بھارتی چناؤ کمیشن
’’ مستقل چوکسی ، آزادی کی قیمت ہے‘‘ - اعلیٰ انتخابی کمشنر جناب سنیل اروڑہ نے بنگلورو میں
اے –ویب کے ایگزیکٹو بورڈ کے غیر معمولی اجلاس میں اپنی رائے کا اظہارکرتے ہوئے اس محاورے کو دوہرایا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 SEP 2019 8:50PM by PIB Delhi
نئیدہلی 03ستمبر۔بھارت کے اعلیٰ انتخابی کمشنر جناب سنیل اروڑہ نے بنگلورو میں عالمی انتخابی اداروں کی ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو بورڈ کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کیا ۔ جناب اروڑہ نے یاد کیا کہ بھارت کا انتخابی کمیشن 12-2011 کے دوران اے –ویب کی تشکیل کے عمل سے منسلک تھا اور اکتوبر 2013 میں یہ اے –ویب کے بانی ارکان میں سے ایک تھا۔ بھارت 2013 سے ایگزیکٹو بورڈ کا رکن ہے اور اس نے 2017 سے اے – ویب کے نائب چیئر مین کی ذمہ سنبھالی ہوئی ہے ۔ بھارت دنیا بھر میں انتخابی بندوبست کے اداروں ( ای ایم بی ) کے مابین شراکتداری کو فروغ دینے کے اے –ویب کے مشن کو پورے دل سے فروغ دینے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے ۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب اروڑہ نے کہا کہ اے –ویب کیآئینی شاخیں ، مختلف ملکوں کے انتخابی بندوبست کے ادارے ہیں ۔ جنہیں مل کر کام کرنے ،تجربوں سے سیکھنے اور ایک دوسرے کو بہترین طور طریقے بتانے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ 109 ملکوں کے 115 ای ایم بی ، اپنے ارکان کے طور پر اور ایسوسی ایشن کے ارکان کے طور پر 20 بین الاقوامی تنظیمیں صحیح معنوں میں ایسی عالمی تنظیمیں بن گئی ہیں جو انتخابی بندوبست کو مستحکم بنائیں گی۔
تھومس ایلوا ایڈیسن کے قو ل کا ذکر کرتے ہوئے ’’عقل مندی ایک فیصد جذبہ ہے اور 99فیصد محنت ہے ‘‘۔ جناب اروڑہ نے کہا کہ یہ جمہوریت پر خصوصی طور پر صادق آتا ہے ۔ جناب اروڑہ نے کہا :’’ کہ یہ ایک باوقار خیال ہے ،جس سے حب الوطنوں ، مصلح اور انسانی ہمدردی رکھنے والوں کی پیڑھی کو جذبہ ملتا ہے ۔ لیکن اس کے لئے بہت سارا تخیل ،تندہی اور پیشہ ورانہ صلاحیت چاہئے ہوتی ہے کہ ا س پر زمینی سطح پر عمل درآمد کیا جائے ۔ جناب اروڑہ نے کہا مستقل چوکسی وہ قیمت ہے جو جمہوری ممالک آزادی کے لئے ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھرتی ہوئی جمہوریتوں کے لئے یہ قول صادق آتا ہے ، جہاں شہریوںکے سیاسی عزائم تو ہیں لیکن موجودہ مساویانہ نظام اداروں کی کمزوری اورتربیت یافتہ افراد کی کمی کے سبب خاص طور پر انتخابا ت شفاف طریقے سے کرائے جانے پر اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا وہاں ہوتا ہے ، جہاں اے –ویب جیسی کثیر فریقی تنظیم کی اہمیت ہوتی ہے۔
جناب اروڑہ نے کہا کہ بھارتی آئین کے معمار اتنے دور اندیش تھے کہ انہوں نے 25 جنوری 1950 کو انتخابی کمیشن کا ادارہ قائم کرنا پسند کیا ۔ یعنی 26 جنوری 1950 کو ہمارے آئین کے نفاذ اورباقاعدہ اسے اختیار کئے جانے سے ایک دن پہلے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے انتخابی کمیشن ( ای سی آئی ) نے 17 قومی انتخابات اور 388 ریاستی انتخابات کامیابی کے ساتھ کرائے لہٰذا انتخابی جمہوریت میں قوم کے یقین کو مستحکم بنایا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ای سی آئی معلومات بہم پہنچانے اور بہترین طور طریقوں سے ایک دوسرے کو واقف کرانے میں ایک ساکھ والا ادارہ ہے۔
جناب اروڑہ نے اے –ویب کے موجودہ سکریٹری جنرل جناب یونگ ہی کم اور سکریٹریٹ میں ان کے رفقائے کا ر کی تعریف کی کہ انہوں نے حصہ لینے والے ای ایم بی کے مابین لین دین اور تعاون کو سال بہ سال فروغ دینے کے لئے مختلف ترقیاتی پروگرام ، کانفرنسوں اور دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کیا۔
دنیا بھر کے 50 ملکوں کے 120 سے زیادہ مندوبین دو سے چار ستمبر 2019 تک منعقد ہونے والی اے –ویب کی میٹنگوں میں شرکت کے لئے بنگلورو آئے ہوئے ہیں ۔ یہ بھارت میں اب تک کا ای ایم بی کے مندوبین کا سب سے بڑا اجلاس ہے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
م ن ۔اس ۔رم
U-4001
(ریلیز آئی ڈی: 1583947)
وزیٹر کاؤنٹر : 70