وزارت خزانہ

بینکنگ شعبے میں اصلاحات کو ترجیح جاری رہے گی


بیمہ کوریج میں جمع ہونے والی رقم کو فی ڈیپوزیٹر پانچ لاکھ روپئے تک بڑھایا جائے گا

پی ایف آر ڈی اے آئی ترمیمات : سرکاری ملازمین کے لئے علیحدہ این پی ایس ٹرسٹ

ایل آئی سی کے شعبے میں سرکاری ہولڈنگ کے ایک حصے کو فروغ کرنے کی تجویز جو آئی پی او کے توسط سے عمل میں آئے گی: خوردہ سرمایہ کاروں کے لئے مواقع

ایم ایس ایم ای پر توجہ : بیجک فائنسنگ ، ذیلی قرض ، برآمداتی امداد اسکیموں کا اعلان

حکومت نے 31 مارچ 2021 تک ایم ایس ایم ای کے لئے آر بی آئی کو قرض تشکیل نو ونڈو کی توسیع پر غور کرنے کے لئے کہا

قومی بنیادی ڈھانچہ پائپ لائن کے لئے 103 لاکھ کروڑ روپئے : 22 ہزا ر کروڑ روپئے مساوی سرمایہ حصص کے توسط سے حاصل ہوں گے تاکہ بنیادی ڈھانچہ سے متعلق سرمایہ کمپنیوں کو فراہم کیا جا سکے

سونے کی بہتر قیمت حاصل کرنے اور روزگار کی فراہمی کے لئے بین الاقوامی شیئر ایکسچینج کوگفٹ –آئی ایس ای میں بدلنے کی تجویز

کارپوریٹ بانڈوں میں ایف پی آئی کی حدود آؤٹ اسٹینڈنگ اسٹاک کے سلسلے میں 9 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کی گئی

سرکاری تمسکات کے سلسلے میں نیا قرض – ای ٹی ایف متعارف کرانے کی تجویز



پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 FEB 2020 2:24PM by PIB Delhi

          مالیاتی شعبے کے لئے پونجی آمد کا راستہ ہموار کرنے  کی غرض سے خزار اور کمپنی امور کی وزیر نے بینکنگ کے شعبے ، مالی منڈیوں اور بنیادی ڈھانچہ سرمایہ فراہمی کے شعبوں میں متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ آج پارلیمنٹ میں 21-2020 کا مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے خزانہ اور کمپنی امور کی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ معیشت کے لئے ایک صاف ستھرا ، معتبر اور مضبوط مالی شعبہ  ازحد اہم ہوتا ہے۔ 5 کھرب امریکی ڈالر کے بقدر کی معیشت بننے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالیاتی ڈھانچہ ترقی پذیر ہونا چاہئے اور اسے قدم با قدم آگے بڑھنا چاہئے۔

نجی پونچی کا راستہ ہموار کرنے کے لئے محترمہ سیتا رمن نے تجویز رکھی کہ آئی ڈی بی آئی بینک میں موجود حکومت ہند کی بقایا ہولڈنگ کو اسٹاک ایکسچینج  کے ذریعے نجی ، خوردہ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو فروخت کیا جانا چاہئے اور اس کےساتھ ہی ساتھ بینکوں کو مستحکم بنانے اور سرکاری دائرے کار کے بینکوں کے شعبے میں تین لاکھ 50 ہزار کروڑ روپئے کی رقم  بطور پونجی فراہم کرائی جانی چاہئے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکمرانی کی اصلاحات جاری رہیں تاکہ انہیں زیادہ مسابقتی شفاف اور پیشہ ورانہ شکل دی جا سکے اور اس کے ذریعے ایک مضبوط بینکنگ نظام قائم ہو سکے۔ سرکاری دائرۂ کار کے چند بینک ایسے ہوں گے جنہیں  اضافی پونچی بہم رسانی کے لئے  پونجی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے  حوصلہ افزائی فراہم کرائی جائے گی۔

اس کے علاوہ وزیر موصوفہ نے اعلان کیا کہ ڈپوزٹ انشورنس کوریج کو فی ڈپوزیٹر ایک لاکھ روپئے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپئے کرنے کی غرض سے ڈپوزٹ انشورنس اور کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن  ( ڈی آئی سی جی سی ) کو اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام درج فہرست کاروباری بینکوں کی صحت پر نظر رکھنے کے لئے ایک مضبوط میکانزم قائم ہے اور اس کے توسط سے جمع کرائی گئی رقم کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

امدادی باہمی پر مبنی بینک اور این بی ایف سی بھی مالی شعبے میں اہم عناصر ہیں جنہیں بہتر حکمرانی کے ذریعے مستحکم بنانئے جانےکی ضرورت ہے۔ امداد باہمی کے بینکوں کے سلسلے میں ان کا دائرہ ٔ کار بڑھانے کے لئے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ میں ترامیم کی گئی ہیں تاکہ پونجی کی آمد میں اضافہ ہو سکے اور آر بی آئی کے توسط سے ان کے دائرہ کار میں اضافہ ہو سکے ۔ ڈیٹ ریکوری میکانزم کے لئے مستحق قرار دیئے جانے کی غرض سے این بی ایف سی کی حدود  کو ایس اے آر ایف اے ای ایس آئی  ایکٹ 2002 کے توسط سے گھٹا کر موجودہ پانچ سو کروڑ روپئے کے اثاثہ سائز کی حدود سے 100 کروڑ روپئے یا موجودہ ایک کروڑ سے گھٹا کر پچاس لاکھ روپئے کر دیئے گئے ہیں۔

پی ایف آر ڈی اے آئی  کے ریگولیٹری کردار کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  وزیر خزانہ نے پی ایف آر ڈی اے آئی ایکٹ میں ضروری ترامیم کی تجاویز پیش کی ، جو پی ایف آر ڈی اے آئی کے سلسلے میں سرکاری ملازمین کے لئے این پی ایس ٹرسٹ کو علیحدہ کرے گی۔  اس کے توسط سے سرکار کے علاوہ ملازمین از خود ایک پنشن ٹرسٹ قائم کر سکیں گے۔  مزید برآں حکومت کی تجویز یہ بھی ہے کہ انٹر آپریبلیٹی اور جمع کی گئی رقم کے تحفظ کے میکانزم سے الگ ہٹ کر  یونیورسل  پنشن کوریج میں آٹو انرولمنٹ  متعاف کرایا جائے۔موصوفہ نے کہا کہ مجھے پورا یقین  ہے کہ اس قدر مجھ سے شہری اپنی ضعیفی عمر کے لئے بہتر طور پر منصوبہ بندی کر سکیں گے۔

بہت چھوٹے ،چھوٹے اور درمیانی شعبے کی صنعتی اکائیاں(ایم ایس ایم ای )

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایم ایس ایم ای معیشت میں اہم حیثیت رکھیتی ہیں کیونکہ یہ اختراع کار ہوتی ہیں ، روزگار فراہم کرتی ہیں اور رزق بھی اٹھاتی ہیں۔ ایم ایس ایم ای  کی قدر و قیمت اور مالی ہمہ گیری بڑھانے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔

  • ریگولیشن ایکٹ 2011 کو اہمیت دینے کے لئے ٹی آر ای ڈی ایس ترامیم کی تجویز لائی گئی ہے تاکہ ایم ایس ایم ای میں بیجک فائننسنگ کی توسیع ہوسکے یعنی این بی ایف سی ایسا  کرسکیں۔ اس کے علاوہ وزیرموصوفہ نے اعلان کیا کہ ایپ پر مبنی بیجک فائننسنگ قرض فراہم کرائے جائیں تاکہ  تاخیری ادائیگیوں کا مسئلہ حل ہوسکے اور اس کے نتیجے میں نقد آمدنی میں عدم مماثلت کا خاتمہ ہوسکے۔
  • ایم ایس ایم ای صنعتکاروں کو ذیلی قرض فراہم کرنے کی ایک نئی اسکیم کی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ کام کاج کی پونجی سے متعلق قرض کا مسئلہ حل ہوسکے۔ معاون قرض جو بینکوں کے ذریعے فراہم کریا اجائے گا وہ نیم مساوی سرمایہ حصص کے طور پر شمار کیا جائے گا اور درمیانے اور چھوٹے صنعت کاروں کے کے لئے کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ کے تووسط سے کلی طور پر ضمانت یافتہ ہوگا جس کے بنیادی سرمایے کا انتظام حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔
  • حکومت نے آر بی آئی سے کہا ہے کہ وہ 31 مارچ 2021 تک ایم ایس ایم ای کے لئے قرض تشکیل نو ونڈو کی توسیع پر غور کرے۔ 5 لاکھ سے زائد ایم ایس ایم ای اداروں نے آربی آئی کی جانب سے منظور شدہ قرض کی تشکیل نو سے گزشتہ سال اضافہ کیا ہے اور یہ سہولت 31 مارچ 2020 کو ختم ہوجائے گی۔
  • درمیانہ سائز کی کمپنیوں کے لئے جو برآمداتی منڈیوں میں مصروف عمل ہیں، انہیں سرپرستی فراہم کرننے کی غرض سے حکومت نے ایک ہزار کروڑ روپے کے بقدر کی اسکیم لانے کی تجویز رکھی ہے تاکہ اسے ایکزم بینک اور سڈبی کے توسط سے نافذ کیا جاسکے۔ ہر دونوں ادارے اپنی اپنی جانب سے 50-50 کروڑ روپے کا تعاون دیں گے۔ اس طریقے سے مساوی سرمایہ حصص کے طور پر 100 کروڑ روپے حاصل ہوجائیں گے یعنی یہ تکنیکی امداد ہوگی۔ جبکہ 900 کروڑ روپے بینکوں سے قرض فنڈنگ کے طور پر حاصل کئے جائیں گے۔ اس اسکیم کے تحت منتخبہ شعبوں مثلاً ادویہ، موٹر گاڑی کے پرزوں اور دیگر سازو سامان ،  پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور اس کے توسط سے ٹیکنالوجی کو تاحال بنانے، تحقیق و ترقیات، کاروباری حکمت عملی وغیرہ کو تقویت حاصل ہوگی۔ 

سرمایہ نکاسی

مالیاتی منڈیوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل کرنے کی غرض سے،  صحیح قدر و قیمت  حاصل کرنے اور منڈی میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لئے حکومت نے ایل آئی سی میں اپنی ہولڈنگ یا حصص داری کے ایک حصے  کو ابتدائی سرکاری پیش کش (آئی پی او ) کے توسط سے فروخت کرنے کی تجویز رکھی ہے۔  خوردہ سرمایہ کاروں کو اس وجہ سے یہ موقع حاصل ہوگا کہ وہ اس طرح فراہم ہونے والے سرمایے میں حصص دار بن سکیں گے۔

بنیادی ڈھانچہ سرمایہ فراہمی

وزیرخزانہ نے حکومت کی اس عہد بندگی کو نمایاں کرکے پیش کیا جس کے تحت بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی جانی ہے اور 103 لاکھ کروڑ روپے کی رقم  قومی بنیادی ڈھانچہ پائپ لائن پروجیکٹوں میں لگائی جانی ہے۔ انھوں نے ایوان کو مطلع کیا کہ اس مقصد کے لئے 22،000 کروڑ روپے پہلے فراہم کرائے جاچکے ہیں۔   اس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچہ مالیاتی کمپنیوں مثلاً آئی آئی ایف سی ایل، اور اس کی ذیلی اکائی این آئی ایف کو مساوی سرمایہ حصص امداد حاصل ہوجائے گی، جو اس کو برائے کار لائیں گی۔ جہاں تک اجازت ہے وہاں تک 1،00،000 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری پائپ لائن فراہم کرے گی۔

آئی ایف ایس سی کے مضمرات کا ذکر کرتے ہوئے جی آئی ایف ٹی سٹی تکنیکی سرمایہ کاری کا ایک مرکز بن سکتا ہے اور یہاں اعلیٰ سطحی معیار کی  اعدادو شمارپروسیسنگ بھی ممکن ہوسکتی ہے، محترمہ سیتا رمن نے تجویز رکھی ہے کہ عالمی منڈی مندوبین کی جانب سے اضافی متبادل کے طور پر  ایک بین الاقوامی بلین ایکسچینج جی آئی ایف ٹی- آئی ایف ایس سی میں قائم کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ بہتر طلائی قیمت تلاش کی جاسکے گی، بہتر طور پر روزگار مواقع بھارت میں فراہم ہوں گے۔ وزیر موصوفہ نے کہا کہ جی آئی ایف ٹی- آئی ایف ایس سی کو پہلے ہی  ہاؤسنگ والٹس کے لیے فری ٹریڈ زون کے طور پر منظوری دی جاچکی ہے۔  19 انشورینس کے ادارے، 40 بینکنگ ادارے اور قیمتی دھاتوں کو ٹیسٹ کرنے والی تجربہ گاہیں اور ریفائننگ سہولتیں قائم کی جارہی ہیں۔

 مالیاتی منڈیاں

توقعاتی نمو حاصل کرنے کی غرض سے وزیرخزانہ نے مالی نظام میں پونجی کی آمد کو بڑھاوا دینے کی ضروررت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درج ذیل اقدامات کے ذریعے اسے ممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ اقدامات آر بی آئی کے مشورے سے عمل میں لائے گئے ہیں۔

  • کارپوریٹ بینکوں میں ایف بی آئی کی حدود، موجودہ 9 فیصد سے بڑھاکر غیر معمولی اسٹاکو کے معاملے میں 15 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔
  • حکومت کے تمسکات جو مخصوص زمروں میں آتے ہیں وہ اب غیر مقیم سرمایہ کاروں کے لئے بھی کھلے ہوں گے۔ ساتھ ہی ساتھ گھریلو سرمایہ کار بھی ان سے استفادہ کرسکیں گے۔
  • نیا قرض پر مبنی ایکسچینج کریڈٹ فنڈ (ای ٹی ایف) بنیادی طور پر حکومت کی جانب سے مشتہر کئے جانے والے تمسکات پر مشتمل ہوتا ہے۔  گزشتہ معاملات کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے توقع کی جاتی ہے کہ اگر خوردہ سرمایہ کاروں کو سرکاری تمسکات تک رسائی فراہم کرائی جائے تو پنشن فنڈ اور طویل المدت سرمایہ کاروں کو اس میں سرمایہ لگانے کے لئے راغب کیا جاسکتا ہے۔
  • مالی ٹھیکے اور ان کی حالت بہتر بنانے کے لئے میکانزم فراہم کرنے  کی غرض سے ایک نیا قانون لانے کی تجویزہے  تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوسکے اور قرض لے کر نادہندگی کے عمل میں ملوث ہونے والے خاطی افراد پر گرفت کرنی ممکن ہوسکے۔
  •  حکومت ہند کی جانب سے اعلان کی گئی جزوی گارنٹی اسکیم کو مزید تقویت بہم پہنچانے کے لئے ایک نیا میکانزم وضع کیا جانا چاہئے۔ تاکہ 20-2019 کے بجٹ کے اعلان کے بعد این بی ایف سی کو جو تحلیلی بحران لاحق ہوگیا تھا اسد کا ازالہ کیا جاسکے۔ حکومت اس طرح سے مشتہر کئے گئے تمسکات کو گارنٹی فراہم کرنے کے لئے  اپنی جانب سے امداد دے گی۔

********

(م ن۔ م ف )

U-485


(ریلیز آئی ڈی: 1601510) وزیٹر کاؤنٹر : 162