نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدرجمہوریہ نے فلم برادری سے کہا ہے کہ وہ تشدد، فحاشیت اور نا شائستگی کے مناظر دکھانے سے گریز کریں
نائب صدر جمہوریہ نے فلم سازوں سے کہا کہ وہ اس میڈیم کو سماجی تبدیلی کےذریعہ کے طورپر استعمال کریں
نائب صدرجمہوریہ نے سنیما سےخواہش ظاہر کی کہ وہ عوام کو بیدارکریں، صحیح اقدار کو فروغ دیں اور سماجی برائیوں کا مقابلہ کرنے میں مددگار بنیں
بالی ووڈاوردوسری زبانوں کی بھارتی فلموں نے عالمی مقبولیت حاصل کر لی ہے:نائب صدرجمہوریہ
فلموں کو چاہئے کہ وہ بھارتی ثقافت کی عکاسی کریں اور خاندانی نظام کو مستحکم بنائیں:نائب صدرجمہوریہ
نائب صدرجمہوریہ نے 66ویں قومی فلمی ایوارڈس تقسیم کئے
प्रविष्टि तिथि:
23 DEC 2019 2:43PM by PIB Delhi
نئی دہلی،23؍دسمبر،نائب صدرجمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج فلمی برادری سے کہا ہے کہ وہ تشدد، فحاشی اور ناشائستگی کے مناظر دکھانے کا سلسلہ بند کریں، کیونکہ فلموں کا عوام خاص طو رپر نوجوانوں پر بہت زیادہ اثر پڑتاہے۔
آج 66ویں قومی فلمی ایوارڈس دینے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ فلم سازوں کو لوگوں پر اس طاقتور میڈیم کے اثر کے بارے میں حساس رہنا چاہئے۔ انہوں نے فلم سازوں پر زوردیا کہ وہ اس طاقتور میڈیم کو سماجی تبدیلی کے ذریعہ کے طور پر استعمال کریں اور اسے عوام کو واقفیت فراہم کرنے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور معاشرے میں رجحان کی تبدیلی لانے کے طور پر استعمال کریں تاکہ مختلف سماجی برائیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ اصل توجہ چیلنجوں اور سماجی برائیوں کو آرٹسٹک انداز میں اور تنازعات کو ایسے طریقے پر حل کرنے کے مناظر دکھائے جانے چاہئیں، جن سے سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی اصولوں کو استحکام حاصل ہوتا ہو‘‘۔
یہ بات بتاتے ہوئے کہ نوجوانوں اور جلد اثرقبول کرنے والے ذہنوں پر سنیما کا زبردست اثر پڑتا ہے، جناب نائیڈو نے کہا کہ سنیما، صحیح اقدار کو فروغ دینے میں ایک بڑا رول ادا کر سکتا ہے۔ ملک کے بعض حصوں میں خواتین کیخلاف عصمت دری اور تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتےہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ’’ ہمیں خواتین کیخلاف تشدد کے موجودہ رجحان کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک سخت پیغام دینا چاہئے‘‘۔
جناب نائیڈو نے کہا کہ ’’ معاشرے میں ہم سب کو خاص طور پر فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والوں کو چاہئے کہ وہ خواتین کو ایک قابل احترام انداز سے پیش کریں اور انہیں بڑھاوادیں‘‘۔
نائب صدرجمہوریہ نے زوردے کر کہاکہ’’ یہ سوچنا غالباً غلط ہے کہ ایسی فلموں کو ناظرین قبول نہیں کریں گے، جن میں کوئی پیغام دیا گیا ہو۔ سماجی پیغام دینے والی کوئی بھی فلم تفریح کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے اور تجارتی اعتبارسے بھی کامیاب ہو سکتی ہے‘‘۔ جناب ایم وینکیانائیڈو نے خواہش ظاہر کی کہ فلمی صنعت کو چاہئے کہ وہ صحت مند خوراک اور جسمانی فٹنس کی اہمیت کے بارے میں نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرے۔
نائب صدر جمہوریہ نے ہر فلم ساز پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی باشعوری کوشش کرے کہ مناظر، کرداروں اور مکالموں اور پوشاکوں سے بھارت کے کلچر، رسم و رواج ، اقدار اور روایات کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ سنیما کو چاہئے کہ وہ خاندانی نظام کو مستحکم بنانے اور جمہوری حکمرانی کو فروغ دینے میں مددگار بنے‘‘۔
بھارتی سنیما کی عالمی مقبولیت کا ذکرکرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ بھارتی فلمیں باہر کی دنیا کے لئے ’ہندوستانیت‘ یا’ بھارتیتھا‘ کی ایک اہم جھلک پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہمیں دنیا میں کلچرل ڈپلومیسی کے معاملے میں مؤثر سفیر بننے کی ضرورت ہے‘‘۔
بھارتی سنیما کےاوقاف کو استعمال کرنے کے لئے طریقے وضع کرنے کی خاطر فلمی صنعت اور حکومت کے در میان اورزیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ’’ دیر پاترقی کے لئے اجتماعی کوشش کرتے ہوئےہم سیاحت کے شعبے کو فروغ دے سکتے ہیں اور دنیا کے سامنے بھارت کی ثقافتی گوناگونیت پیش کر سکتے ہیں‘‘۔
ایوارڈ پانے والے تمام افراد کو مبارکباد دیتے ہوئے جناب نائیڈو نے امید ظاہر کی کہ سال 2020 میں آرٹسٹک اور تخلیقی نوعیت کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے، کیونکہ بھارتی سنیما بہترین مہارت حاصل کرنے کی اپنی کوشش جاری رکھے گا۔
نائب صدر جمہوریہ نے فلم بنانے کے معاملے میں آسانیاں فراہم کرنے اورسب سے زیادہ فلم دوست ریاست کا ایوارڈ حاصل کرنے پر جھارکھنڈ کو مبارکباد دی۔
اس موقع پر جو شخصیات موجود تھیں، اُن میں اطلاعات و نشریات ، ماحولیات وجنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی نیز بھاری صنعتوں اور عوامی اداروں کے وزیر جناب پرکاش جاوڈیکر، اطلاعات و نشریات کی وزارت میں سکریٹری جناب روی متل، جیوری کے ممبر اور چیئرمین اور ایوارڈ پانے والے افراد موجود تھے، جن میں محترمہ کیرتی سریش، جناب اکشے کمار، جناب آیوشمان کھورانہ اور جناب وِکی کوشل شامل تھے۔
نائب صدر جمہوریہ کی تقریر کے متن کے کچھ اہم نکات:
اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر ، چیئرپرسنس اور جیوری کے ممبران، اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سکریٹری، فلمی برادری کی سرکردہ شخصیات ، بھائیو اور بہنو!
مجھے 66ویں قومی فلم ایوارڈس کی تقریب کے اہم موقع پر آپ سب کی موجودگی میں یہاں آ کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
ان مایہ نازایوارڈس سے بھارت کی فلمی صنعت کی دلفریبی اور گوناگونیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
میں بھارت کی فلمی صنعت کے عظیم اداکار جناب امیتابھ بچن کو مایہ ناز داداصاحب پھالکے ایوارڈ ملنے پر تہہ دل سے مبارکباد دیتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ اپنی ناساز طبیعت کی وجہ سےاس تقریب میں ذاتی طورپر شریک نہیں ہو سکے ۔ مجھے امید ہے کہ وہ جلد ہی دوبارہ صحت یاب ہوں گے۔ یہ کہنا کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ جناب بچن اپنے اندر ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔5سےزیادہ دہائیوں سے انہوں نے اینگری ینگ مین سے لے کر عمر رسیدہ والد کا رول ادا کرکے بھارت اور بیرون ملک عوام کو اپنا گرویدہ کر رکھا ہے۔
میں جیوری کے ارکا ن کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایوارڈ پانے والی سرکردہ شخصیتوں کے بارے میں اجتماعی طور پر فیصلہ کیا۔ فیچر فلموں کے زمروں میں داخل کی جانے والی 400سے زیادہ فلموں اور غیر فیچر زمرے میں 255فلموں کو دیکھنا اور ان میں سے انتخاب کرنابڑا مشکل اور دِقّت طلب کام ہے۔
مجھے یہ دیکھ کر بھی بڑی خوشی ہوئی ہے کہ بہترین فیچر فلم کی ایوارڈ یافتہ فلم ، خواتین کی جدوجہد کے بارے میں ہے۔ یہ ان خواتین کی کہانی ہے، جنہوں نے ایک ساتھ مل کراپنے اطراف کے ظالمانہ ماحول کے چیلنج کا مقابلہ کیا۔
عزیز بہنواوربھائیو!جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سنیما نہ صرف تفریح کا ایک مقبول ذریعہ ہے، بلکہ اس کے دوررَس اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ 1913میں بھارت میں بننے والی پہلی فلم راجہ ہریش چندر سے لے کراب تک کی فلموں نے عوام کے ذہنوں پر گہری چھاپ چھوڑی ہے اور ان کے دلوں میں ایک خصوصی مقام بنا لیا ہے۔
سنیما کی کوئی جغرافیائی یا مذہبی حدود نہیں ہوتی، کیونکہ یہ ایک ایسی زبان میں بات کرتا ہے، جسے سبھی سمجھ لیتے ہیں۔ فلم کچے ذہنوں پر بڑے اثرات مرتب کرتی ہے۔ راج کپور کی فلم آوارہ ہوں، اب تک روس میں ایک مقبول فلم ہے۔ بھارتی فلموں نے برسوں سے بالی ووڈ اور دیگر زبانوں میں عالمی مقبولیت حاصل کی ہے۔
بیرون ملک کے اپنے دورے کے دوران مجھے بھارتی فلموں کی مقبولیت کے بارے میں معلوم ہو کر بڑی حیرت ہوئی۔ درحقیقت ایک بالٹک ملک کی اعلیٰ شخصیت نے مجھے بتایا کہ وہ کس طرح بالی ووڈ کی فلموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور حاصل ہی میں ’ باہو بلی‘ جیسی فلموں نے یہ بھارت کی فلمی صنعت کے بارے میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ تکنیکی اعتبارسے بہت اچھی فلمیں تیار کر سکتی ہے۔
برسوں سے سنیما ہمارے کلچرل شعورکا لازمی جزو بن گیا ہے۔ ملک میں ہر سال مختلف زبانوں میں بھارتی تعداد میں جو فلمیں بن رہی ہیں، وہ نہ صرف فلموں کی مقبولیت کا ثبوت ہے، بلکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فلمی صنعت پورے ملک میں ہزاروں کنبوں کو روزی روٹی فراہم کرتی ہے۔
کیونکہ فلمیں معاشرے پر زبردست اثرمرتب کرتی ہیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ سنیما کو سماجی تبدیلی کا ذریعہ بننا چاہئے۔
عزیز بہنو اور بھائیو!کیونکہ آرٹ کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی، لیکن اس کا اثر ہر شخص کے دل و دماغ پر آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔ آرٹ میں نہ صرف سماجی واقعات کی عکاسی ہوتی ہے، بلکہ اس میں مستقبل کی جھلکیاں بھی نظرآتی ہیں اور اس سے بالواسطہ طورپر سماج کی ایک تصویر بن جاتی ہے۔
ہمیں خواتین کیخلاف تشدد کے موجودہ رجحان کا مقابلہ کرنے کےلئے ایک سخت پیغام دینا چاہئے۔ مجھے بھی ملک کے بعض حصوں میں صحیح ذہن رکھنے والے دوسرے لوگوں کے ساتھ عصمت دری اور خواتین کیخلاف تشدد کے واقعات کو دیکھ کر بہت صدمہ ہوتاہے۔ کوئی بھی مہذب سماج خواتین کیخلاف اس طرح کے مناظر کو قبول نہیں کر سکتا۔
قوم کو ایک آواز ہو کر نہ صرف اس طرح کی زیادتیوں کی مذمت کرنی چاہئے، بلکہ ان کی روک تھام کے لئے پورے عزم کے ساتھ کارروائی کرنی چاہئے اور ذہنی رجحان کوبھی بدلنا ہوگا۔ والدین کو بچوں میں صحیح اقدار کی آبیاری کرنے میں ایک بڑا رول ادا کرنا ہوتا ہے اور یہی کام میڈیا کو بھی کرنا چاہئے۔
سنیما، صحیح اقدار کو فروغ دینے میں ایک بڑا رول ادا کرسکتا ہے۔یہ سوچنا غلط ہے کہ کسی پیغام دینے والی فلم کو ناظرین قبول نہیں کریں گے۔ سماجی پیغام کی حامل فلم نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے، بلکہ تجارتی طور پر بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔حالیہ برسوں میں تھِری ایڈیٹس ایسی ہی ایک فلم تھی۔
جمہوریت میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہر ایک فلم ساز کو چاہئے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی شعوری کوشش کرے کہ مکالمے، اداکار اور پوشاک سے بھارت کے کلچر، رسم و رواج اور روایات کی عکاسی ہو۔ سنیما فلمی نظام کو مستحکم بنانے اورجمہوری حکمرانی کو فروغ دینے میں مددگارہوسکتا ہے۔
میں ایک بارپھریہاں موجودتمام ایوارڈحاصل کرنے والوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ خوشی منانے کا موقع ہے، اپنی ماضی کی کامیابیوں پر فخر کرنے کا لمحہ ہے ، پُرامیدی کا لمحہ ہے اور مستقبل کی اچھی توقعات کے بارے میں خوش ہونے کا موقع ہے۔ مجھے امید ہے کہ 2020 میں سنیما بھارت کی نئی بلندیوں کو چھو لے گا۔ جے ہند۔
۰۰۰۰۰۰۰۰
(م ن-ج-ک ا)
U-5977
(रिलीज़ आईडी: 1597259)
आगंतुक पटल : 168