وزارت دفاع

مربوط مالیہ کسی بھی وزارت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مربوط مالیہ کے مشیروں کے ورکشاپ میں رکشامنتری راج ناتھ سنگھ کا اظہار خیال


وزیر دفاع نےتینوں سرویسز اور دیگر متعلقہ اداروں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے وزارت دفاع ایم او ڈی (خزانہ)اورکنٹرولر جنرل آف ڈیفنس اکاؤنٹس کی ستائش کی

प्रविष्टि तिथि: 24 DEC 2019 1:30PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی؍24؍دسمبر، وزیر دفاع (رکشامنتری) جناب راج ناتھ سنگھ نے مربوط مالیہ کوکسی بھی وزارت ؍ محکمے کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیدافزا مقاصد اسی صورت میں حاصل کئے جا سکتے ہیں، جب ایک وزارت ؍ محکمہ کوئی سمجھوتہ کئے بغیر اپنے بجٹ وسائل کے اندر ہی  اپنی آپریشنل ضرورتیں پوری کر لے۔ آج یہاں مربوط مالیہ کے مشیروں کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیردفاع نے تینوں سروسیز اوردیگر متعلقہ اداروں مثلاً آرڈیننس فیکٹریز، انڈین کوسٹ گارڈ، بارڈر روڈس آرگنائزیشن اور ڈی آر ڈی او کی  ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے وزارت دفاع میں فائنانس ڈویزن  اور کنٹرولر جنرل آف ڈیفنس اکاؤنٹس کی تعریف کی۔ انہوں نے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ان کی تیاریوں اور خواہشات کے لئے بھی ستائش کی۔

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات کو اُجاگر کیا کہ گزشتہ تین سال میں وزارت دفاع کو جو فنڈس مختص کئے گئے تھے، اسے وہ پوری طرح استعمال کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس طرح مالی اختیارات کے وفد کی وجہ سے فنڈس کو استعمال  نہ کرنے کا رجحان ختم ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ سرمائے اور مالیہ کے حصول کے لئے مالی اختیارات دیئے گئے ہیں تاکہ مسلح افواج 300سے500کروڑ روپے تک  کی خریداری کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ وزیر دفاع نے مزیدکہا کہ مسلح افواج کو ان کی ہنگامی آپریشنل ضرورتوں کے پیش نظر انہیں ہنگامی اختیارات بھی دیئے گئے ہیں۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زوردیا کہ اس طرح کے ورکشاپس نہ صر  ف حکومت کی پالیسیوں اور طورطریقوں کے ارتقا میں اہم رول ادا کرتے ہیں، بلکہ مستقبل کی پالیسیوں کے لئے ایک راہ بھی تیار کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات یہ اعتماد پیدا کرتے ہیں کہ کیسےمالی معاملات میں ہم کو ذمہ دار اورعہدبستہ رہنا ہے.اس طرح یہ ذمہ داریاں اورعہدبستگیاںہمیں  انتظامی جوابدہی  اور ملک میں مالیاتی اعتبارسے آزاد بنانے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی کے تحت حکومت کے کام کاج کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری افسروں کے لئے کارکردگی کے معیارات قائم کئے جا رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ یہ ورکشاپ مالی اختیارات  کےاستعمال کے زیادہ مؤثر طریقۂ کاروضع کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ  مربوط  مالی مشیر ایک سہولت کار کےطورپر کام کریں گے اورپروجیکٹوں کے بروقت نفاذ میں مدد کریں گے۔

اپنے خطاب میں دفاعی سکریٹری ڈاکٹر اجے کمار نے مربوط مالیاتی مشیروں کو وزارت دفاع کی آنکھ اور کان بتایا اور کہا کہ ان   کا قابل تعریف رول سروسیز اور دیگر متعلقہ اداروں کی رہنمائی کرے گا۔ انہوں نے غیر مالیاتی وسائل پر اضافی توجہ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وہ یکساں طور پر لازمی ہے۔

دفاع ، فائنانس کی  سکریٹری محترمہ گارگی کول نے مالی مشورے کو اچھی حکمرانی اور احتساب کا ایک اہم ستوں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ  مربوط مالیاتی مشیروں کے رول سے اس کے مقاصدکے حصولوں میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ان سے اپیل کی کہ وہ بھرپورطریقےسے جائزہ لیں اور بہت چھوٹےاورمعمول کے معاملوں میں نہ پھنسیں۔ 

اس موقع پر فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کنٹرولر جنرل آف ڈیفنس اکاؤنٹس جناب سنجیومتل، ڈیفنس پروڈکشن کے سکریٹری جناب سبھاش چندراور فوج کے دیگر سینئر افسروں کے علاوہ وزارت دفاع کے سول افسران بھی موجود تھے۔ اس ورکشاپ میں مربوط مالیاتی مشیروں کےعلاوہ تینوں سروسیز اورانڈین کوسٹ گارڈ کے افسران بھی اس میں شرکت کررہےہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 م ن۔ ح ا ۔ ک ا۔

U-5996


 


 


(रिलीज़ आईडी: 1597454) आगंतुक पटल : 119
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी