زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

زراعت کے مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے اپنے مقصد کے ایک حصے  طور پر مگس بانی کو فروغ دے رہی ہے

حکومت نے آتم نربھر ابھیان  کے تحت مگس بانی کے لئے 500 کروڑ روپے مختص کئے ہیں: جناب نریندر سنگھ تومر

شہد کی پیداوار کے معاملے میں  ہندوستان دنیا کے پانچ اعلی ترین شہد پیدا کرنے والے ملکوں میں شامل ہے

Posted On: 22 MAY 2020 6:12PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  22 مئی 2020،     زراعت کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر  جناب نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے اپنے مقصد کے ایک حصے  طور پر مگس بانی کو فروغ دے رہی ہے۔ نیشنل کو آپریٹیو ڈیولپمنٹ کارپوریشن  (این سی ڈی سی) کے ذریعہ منعقدہ ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے جناب تومر نے کہا کہ  حکومت نے آتم نربھر ابھیان  کے تحت مگس بانی کے لئے 500 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  شہد کی پیداوار کے معاملے میں دنیا کے پانچ اعلی ترین شہد پیدا کرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔ سال 06۔2005 کے مقابلے میں شہید کی پیداوار  میں 242 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور  کی برآمدات میں 265 فیصد کا اضاف ہوا ہے۔

جناب تومر نے کہا کہ شہد کی برآمدات میں فروغ سے ظاہر ہوتا ہے کہ  سال 2024 تک  کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے  مقصد کو حاصل کرنے میں  شہد کی اہم حصے داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ  نیشنل بی بورڈ  نے  مگس بانی اور شہد پیدا کرنے کے قومی مشن (این بی ایچ ایم)  کے ایک حصے کے طور پر  تربیت دینےکےلئے 4 ماڈیول تیار کئے ہیں اور  30 لاکھ کسانوں کو مگس  بانی کی تربیت دی ہے۔ حکومت بھی ان کی مالی  طور پر  ان کی مدد  کررہی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت مگس بانی کو فروغ دینے کے لئے کمیٹی کی سفارشات کو نفاذ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں حکومت نے  ‘سویٹ ریوولیوشن ’ کے ایک حصے کے طور پر ‘ہنی مشن’ شروع کیا ہے، جس کے چار حصے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مگس بانی میں چونکہ سرمایہ کاری بہت کم ہے اور فائدہ بہت زیادہ اس لئے چھوٹے اور بہت چھوٹے کسان بھی  مگس بانی کرسکتے ہیں۔

ویبینار میں خطاب کرتے ہوئے اتراکھنڈ کے کارپوریشن کے وزیر  ڈاکٹر  ڈھان سنگھ راوت  نے آرگینک شہد کی پیداوار کو قومی دھارے کی سطح پر لانے کے ریاستی حکومت کے عزم  کا اظہار کیا ۔انہوں نے ہنی مشن میں  تبدیلیاں  کرنے کی ضرورت کا بھی ذکر کیا ۔این سی ڈی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر جناب سندیپ کمار نائک نے مگس بانی کے کو آپریٹیوز کی ترقی اور خواتین گروپوں کے فروغ میں گزشتہ برسوں مین این سی ڈی سی  کے رول  کے بارے میں بتایا۔

شیر کشمیر یونیورسٹی  آف ایگریکلچرسائنس اینڈ ٹکنالوجی ، کشمیر کے وائس چانسلر  پروفیسر نذیر احمد نے  کشمیری شہد  کی منفرد خصوصیات کا ذکر کیا جو کہ دنیا  کے بہترین  شہدوں   مثلاً نیوزی لینڈ کا مانوکا کے برابر  سمجھا جاتا ہے۔ یو این  ایف اے او  کے نمائندے جناب  ٹومیو  شی چیری نے شہد کی برآمدات کے معاملے میں کوالٹی ایشیوریسن کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ مغربی بنگال کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر ایم وی راؤ نے  خواتین کے گروپوں کے ذریعہ آرگینک شہد اور  جنگلی شہد  کی پیداوار برانڈنگ اور مارکیٹنگ  کو فروغ دینے  کے سلسلے میں اپنی حکومت کے  بڑے اقدامات کا ذکر کیا۔ہارٹی کلچر کمشنر آف انڈیا  ڈاکٹر بی این ایس مورتی نے نئے مشن میں  اختراعات  کے بارے میں بتایا۔

مگس بانوں کو درپیش مسائل مثلاً  سائنسی طریقے سے مگس بانی کا فروغ، کوالیٹی ایشیورینس   کم از کم امدادی قیمت ، شہد کی مکھیوں کی کالونیوں  کا ٹرانسپورٹ، پروسیسنگ ، پیکیجنگ ، برانڈنگ ، ٹیسٹنگ، شہد اور  شہد کی مکھی کے چھتے  کی دیگر پیدوار کے آرگنینک سرٹی فکیشن  پر بی بات چیت ہوئی۔ کشمیر ،مغربی بنگال، اتراکھنڈ، بہار، کیرلا،  تمل ناڈو، کرناتک، اترپردیش، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش کے کامیاب مگس بانوں اور صنعت کاروں نے اس موقع پر اپنے تجربات  سے دوسروں کو واقف کرایا اور  سویٹ  ریوولیوشن  لانے کے لئے   آگے کے طریقہ کار کے مشورے بھی پیش کئے۔

گزشتہ روز اس ویبینار کا انعقاد این سی ڈی سی نے  نیشنل  بی بورڈ ،حکومت مغربی بنگال ، حکومت اترا کھنڈ اور شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹکنالوجی، کشمیر  کی شراکت داری میں کیا۔ اس کا موضوع ‘‘سویٹ ریوولیوشن اور آتم نربھر’’   تھا۔ اس کا مقصد بے زمین دیہی غریبوں  ، چھوٹے اور بہت چھوٹے کسانوں  کی زراعتی آمدنی   میں اضافے کے لئے روزگار کے ایک ذریعہ کے طور پر اور  زرعی اور باغبانی کی پیداوار  میں اضافے کے ایک  ذریعہ کے طور پر  بھی   سائنسی طریقے  سے  مگس بانی   کو مقبول بنانا  تھا۔ اس میں  شہد کی پیدوار کرنے والی  اہم ریاستوں  کے مگس بانوں ، شہد کی پروسیسنگ کرنے والوں ، مارکیٹنگ اور برانڈنگ پروفیشنلس، ریسرچ اسکالرس  اور ماہر تعلیم  ، کو آپریٹرس، ریاستی اور مرکزی حکومت کے نمائندوں، بین الاقوامی تنظیموں جیسے ایف اے او اور این ڈی ڈی اے سی، بینکاک نے شرکت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

م ن۔  ا گ۔ن ا۔

U-2767

                          



(Release ID: 1626541) Visitor Counter : 50