جل شکتی وزارت

جل جیون مشن سے مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع کے مجھگواں خورد میں خراب پانی کی سپلائی کی وجہ سے خواتین کو کئی دہائیوں سے ہونے والی مشقت اور تکلیف سے نجات مل جائے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 OCT 2020 4:18PM by PIB Delhi

نئی دہلی،20 اکتوبر     

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0019SQF.jpg

جل جیون مشن کی پابندی کرتے ہوئے مدھیہ پردیش میں چھترپور ضلع کے بجاور بلاک کے مجھگواں خورد کی کمیونٹی نے ولیج ایکشن پلان مرتب کیا ہے جس کا مقصد  خواتین کی اس مشقت اور پریشانی کو دور کرنا ہے جو وہ کئی دہائیوں سے اس علاقے کے پانی کی خراب صورت حال کی وجہ سے برداشت کر رہی ہیں۔ جل جیون مشن کی خاص بات  منصوبہ بندی کی جامع حکمت عملی میں کمیونٹی کی شرکت، مقامی کمیونٹی اور گرام پنچایتوں کو بااختیار بنانا اور کمیونٹی کو اپنا رول ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس سے مقامی کمیونٹی میں ملکیت کا احساس پیدا ہوتا ہے، اعتماد کا ماحول قائم ہوتاہے اور شفافیت پیدا ہوتی ہے جس سے ملک میں پانی کی فراہمی کے سیکٹر میں بہتر عملد رآمد اور طویل مدتی حکمت عملی  میں مدد ملتی ہے۔

مجھگواں خورد کی آبادی 1652 افراد پر مشتمل ہے جن کا اصل پیشہ کھیتی باڑی ہے۔ یہ گاؤں اپنی تمام ضرورتوں کے لیے 100 فیصد زیر زمین پانی پر انحصار کرتا ہے۔ زیر زمین پانی کا وسیلہ پینے کے پانی کے لیے دسمبر سے فروری تک بہت کم ہوجاتا ہے کیونکہ زیادہ تر پانی کی مقدار گیہوں کی  کھیتی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ گرمی کے موسم میں جون کے مہینے میں زیر زمین پانی کی سطح سب سے کم ہوجاتی ہے۔ فراہم پانی کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے اس مہینے میں پانی کا بحران پیدا ہوجاتا ہے۔

ولیج ایکشن پلان اس جائزے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے جو گرام پنچایت میں موجودہ آبی وسائل، ہینڈ پمپوں کی تعداد کو شمار کرنے اور خراب پڑے ہوئے نل کے کنکشنوں کی تعداد معلوم کرنے کے  لیے کرایا گیا تھا۔ گاؤں میں صرف 20 فیصد گھروں میں پائپ کے ذریعے پانی آتا ہے اور 8 ہینڈ پمپوں کو گاؤں میں پانی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ولیج ایکشن پلان میں خراب پڑے ہوئے نل کے کنکشنوں کی تفصیل فراہم کی گئی اور جائزے کی بنیاد پر خراب پڑے ہوئے نلوں کی مرمت کے لیے فنڈ مختص کیے گئے۔ کمیونٹی نے ایک معمولی ٹیوب ویل تعمیر کرنے، ایک پمپ سیٹ لگانے، اوور ہیڈ ٹینک کی حفاظت کے لیے احاطے کی دیوار تعمیر کرنے اور بجلی کی فراہمی کی گنجائش کا انتظام کیا۔ عوامی صحت اور انجینئرنگ کے محکمے کے حکام نے مقامی کمیونٹی کو تکنیکی تفصیلات فراہم کیں۔ گرام پنچایت کے ممبروں کو مطلع کیا گیا کہ جل جیون مشن کے تحت 55 ایل پی سی ڈی پانی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی جائے گی۔

گاؤں والوں نے گرے واٹر بندوبست کا بھی منصوبہ بنایا کیونکہ  یہ بات سامنے آئی کہ ہر گھر کو جو پانی فراہم کیا جائے گا اس کا 60-70 فیصد گرے واٹر میں تبدیل کردیا جائے گا جس کا انتظام انفرادی سوکٹس کے ذریعے کیا جائے گا۔ جن مکانوں میں سوکٹس تعمیر کرنے کی جگہ نہیں ہےان کے لیے منصوبے کے تحت کمیونٹی سوکٹس تیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ ولیج ایکشن پلان میں مویشیوں کی ناندے لگانے،ایسی جگہ قائم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے جہاں سب مل کر کپڑے دھو سکیں اور نہانے کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

حکومت کی طرف سے تین مہینے کی آزمائش کے بعد پانی کی فراہمی کے ڈھانچے کا انتظام گرام پنچایت/ گاؤں کی پانی اور حفان صحت کی کمیٹی کے سپرد کردیا جائے گا جو  گرام سبھا کی طرف سے طے کردہ  کچھ پیسے کمیونٹی سے وصول کرنے کے لیے ذمہ دار ہوگی۔ گرام سبھا نے اپنی میٹنگ میں ایک تجویز منظور کی تھی کہ مجھگواں خورد کے لوگ مشن کے تحت قائم کیے گئے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی ، عملدرآمد، آٖریشن اور دیکھ ریکھ کی ذمہ داری اٹھائیں گے۔ اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ گاؤں کا ہر شخص اسکیم کے تحت قائم کی گئی  پانی کی سہولت کا خیال رکھے گا اور اس کی حفاظت کرے گا۔ کوئی شخص پانی کے وسیلے کو گندا نہیں کرے گا اور اس بات کا عہد کرے گا کہ وہ ٹیپ کا پانی ہر گھر میں پہنچنے کے بعد پیدا ہونے والے گرے واٹر کا انفرادی طور پر بندوبست کرے گا اور پینے کے پانی کی حفاظت کرے گا۔

***************

م ن۔ اج ۔ ر ا   

U:6559   


(ریلیز آئی ڈی: 1666225) وزیٹر کاؤنٹر : 211