جل شکتی وزارت

جل جیون مشن کے تحت گرام پنچایتوں کی تربیت ڈیجیٹل ہوگئی ہے

Posted On: 11 JUL 2020 6:08PM by PIB Delhi

نئی دہلی،11 جولائی،  جل شکتی کی وزارت اگست 2019 سے ریاستوں کے ساتھ مل کر جل جیون مشن پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ اس کا مقصد ملک میں 2024 تک ہر دیہی گھر کو نل کے کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) فراہم کرنا ہے۔اس کے تحت دیہی عوام کی زندگی میں بہتری لانا اور  حکومت کے عہد کے تحت مساوات اور شمولیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ کوئی بھی بنیادی سہولتوں سے محروم نہ رہے۔ دیہی مکانوں میں کھانا پکانے کی گیس، بیت الخلاء، مالی شمولیت اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات جیسی سہولتیں فراہم کرنے میں کامیابی کے بعد حکومت اب ہمارے گاؤوں میں ہر مکان کو پینے کا محفوظ پانی فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

دیہی طبقے کو با اختیار بنانے پر توجہ دیتے ہوئے جیسا کہ آئین کی 73ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جل جیون مشن نےاپنے ذمے یہ کام لیا ہے کہ وہ پانی کی اسکیموں کی  منصوبہ بندی، بندوبست، عمل درآمد، آپریشن اور دیکھ بھال میں مقامی کمیونٹی کو شامل کیا جائے جس سے ان کے اندر نہ صرف یہ کہ ‘ملکیت اور ذمے داری’ کا احساس پیدا ہوگا بلکہ اس سے طویل مدتی تسلسل میں بھی مدد ملے گی۔

اس غیر مرتکز مانگ کے مطابق، کمیونٹی کے انتظام میں چلائے جانے والے پروگرام میں مقامی گاوں کی کمیونٹی / گرام پنچایتیں (جی پی ایس) اور / یا اس کی ذیلی کمیٹی/ یوزر گروپ ایک اہم رول ادا کریں گے۔اس رول کا تعلق گاؤوں میں پانی کی سپلائی کی منصوبہ بندی ، عمل درآمد، بندوبست، آپریشن اور دیکھ ریکھ میں ہے۔اس کا مقصد پینے کے پانی کی مسلسل فراہمی کے حصول میں طویل مدتی تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ گرام پنچایت یا اس کی ذیلی کمیٹی یعنی ولیج واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمیٹی (وی ڈبلیو ایس سی)یا پانی سمیتی، پنچایت کے دس پندرہ منتخب افراد پر مشتمل ہوگی۔ یہ تعداد سمیتی کی کُل تعداد کا 25 فیصد ہوگی۔ پچاس فیصد خاتون ممبر ہوں گی اور باقی 25 فیصد ا ٓبادی کے لحاظ سے گاوں کے کمزور طبقوں کے  نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔

اس مشن کے لیے گرام پنچایتوں یا ذیلی کمیٹی کو مقامی طبقوں کی مدد سے گاؤں کے لائحہ عمل (وی اے پی) بنائے جانے کی ضرورت ہوگی۔ یہ منصوبہ مقامی افراد کی شرکت اور انھیں متحرک کرکے ہر گاوں میں بنایا جائے گا۔ اس میں خاص توجہ پینے کے پانی کے وسائل کو مستحکم بنانے، گاوں کے اندر پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے، گرے واٹر ٹریٹمنٹ اور دوبارہ استعمال نیز پانی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال  پر دی جائے گی تاکہ ہر کنبے کو پینے کے پانی کی وہ مقدار حاصل ہوسکے جس کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

وبائی بیماری کی صورت حال کے دوران پانی کی فراہمی اور حفظان صحت کے محکمے، پانی کی فراہمی اور حفظان صحت کی مدد کرنے والی تنظیم (ڈبلیو ایس ایس او) اور عثمان آباد ضلع کےڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینی ٹیشن مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) نے یونیسیف ، مہاراشٹر اور  ‘ارگھیام’ میں 6 سے 8 جولائی 2020 کے دوران ایک آن لائن ورکشاپ کا انعقاد کیا تاکہ  دونوں ایجنسیوں کی تکنیکی مدد سے گاوں کا لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔

گاوں کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے عثمان آباد کی 100 گرام پنچایتوں کو آن لائن تربیت فراہم کی گئی۔ عثمان آباد ریاست کے ترقی کرنے کے متمنی سماجی اور اقتصادی طور پر اضلاع میں سے ایک ہے۔اس ورکشاپ کا مقصد دیہی ، پانی کی فراہمی بشمول لائن ڈپارٹمنٹ اور گرام پنچایت کا کام کرنے والے (سرپنچ گرام سیوک یا جل سرکشک) سمیت ساجھے داروں کی  سمجھ بوجھ اور صلاحیت میں اضافہ کرنا تھا۔

وبائی بیماری کے حالات میں 100 گرام پنچایتوں کو تربیت دینے کے لیے فریم ورک تیار کرنا ایک چیلنج بھرا کام تھا لیکن  ڈیجیٹل ذریعے سے اس منصوبہ بندی کو کامیاب کیا گیا۔ اس کے لیے تقریبا 100 گرام پنچایتوں کی نشان دہی کی گئی اور ضلع سطح کے ایسے اہلکاروں کی ایک جامع فہرست تیار کی گئی جنھیں ماسٹرٹرینر کے طور پر تربیت دینی تھی۔ ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں کو اس کی تازہ تفصیلات سے  واقف کرنے کے لیے ایک گروپ تشکیل دیا گیا۔ پروگرام میں شامل ماہرین اور ضلع کے عملے کی طرف  سے ضروری ڈاٹا امداد اور ٹیکنالوجیکل امداد فراہم کی گئی۔ گرام پنچایتوں کو جل جیون مشن گاوں کے لائحہ عمل کی اہمیت اور اس کے طریقہ کار کے جائزے کے لیے آن لائن کلاسوں کا انتظام کیا گیا۔ اس کے علاوہ گرام پنچایتوں کو یہ تربیت بھی دی گئی کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا مؤثر طور پر استعمال کریں تاکہ وقت کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھا جاسکے۔

ورکشاپ کے ہر اجلاس میں آڈیو ویژول اور حوالہ جاتی میٹیریل کا استعمال کیا گیا جو ریسورس تنظیموں نے تیار کیا تھا۔ مقالے اور ویڈیو جے ایم ایم رہنما خطوط اور کووڈ-19 کے ضابطوں کو ذہن میں رکھ کر  تیار کیے گئے تھے۔ ریسورس میٹیریل جس میں مقالے اور ویڈیوز بھی شامل تھے، انھیں تربیت کے آخر میں تمام شرکت کرنے والوں کو دکھایا گیا۔

ضلع نے تین بلاکوں سے 100 گرام پنچایتوں (جی پی ایس) کا انتخاب کیا ہے۔ بلاکس، کالمب (30 جی پی ایس) عثمان آباد (35 جی پی ایس) اور تلجا پور (35 جی پی ایس) تقریباً 287 شرکاء نے جن میں 86 گرام سیوک اور 100 سرپنچ نیز جل سرکشک شامل تھے،ورکشاپ میں شرکت کی۔

جل جیون مشن کے تحت گرام پنچایت یا اس کی ذیلی کمیٹی کو ایک ‘ذمے دار اور جواب دہ’ مقامی سطح کی ‘پبلک یوٹیلیٹی’ کے طور پر بااختیار بنایا جارہا ہے۔ اس میں توجہ خدمات کی فراہمی یعنی  پینے کے پانی کی مناسب مقدار اور متعین معیار میں باقاعدہ اور طویل مدتی بنیاد پر فراہمی پر دی جارہی ہے۔

****************

م ن۔ اج ۔ ر ا

U:3846



(Release ID: 1638155) Visitor Counter : 23