شکل میں مضبوط اور شہریوں کو بہتر عوامی صحت اور صفائی خدمات دستیاب کرنے کا اہل بنانا ہے۔ اقتصادی اعتبار سے مضبوط شہری مقامی ادارے بہتر شہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرنے کے بھی اہل ہوں گے۔

ان مقاصد کے حصول کے لئے محکمہ اخراجات کے ذریعے طے کردہ اصلاحات ہیں:

  1. ریاستیں نوٹیفائی کریں گی:
  1. شہری مقامی اداروں میں جائیداد ٹیکس کی بنیادی شرحیں جو کہ موجودہ سرکل ریٹ (جائیداد کے لین دین کے لئے رہنما شرحیں) کے موافق ہوں، اور
  2. پانی کی سپلائی، نکاسی، سیوریج کے انتظامات کے متعلق یوزر چارج کی بنیادی شرحیں جو موجودہ لاگت / سابقہ افراط زر کو ظاہر کرتی ہیں۔
  1. ریاست، جائیداد ایکٹ / یوزر چارجیز کی بنیادی شرحوں میں ویلیو ایڈیشن کے مطابق وقتاً فوقتاً اضافہ کرنے کے لئے نظام وضع کرے گی۔

اس کے علاوہ کووڈ-19 کی وبا کے سبب وسائل جمع کرنے کے چیلنج کے پیش نظر بھارت سرکار نے 17 مئی کو ریاستوں کے لئے قرض لینے کی حد میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ اس کے تحت ریاستیں اپنی مجموعی گھریلو پیداوار کے 2 فیصد کے برابر قرض لے سکیں گی۔ اس میں نصف سرمایہ اکٹھا کرنے کی سہولت ریاست کے ذریعے شہریوں کی سہولتوں کے لئے کئے گئے اصلاحی اقدامات سے مربوط ہوگا۔ ریاستوں کو اپنی مجموعی گھریلو پیداوار کی 0.25 فیصد کی رقم اکٹھا کرنے کی اجازت ہر شعبے میں اصلاحات کی تکمیل پر ملے گی۔

اصلاحات کے لئے مقررہ چار شہریوں پر مرکوز شعبے اس طرح ہیں:

  1. اس کے تحت ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام کا نفاذ
  2. کاروبار میں آسانی سے متعلق اصلاحات
  3. شہری مقامی ادارہ / یوٹیلٹی میں اصلاح
  4. توانائی کے شعبے میں اصلاح

اضافی مالی وسائل کے ایک حصے کو جٹانے کو اصلاحات کے ساتھ متعلق کرنے سے چار شہریوں پر مرکوز سہولتوں کے شعبے میں ریاستوں کے ذریعے کی جانے والی اصلاحات  کو رفتار ملی ہے۔ اب تک 11 ریاستوں نے ایک قوم ایک راشن کارڈ کے نظام کو نافذ کیا ہے۔ 8 ریاستوں نے کاروبار کو آسان بنانے کے متعلق اصلاحات کو اپنایا ہے۔ 5 ریاستوں نے مقامی ادارہ جات میں اصلاحات کی ہیں اور ایک ریاست نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی تکمیل کی ہے۔ اصلاحات کو نافذ کرنے والی ریاستوں کو اب تک اصلاحات کے متعلق اضافی قرض کی مجموعی طور پر 65493 کروڑ روپئے پر مشتمل رقم کی اجازت دی گئی ہے۔

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO. 910



(Release ID: 1693087) Visitor Counter : 75