کابینہ

خلائی شعبے میں تاریخی اصلاحات کی شروعات

خلائی سرگرمیوں میں پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت کی منظوری دی گئی

Posted On: 24 JUN 2020 4:20PM by PIB Delhi

نئی دہلی،24 جون،         مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں جس کی صدارت وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کی، آج خلائی سیکٹر میں دور رس اصلاحات کی منظوری دی جس کا مقصد تمام خلائی سرگرمیوں میں پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ فیصلہ بھارت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے اور ملک کو خود کفیل نیز ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ترقی یافتہ بنانے کے وزیر اعظم کے طویل مدتی وژن کے مطابق کیا گیا ہے۔

بھارت ان چند ملکوں میں شامل ہے جس کے پاس خلائی سیکٹر میں جدید صلاحیتیں موجود ہیں ان اصلاحات سے اس سیکٹر کو نئی توانائی اور ڈائنامزم ملے گی جس سے ملک خلائی سرگرمیوں کے ا گلے مرحلوں میں چھلانگ لگائے گا۔

اس سے نہ صرف یہ کہ اس سیکٹر میں تیز رفتاری سے ترقی ہوگی بلکہ بھارتی صنعت عالمی خلائی معیشت میں ایک اہم ساتھی بھی بن جائے گی۔اس طرح ٹیکنالوجی سیکٹر میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور بھارت ایک عالمی ٹیکنالوجی پاور ہاؤس بن جائے گا۔

اہم فوائد:

خلائی سیکٹر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور ہماری صنعتی بنیاد کے پھیلاؤ میں ایک بڑے مددگار کا رول ادا کرسکتا ہے۔ مجوزہ اصلاحات سے خلائی ورثوں اور سرگرمیوں کے ذریعے خلائی ورثوں، ڈاٹا اور سہولتوں تک بہتر رسائی بھی شامل ہے۔ خلا کا سماجی اقتصادی استعمال بڑھ جائے گا۔

نو تشکیل شدہ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھورائیزیشن سینٹر (آئی این- ایس پی اے سی ای) پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے مددگار ثابت ہوگا کہ وہ بھارتی خلائی بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرسکیں۔ یہ مرکز ہمت افزائی کی پالیسیوں اور دوستانہ انضباطی ماحول کے ذریعے  خلائی سرگرمیوں میں پرائیویٹ صنعتوں کو فروغ دے سکے گا اور ان کی رہنمائی کرسکے گا۔

سرکاری سیکٹر کا ا دارہ ‘نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل)’ خلائی سرگرمیوں میں نئی جان ڈالنے کی کوشش کرے گااور اس طرح ہمارے خلائی  ورثوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

ان اصلاحات کے ذریعے اسرو کو تحقیق وترقی کی سرگرمیوں، نئی ٹیکنالوجیوں، تلاش کے مشنوں  اور انسان بردار خلائی پروازوں کے پروگرام پر توجہ دینے   میں مدد ملے گی۔ سیاروں کی تلاش کے بعض مشن ‘موقع کے اعلان’ کے میکانزم کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹر کے لیے بھی کھل جائیں گے۔

****************

م ن۔ اج ۔ ر ا

U:3482



(Release ID: 1634153) Visitor Counter : 37