نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

نائب صدرِ جمہوریہ نے ملک میں ڈجیٹل خواندگی کو فروغ دینے کے لئے عوامی تحریک پر زور دیا

معلومات آج کی سب سے اہم شئے ہے اور ڈجیٹلائزیشن معلومات تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے : نائب صدر جمہوریہ

نائب صدرِ جمہوریہ نے کہا ہے کہ وباء کے بعد بھی آن لائن تعلیم جاری رہے گی

نائب صدرِ جمہوریہ نے آدی شنکرا ڈجیٹل اکیڈمی کا ورچوول طریقے سے آغاز کیا

Posted On: 27 NOV 2020 1:59PM by PIB Delhi

 

نئی لّی ، 27 نومبر  / نائب صدرِ جمہوریۂ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے  ڈجیٹل خواندگی کو فروغ دینے کے لئے عوامی تحریک پر زور دیا ہے اور  تمام تکنیکی اور تعلیمی اداروں  سے کہا ہے کہ وہ   اس کوشش میں اہم رول ادا کریں  ۔

          آدی شنکرا چاریہ کے پیدائش  کے مقام کلادی  میں آدی شنکر ڈجیٹل اکیڈمی کا ورچوول لانچ کرتے ہوئے نائب صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ معلومات آج کے  دور کی  اہم شئے ہے  اور  جو بھی  جلد از جلد معلومات تک رسائی حاصل کرے گا ، اسے فائدہ ہو گا ۔  انہوں نے  اس طرح کی معلومات کے لئے ڈجیٹلائزیشن کو  اہم وسیلہ قرار دیا ۔

          کووڈ – 19 وباء کی وجہ سے  غیر معمولی رکاوٹوں  کی طرف  توجہ  مرکوز کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ   اس نے   لاکھوں  طلباء کو اسکول بند ہونے کی وجہ سے کلاس روم سے  باہر کر دیا ہے  اور عالمی برادری  آن لائن تعلیم اپناکر  اس چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

          انہوں نے کہا کہ  ٹیکنا لوجی  درس و تدریس  میں تبدیلی   کا موقع  فراہم کرتی ہے  اور انہوں نے  تعلیمی طریقۂ کار  کو مسلسل  جدید بنانے  کی ضرورت  پر زور دیا   ، جو  تیزی سے بدلتی ہوئی  ٹیکنا لوجی کے پیش نظر  نئے دور کی  مانگ   کو پورا کر سکے ۔

          آن لائن تعلیم  کے کئی فوائد  گناتے ہوئے ، نائب صدر نے کہا کہ اِس سے دور دراز کے علاقوں میں معیاری  اور سستی تعلیم  تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے   ، یہ  ذاتی آموزش کے تجربے  کی اجازت دیتی ہے اور خاص طور پر  کام کرنے والے  پیشہ ور افراد اور گھروں میں رہنے والی خواتین   کے لئے مدد گار ہے ، جو  ریگولر کورس میں شریک نہیں ہو سکتے ۔

          نائب صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ان فوائد کی وجہ سے  امید ہے کہ آن لائن تعلیم  وباء کے بعد کے دور میں  بھی  ترجیحی  طریقے کے طور پر  جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے   کہ کووڈ – 19 وباء نے تعلیم کے منظر نامے کو  ہمیشہ کے لئے بدل دیا ہے  ۔

          اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کووڈ – 19 سے پہلے  بھی تعلیم میں ٹیکنا لوجی اپنائی جا رہی تھی ، جناب نائیڈو نے کہا کہ عالمی  ایڈ ٹیک سیکٹر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور یہ  نہ صرف  طلباء کے لئے  بلکہ تعلیم فراہم کرنے والوں کے لئے بھی  وسیع مواقع فراہم کرتی ہے ۔  انہوں نے  نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ  آگے آئیں اور  اِس سیکٹر  کے امکانات  کو حاصل کرنے کے لئے اختراعات کریں ۔

          اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کووڈ – 19 وباء نے ہمیں   یہ سکھایا ہے کہ منفی حالات میں بھی  سماجی  - اقتصادی عمل  کس طرح جاری رہے ، انہوں نے کہا کہ  اس تجربے نے  کئی سوال اٹھائے ہیں  کہ ڈجیٹل طریقے کو اپنانے کے لئے  کتنے  لوگ تیار ہیں ۔ بنیادی ڈھانچے کی دستیابی  ، کمپیوٹر اور اسمارٹ فون  جیسے  آلات کی  دستیابی  اور  انٹرنیٹ  کی اسپیڈ  اور دستیابی  جیسے  چیلنج بھی سامنے آئے ہیں ۔

          البتہ  ، نائب صدرِ جمہوریہ نے  متنبہ کیا کہ  آن لائن تعلیم   کیا دے سکتی ہے اور کیا نہیں  ، اس کے بارے میں حقیقی  نظریہ اپنانا چاہیئے ۔

          عظیم پریم جی یونیورسٹی  کے ایک حالیہ  مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے جناب نائیڈو نے اِس بات کو اجاگر کیا  کہ   اساتذہ اور والدین کی ایک بڑی اکثریت  سمجھتی ہے  کہ تعلیم کا آن لائن طریقۂ کار نا کافی اور کم موثر ہے ۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ ایسا آن لائن طریقۂ کار کو اپنانے میں  جلد بازی  کی وجہ سے ہو سکتا ہے ۔

          اسکولوں میں کلاسوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسکول  ، طلباء کو  سماجی طور طریقے اپنانے  کا موقع فراہم کرتا ہے  اور ان میں اقدار اور  ڈسپلن پیدا کرتا ہے ۔ 

          اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ قدیم گروکل نظام میں گرو اور شیشیہ کے درمیان  براہِ راست ایک تعلق قائم کیا جاتا تھا   ، نائب صدر نے کہا کہ  ایک قابل گرو سے  قربت  بچوں میں  قدر پر مبنی  اور جامع تعلیم  کی فراہمی کے لئے بہت اہم  ہے ۔  اس لئے جناب نائیڈو  نے ایک ایسا تعلیمی ماڈل  تیار کرنے پر زور دیا   ، جس میں  طلباء  کے مجموعی فروغ کے لئے   کلاسیں  آن لائن اور آف لائن دونوں طرح سے منعقد کی جائیں ۔

          انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ  رٹنے  سے پڑھائی کا طریقۂ کار ختم ہونا چاہیئے اور  طلباء میں تنقیدی فکر  ، تصور  اور اختراعات  کو  فروغ دینا چاہیئے ۔

          دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان موجود ڈجیٹل فرق کو   مٹانے پر زور دیتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ انٹر نیٹ  کنکٹیویٹی کو یقینی بناکر  آن لائن تعلیمی بنیادی ڈھانچے کے لئے  پالیسی فیصلے کئے جانے چاہئیں ۔

          جناب نائیڈو نے  اس بات کا ذکر کرتے ہوئے  کہ انسانی تہذیب  اختراعات  پر منحصر ہے اور  آلات کا استعمال  زندگی گزارنے میں آسانی اور آسائش  کے لئے ہوتا ہے ،  جناب نائیڈو نے کہا کہ  سائنس اور ٹیکنا لوجی نے  ہمارے طرز زندگی میں زبردست تبدیلی پیدا کی  ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈجیٹلائزیشن آج کے دور کی زندگی   کا اصل نظام ہے ۔ ای – ایجو کیشن ، ای – ہیلتھ ، ای – کامرس ، ای – حکمرانی  آج  حقیقت میں  تبدیل ہو چکی ہیں ۔

          ملک کو  چوتھے صنعتی انقلاب   کے لئے تیار کرنے اور شہریوں کو ٹیکنا لوجی کے ذریعے با اختیار بنانے کے لئے   ڈجیٹل انڈیا   کی ستائش کرتے ہوئے  ، انہوں نے کہا کہ خاص مقصد ہر ممکن طریقے سے  طرز زندگی کو بہتر بنانا ہے ۔ 

          عالمی وباء کی وجہ سے ہمارے معمولات  میں رکاوٹ  آنے کے بعد مختلف شعبوں میں  ڈجیٹل ٹیکنا لوجی  کے  استعمال کے بارے میں بات کرتے ہوئے نائب صدر نے  ڈجیٹل سماعت اور  مقدمات  کو نمٹانے کے لئے  بھارتی عدلیہ کی ستائش کی ۔

          انہوں نے مزید کہا کہ  ای – میڈیسن نے سرکاری  خدمات   کی ای – ڈلیوری  میں  ایک نیا مقام  حاصل کر لیا ہے ۔ 

          عالمی بینک کے  ، اس تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے  کہ انٹر نیٹ   تک رسائی میں اضافے سے  جی ڈی پی  میں اضافہ ہوتا ہے ،  جناب نائیڈو نے کہا کہ  اس سے  اختراعات کے ذریعے ٹیکنا لوجی اور   اس کے عمل میں بہتری  کے امکانات  کا اظہار ہوتا ہے ۔

          ملک میں ایک برابری والے ڈجیٹل نظام  کے قیام پر  زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ   حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کو ایک ڈجیٹل  بھارت کے لئے  مشترکہ طور پر  کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

 نائب صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ڈجیٹل ٹیکنا لوجی کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لئے ڈجیٹل   وسائل رکھنے والوں  اور نہ رکھنے والوں کے درمیان   خلیج  کو پُر کرنا ضروری ہے ۔

          ڈجیٹل تعلیم کو فروغ  دینے کے لئے  حکومت کے  کئی ڈجیٹل  اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی  ( این ای پی ) 2020 آموزشی نتائج  کو بہتر بنانے میں  ٹیکنا لوجی کو مربوط  کرنے پر زور دیتی ہے ۔  انہوں نے امید  ظاہر کی کہ ڈجیٹل تعلیم پر   یہ  زور  بھارت کو  تعلیم اور اختراعات کا ایک عالمی  مرکز بنانے میں  اہم رول ادا کرے گا ۔

          انہوں نے  کل کے لیڈروں کی پرورش کے لئے آدی شنکرا  گروپ آف انسٹی ٹیوشن  کی ستائش کی اور امید ظاہر کی کہ آدی شنکرا ڈجیٹل اکیڈمی  (اے ایس ڈی اے  ) لوگوں کو آن لائن تدریس فراہم کرنے میں  عوام کی توقعات پر پوری اترے گی ۔

          اس موقع پر آدی شنکرا ٹرسٹ کے  مینجنگ ٹرسٹی جناب کے آنند ، سی ای او اور ایڈمنسٹریٹر سی آر گوری شنکر ، ای – درونا لرننگ کی ڈائریکٹر محترمہ چترا اور دیگر شخصیات موجود تھیں ۔

         

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا )

U. No. 7618

 



(Release ID: 1676560) Visitor Counter : 15