قبائیلی امور کی وزارت

ٹرائیفیڈ مختلف وزارتوں اور محکموں کے ساتھ اشتراک کرکے قبائلی مصنوعات کی جی آئی ٹیگنگ کرے گا

Posted On: 01 JAN 2021 5:03PM by PIB Delhi

نئی دلّی  ،  یکم جنوری، 2021 /

کووڈ-19 وبائی  امراض کی وجہ سے غیر معمولی چیلنجز کے درمیان اس وقت پوری توجہ ’ووکل فار لوکل‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘  کی تعمیر پر ہے۔ ہندوستان ،دیسی مصنوعات،  خواہ وہ  دستکاری ہو،  ہینڈلوم  ہویا کوئی اور دیسی مصنوعات کی ایک خوشحال وراثت ہے۔ ملک بھر میں قبائلی گروپ صدیوں سے جن چیزوں کی پیداوار کررہے ہیں،  نیشنل نوڈل ایجنسی کی صورت میں، کنفیڈریشن آف ٹرائبل کو آپریٹو مارکیٹنگ ڈویلپمنٹ آف انڈیا (ٹرائیفیڈ) بڑے پیمانے پر ان دیسی مصنوعات کی مارکیٹنگ کرنے اور دیسی مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے بڑے پیمانے پر کام کررہا ہے۔ اسی تناظر میں دیسی مصنوعات کے جغرافیائی اشارے یا جی آئی ٹیکنگ نے اس سے بھی زیادہ اہمیت حاصل کرلی ہے۔

A picture containing text, person, personDescription automatically generatedMapDescription automatically generated

ٹرائیفیڈ نے، وزارت قبائلی امور نے لال بہادر شاستری نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اکیڈمی،  وزارت ثقافت،  صنعت و اندرونی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے فروغ کے محکمے،  وزارت کامرس،  بھارتی ڈاک، وزارت ثقافت اور وزیراعظم کے دفتر کے  فعال تعاون اور حمایت کے ساتھ قبائلی مصنوعات کی جی آئی آئی  ٹیکنگ  کے کی ذمہ داری لی ہے۔ ان مصنوعات کی جی آئی ٹیگنگ کے ساتھ ساتھ ان ہی کے برانڈ کے طور پر اس کی شناخت بنانا اور ان کی تشہیر کرکے قبائلی کاریگروں کو بااختیار بنانے کی علامت کے طور پر بھی قائم کرنے کا نشانہ ہے۔ ان اقدام سے صدیوں پرانی قبائلی  روایت اور طور طریقوں کی شناخت کرنے اور ان کی ترویج کرنے میں مدد ملے گی جن پر شہر کاری اور صنعت کاری کی وجہ سے معدوم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

 وزارت ثقافت کے مشوروں سے ٹرائیفیڈ نے ملک بھر میں 8 وراثتی مقامات کی شناخت کی ہے، جہاں جی آئی کے مخصوص  ٹرائب انڈیا اسٹور قائم کئے جائیں گے۔ ان 8 وراثتی مقامات  سارناتھ (اترپردیش)، ہمپی (کرناٹک) اور قلعہ گول کنڈہ (تلنگانہ) میں جلد ہی  کام شروع ہونے کی امید ہے۔ وزارت ثقافت کے تعاون سے دہلی کے لال قلعہ میں ایک ڈیزائنر لیب کے قیام کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے،  جس میں چنندہ قبائلی کاریگر اپنی خوشحال  دستکاری کی روایت کا براہ راست مظاہرہ کریں گے۔ آندھرا پردیش کے پوچم پلی، جو اپنے بہترین  ایکت کپڑے کے مقبول عام ہے، کو دوسرے مقام  کے طور پر  منتخب کیا گیا ہے، جہاں ڈیزائنر ہب قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں فی الحال شروعاتی کام جاری ہے۔ براہ راست مظاہرہ مرکز کے علاوہ اس شہر کو ٹیکسٹائل ہب کے طور پر بھی قائم کرنے کی تجویز پیش کی جارہی ہے۔

’آدی مہوتسو فیسٹول‘جن کا آغاز 2017 میں کیا گیا تھا، کے ذریعے ٹرائیفیڈ کی ملک بھر میں قبائلی سماج کی متومل اور متنوع دستکاری، ثقافت اور کھانوں سے لوگوں کو متعارف کرانے کی ایک کوشش ہے۔ اب فروری 2021 میں وزارت ثقافت کے تعاون سے لال بہادر شاستری  نیشنل ایڈمنسٹریشن اکیڈمی (ایل بی ایس این اے اے)، مسوری میں جی آئی مخصوص آدی مہوتسو کے انعقاد کی تجویز ہے۔

صنعت و دیسی تجارت کے فروغ کے محکمے  (ڈی پی آئی آئی ٹی)، وزارت کامرس نے 370 جی آئی ٹیگ مصنوعات کی شناخت کی ہے، جن میں 50 سے  کاتعلق خالص قبائلی  ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹرائب انڈیا اپنے وسیع نیٹ ورکنگ کے ذریعے ان سبھی 370 جی آئی مصنوعات کی مارکیٹنگ ور تشہیر کرے گا۔ جی آئی کے تحت 50  مقامی مصنوعات کو رجسٹرڈ کرنے کے لئے ایک منصوبہ بنایا گیا ہے اور انہیں ٹرائیفیڈ کے موجودہ نیٹ ورک آف آؤٹلیٹس اور ای کامرس پلیٹ فارم کے ذریعے   تشہیر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تشہیر کے لئے مزید 50 اشیاء کی شناخت کرنے کی کوششیں  جاری ہیں۔

جنوی 2021 میں منعقد ہونے والی ایک نمائش میں بھارتی ڈاک محکمہ  اور مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ان اشیا ء کی بھی  تشہیر کی جائے گی۔ محکمہ ڈاک 6 جی آئی اشیا ء پر ڈاک ٹکٹ تیار کررہا ہے ۔ جن کا اس  ٹکٹ جمع کرنے کی نمائش میں مظاہرہ کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ون دھن  وکاس مراکز سے انڈیا پوسٹ کو لاکھ اور گوند کی  سپلائی کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

قبائل ہماری آبادی کا  8 فیصد سے زیادہ ہیں، پھر بھی وہ سماج کے پسماندہ طبقات میں آتے ہیں۔ مرکزی دھارے میں  شامل ہونے کے ان کے تئیں  ایک غلط نظریہ ہے کہ ان لوگوں کو سکھانے اور مدد کی ضرورت ہے۔ جبکہ درحقیقت قبائلی برادری شہری بھارت کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔  قدرتی سادگی سے متاثر، ان کی  تخلیقات میں  لازوال اپیل ہوتی ہے۔ دستکاری کی وسیع رینج جس میں ہاتھ سے بنے ہوئے سوتی ، ریشمی کپڑے، اون،  دھات کی دستکاری، ٹیراکوٹا، موتی کا کام شامل ہیں۔ ان سب کو محفوظ رکھنے اور اس کی ترویج کرنے کی ضرورت ہے۔

A picture containing text, fabricDescription automatically generatedA picture containing text, indoor, severalDescription automatically generated

جغرافیائی اشارے (جی آئی) عالمی تجارتی تنظیم سے تسلیم شدہ ہے۔  اس کا استعمال اس جغرافیائی خطے کی نشاندہی کرنے کے لئے کی جاتی ہے جہاں کوئی پروڈکٹ تیار کیا جاتا ہے۔ یہ زرعی، قدرتی یا مینوفیکچر پروڈکٹ ہوسکتا ہے جس کسی خاص علاقے میں اپنے مخصوص صفت یا خصوصیت کے لئے جانا جاتا ہو۔ بھارت اس کنونشن میں دستخط کنندہ بن گیا جب عالمی تجارت تنظیم  کے رکن کے طور پر اس نے جغرافیائی اشارے (رجسٹریشن اور پروٹیکشن ایکٹ)، 1999 کو قانون کی شکل دی، جو 15 ستمبر 2003 سے نافذالعمل ہوا۔

 ٹرائیفیڈ قبائلیوں کو بااختیار بنانے کے لئے کام کرنے والی نوڈل ایجنسی کے طور پر ان کی زندگی اور روایات کے طور طریقوں کو تحفظ دینےکا کام کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قبائلیوں کی آمدنی ور ان کے معاش کو بہتر بنانے کا کام بھی  کررہی ہے۔ ٹرائیفیڈ اب جی آئی ٹیگ والی دیسی مصنوعات کے لئے اپنا دائرہ بڑھا رہی ہے۔

 اپنے ان مؤثر منصوبوں کے ساتھ ’’ووکل فار لوکل، قبائلی مصنوعات خریدیں‘‘ کا وسیع نظریہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ملک میں قبائلیوں کے لئے پائیدار آمدنی مہیا کرنے اور روزگار کے شعبوں میں واقعتاً تبدیلی آئے گی۔ امید ہے کہ ٹرائیفیڈ کی یہ اور دیگر کاوشیں ان برادریوں کی معاشی بہبود کو قابل بنائں گی اور ان کو قومی دھارے میں شامل ہونے والی ترقی کے قرییب تر لائیں گی۔

 ٹرائیفیڈ کی ٹیم سبھی کے لئے ایک خوشحال اور صحت مند سال نو 2021 کے لئے نیک خواہشات پیش کرتا ہے۔

*****

 

م ن۔ ن ر

U NO:35



(Release ID: 1685650) Visitor Counter : 187


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Tamil