امور داخلہ کی وزارت

بھارت نے پاکستان کے ساتھ کرتار پور صاحب راہداری معاہدے پر دستخط کئے


معاہدے کا مقصد کرتار پور صاحب راہداری کے ذریعے عقیدت مندوں کو گرودوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت میں سہولت فراہم کرنا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 OCT 2019 1:26PM by PIB Delhi

نئی دہلی،24؍ اکتوبر، بھارت نے پاکستان کے ساتھ ڈیرہ بابا نانک  ، بین الاقوامی سرحد  پر زیرو پوائنٹ پر  کرتار پور  صاحب راہ داری کے استعمال کے لئے  طریقہ کار  کی شرائط وضوابط سے متعلق  معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ امور خارجہ کی وزارت ،  وزارت دفاع اور  وزارت داخلہ  کے نمائندوں کے علاوہ حکومت پنجاب کے نمائندے  دستخط کی تقریب کے دوران موجود تھے۔

 یہ بات  سبھی کو معلوم ہے کہ مرکزی کابینہ نے 22 نومبر  2018 کو  ایک قرار داد کو منظوری دی تھی تاکہ  شری گرو نانک دیو جی  کی  550 ویں  سالگرہ  کی تاریخی  تقریب کو پورے ملک اور پوری دنیا میں  بھر پور طریقے سے منایا جاسکے۔

مرکزی کابینہ نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے ڈیرہ بابا نانک  سے  بین الاقوامی سرحد تک  کرتار پور صاحب راہ داری  کی تعمیر اور فروغ کو  منظوری دی ہے تاکہ  بھارت سے سکھ عقیدت مند پورے سال  بلا رکاوٹ اور آسانی کے ساتھ گورو داوارہ دربار صاحب  کرتار پور  میں حاضری دے سکیں۔

اس معاہدے پر دستخط  کے ساتھ ہی  کرتار پور  صاحب راہ داری  کے  آغاز کے لئے باضابطہ فریم ورک  مرتب  کردیا گیا ہے۔

معاہدے کی  خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

  • ہر عقیدے کے بھارتی یاتری  اور  بھارت نژاد افراد  اس راہ داری کو استعمال کرسکیں گے۔
  • یہ سفر  ویزا  کے بغیر ہوگا۔
  • یاتری کے پاس  ایک  جائز پاسپورٹ   ہونا  ضروری ہے۔
  • بھارت نژاد افراد کو  اپنے ملک کے پاسپورٹ کے ساتھ  او سی آئی کارڈ  رکھنا لازمی ہے۔
  • یہ راہ داری  طلوع آفات سے  غروب آفتاب تک کھلی رہے گی۔ صبح جانے والے یاتریوں کو اسی دن واپس آنا ہوگا۔
  • یہ راہ داری نوٹیفائڈ دنوں کے علاوہ ، جن کے بارے میں پہلے سے جانکاری دی جائے گی ،  پورے سال  کھلی رہے گی۔
  • یاتریوں کی اپنی پسند پر ہوگا کہ وہ انفرادی طور پر یا گروپ میں جائیں اور وہ  پیدل بھی جاسکتے ہیں۔
  • بھارت  عقیدت مندوں کی فہرست  ان کے سفر سے 10 دن پہلے پاکستان کو  فراہم کرے گا ، جبکہ  پاکستان کی طرف سے  سفر کی تاریخ سے  چار دن پہلے  ان کے لئے تصدیق کی جائے گی۔
  • پاکستان نے بھارت کو یقین دلایا  ہے کہ وہ  لنگر اور پرساد  کی تقسیم کے لئے  مناسب انتظامات کرے گا۔

راہ داری سے متعلق خاص معاملہ ، جس پر  سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ، پاکستان کی طرف سے ہر یاتری  کے لئے  20 امریکی ڈالر کی فیس  عائد  کرنے پر اسرار ہے۔ بھارت نے  مسلسل پاکستان پر زور دیا کہ وہ  یاتریوں پر کسی قسم کی فیس عائد نہ کرے۔ اس بات پر  پچھلی تین  جوائنٹ سکریٹری  سطح کی میٹنگوں اور سفارتی سطح  سمیت  بار بار  زور دیا گیا کہ یہ  بھارتی یاتریوں  کے مذہبی اور  روحانی  احساسات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ بھارت نے  فیس معاف کرنے  سے پاکستان کے انکار پر  گہری مایوسی کا اظہار کیا۔ البتہ  یاتریوں کے مفاد اور  کرتار پور صاحب راہ داری کو  550 ویں  پرکاش پرو سے پہلے  چالو کرنے  کی خاطر بھارت نے آج معاہدے پر دستخط کرنے پر  رضا مندی ظاہر کی۔ اگرچہ معاہدے پر دستخط کئے جاچکے ہیں لیکن  بھارتی حکومت  اس معاملے پر  پاکستان کی حکومت پر مسلسل  زور دیتی رہے گی کہ وہ  عقیدت مندوں پر فیس  عائد کرنے  کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔ اس سلسلے میں بھارت معاہدے میں ترمیم کے لئے تیار ہے۔

بھارت  راہ داری کے ذریعے ہر موسم میں کنکٹی ویٹی کے معاملے پر زور دیتا رہا ہے۔ اس ضمن میں بھارتی حکومت نے بھارت کی جانب  پل تعمیر کیا ہے اور  ایک عبوری معاہدے  کے مطابق ایک عارضی  سروس روڈ بھی تعمیر کی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ پاکستان اپنی اس یقین دہانی کو پورا کرے گا کہ وہ جلد از جلد  اپنی جانب  پل  تعمیر کرے گا۔

یاتریوں کے لئے  سہولیات:

کرتار پور صاحب کوریڈور  کے  وقت پر افتتاح کے لئے ضروری بنیادی ڈھانچہ  ، یعنی  شاہ راہ اور  مسافروں کی  ٹرمنل عمارت  تکمیل کے قریب ہیں۔ مسافرو ں کے بلا رکاوٹ  اور آسان  آمد ورفت کے لئے سکیورٹی کا ایک  مضبوط بندو بست کیا گیا ہے۔

یاتریوں کے رجسٹریشن کے لئے  آن لائن پورٹل   (prakashpurb550.mha.gov.in) آج سے شروع ہو گیا ہے۔ یاتریوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس پورٹل پر  اپنا  رجسٹریشن کرائیں اور  اپنے سفر  کا دن منتخب کرنے کے لئے اپنی مرضی کا استعمال کریں۔ یاتریوں کو  اُن کے سفر کی تاریخ سے  تین سے چار دن  پہلے  ان کے رجسٹریشن کی تصدیق ایس ایم ایس اور ای- میل کے ذریعے کی جائے گی۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک ٹریول آتھورائزیشن بھی شروع کیا جائے گا۔ یاتریوں کو  اپنے پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک ٹریول آٹھورائزیشن بھی لے جانا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (م ن-و ا- ق ر)

U-4751


(ریلیز آئی ڈی: 1589078) وزیٹر کاؤنٹر : 162