Social Welfare
بال ویواہ مکت بھارت
پچپن میں شادی سے پاک ہندوستان کی جانب اجتماعی کوششوں کے دو سال
Posted On:
06 NOV 2026 5:39PM
بچپن میں شادی ہندوستان میں بدستور ایک سنگین سماجی چیلنج کے طور پر برقرارہے، جس سے لڑکیوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم 18 سال کی عمر سے پہلے شادی کرنے والی 20 سے 24 سال کی خواتین کا تناسب قومی خاندانی صحت سروے(این ایف ایچ ایس)-5 (21-2019) میں 23.3 فیصد سے کم ہو کر این ایف ایچ ایس-6 (24-2023) میں 20.1 فیصد رہ گیا ہے۔ 27 نومبر 2024 کو شروع کی گئی ’بال ویواہ مکت بھارت‘ مہم قانونی تحفظات، عوامی بیداری اور برادریوں کی شمولیت کے ذریعے بچوں کی شادی کی روک تھام کی کوششوں کو مستحکم بنانے میں معاون ہے۔ اس مہم کے تحت بیداری کے 6.85 لاکھ پروگرام منعقد کیے گئے، جن کے ذریعے 12.47 کروڑ افراد تک رسائی حاصل کی گئی اور 42.01 لاکھ لوگوں نے عہد لیا۔ دو برس مکمل ہونے کے موقع پر یہ مہم 2030 تک پچپن میں شادی سے پاک ہندوستان کے قومی ہدف کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پچپن میں شادی سے پاک ہندوستان کی جانب
ہندوستان میں بچوں کی شادی قانوناً ممنوع ہونے کے باوجود بدستور ایک سنگین سماجی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس-6، 24-2023کے مطابق، 20 سے 24 سال کی عمر کی 20.1 فیصد خواتین کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہوئی تھی، جبکہ قومی خاندانی صحت سروے-5 (21-2019) میں یہ شرح 23.3 فیصد تھی۔ اس طرح اس شرح میں 3.2 فیصد پوائنٹس کی کمی درج کی گئی ہے۔
اس رواج کے باعث لڑکیوں کو صحت کے سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں، بالخصوص کم عمری میں حمل کے نتیجے میں؛ گھریلو تشدد کا شکار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے اور غربت و صنفی عدم مساوات کا سلسلہ برقرار رہتا ہے۔
اسی لیے ہندوستان نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی ہے: ایک ایسا قانون جو بچوں کی شادی کو ممنوع قرار دیتا اور اس پر سزا مقرر کرتا ہے، ایک ایسی اسکیم جو لڑکیوں کی قدر و اہمیت کے بارے میں سماجی سوچ کو بدلتی ہے اور نومبر 2024 سے جاری ’بال ویواہ مکت بھارت‘ (بی وی ایم بی) کی قومی مہم، جو ان دونوں کو برادریوں کی اجتماعی کوششوں سے مربوط کرتی ہے۔

بچوں کی شادی کی ممانعت کا قانون، 2006 (پی سی ایم اے)
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قانونی اقدام بچوں کی شادی کا روک تھام کا قانون 2006 ہے، جو بچوں کی شادی کے خلاف کارروائی کی قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس قانون نے بچوں کی شادی کی روک تھام سے متعلق 1929 کے قانون (شاردا ایکٹ) کی جگہ لی۔ اس طرح قانونی نقطۂ نظر محض پچپن کی شادی کو روکنے کے بجائے اس پر پابندی عائد کرنے کی جانب منتقل ہوا اور متاثرین کو زیادہ مضبوط تحفظ اور قانونی راحت فراہم کی گئی۔
’بچہ’ کی تعریف:
قانون کے مطابق ایسا لڑکا جس کی عمر ابھی 21 سال پوری نہ ہوئی ہو اور ایسی لڑکی جس کی عمر ابھی 18 سال پوری نہ ہوئی ہو، بچہ شمار کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا، اگر شادی کے بندھن میں بندھنے والے لڑکا اور لڑکی میں سے کسی ایک کی عمر بھی مقررہ قانونی حد سے کم ہو، تو ایسی شادی قانون کی نظر میں بچوں کی شادی تصور کی جائے گی۔
شادی کی قانونی حیثیت:
بچوں کی شادی متاثرہ فریق کی مرضی پر منسوخ کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ شادی کے وقت بچہ ہو۔ ایسا فریق عموماً بالغ ہونے کے دو سال کے اندر ضلعی عدالت میں درخواست دائر کر سکتا ہے۔ تاہم بعض مخصوص حالات میں یہ شادی کالعدم ہوتی ہے، مثلاً جب بچے کو انسانی اسمگلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہو، زبردستی یا دھوکے سے لے جایا گیا ہو یا غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔
جرائم اور سزائیں:
اس قانون کے تحت بچوں کی شادی سے متعلق تمام جرائم پولیس کےلیے دخل اندازی کے قابل اور ناقابل ضمانت ہیں، یعنی پولیس ایسے جرائم کی اطلاع ملنے پر قانونی کارروائی کر سکتی ہے اور ملزم کو ضمانت کا خودکار حق حاصل نہیں ہوتا۔
قانون کے مطابق اگر کوئی بالغ مرد کسی نابالغ لڑکی سے شادی کرتا ہے، یا کوئی شخص بچوں کی شادی منعقد کراتا ہے، اس کا انتظام کرتا ہے، اس میں مدد دیتا ہے، اسے فروغ دیتا ہے یا اس میں کسی بھی طرح حصہ لیتا ہے، تو اسے دو سال تک کی سخت قید یا ایک لاکھ روپے تک جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اس قانون کے تحت بچوں کی شادی میں سہولت فراہم کرنے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے والدین اور سرپرست بھی سزا کے مستحق ہیں۔ تاہم، خواتین مجرموں کو اس قانون کے تحت قید کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
متاثرین کے لیے راحت:
اس قانون میں نان و نفقہ، رہائش اور بچوں کی تحویل کے انتظامات کی گنجائش فراہم کی گئی ہے، جبکہ ایسی شادیوں سے پیدا ہونے والے بچوں کی قانونی حیثیت بھی برقرار رہتی ہے۔
عدالتی حکم امتناع کے ذریعے روک تھام:
جوڈیشل مجسٹریٹس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بچوں کی کسی ممکنہ شادی کو روکنے کے لیے حکمِ امتناع جاری کر سکتے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹس اور بچوں کی شادی کی روک تھام کے افسران بھی ایسی شادیوں کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، بالخصوص اجتماعی شادیوں کے انعقاد اور اکشے ترتیا جیسے تہواروں کے موقع پر۔ وہ بروقت مداخلت، عوام میں بیداری پیدا کرنے اور مقامی حکام کے ساتھ تال میل کے ذریعے بچوں کی شادیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔
بچوں کی شادی کی روک تھام کے افسران (سی ایم پی اوز):
اس قانون کی دفعہ 16 ریاستی حکومتوں کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری کرکے پچپن کی شادی کی روک تھام کے لیے افسران کا تقرر کریں۔ ان افسران کے قانونی فرائض میں بچوں کی شادی منعقد ہونے سے روکنا، قانونی کارروائی کے لیے ثبوت جمع کرنا، افراد اور برادریوں کی مشاورت کرنا، بیداری پیدا کرنا، برادریوں کو حساس بنانا اور وقتاً فوقتاً رپورٹیں اور اعداد و شمار پیش کرنا شامل ہے۔ اس لیے قانون پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ خلاف ورزی کے بعد محض قانونی کارروائی ہی نہ کی جائے، بلکہ شادی ہونے سے پہلے اس کی روک تھام کے لیے عوامی سطح پر رابطہ مہم، برادریوں کی نگرانی اور بروقت مداخلت کو بھی یقینی بنایا جائے۔
|
سپریم کورٹ کا لائحۂ عمل: سوسائٹی فار انلائٹنمنٹ اینڈ والنٹری ایکشن و دیگر بنام یونین آف انڈیا و دیگر (رِٹ پٹیشن (سول) نمبر 1234/2017) کے مقدمے میں 18 اکتوبر 2024 کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں عزت مآب سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل جاری کیا۔ عدالت نے ضلع اور ذیلی ضلع کی سطح پر بچوں کی شادی کی روک تھام کے لیے مخصوص اور کل وقتی افسران کی تعیناتی پر زور دیا۔ اس کے علاوہ تال میل، نگرانی اور شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی اکائیوں کے قیام، مختلف شعبوں پر مشتمل بیداری مہمات چلانے اور اہم عہدیداروں کی تربیت دینے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے شکایات درج کرنے کے نظام اور بچوں کی شادی کے خطرے سے دوچار علاقوں کے اعداد و شمار پر مشتمل معلوماتی نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
اس فیصلے کے ذریعے توجہ کا مرکز سزا دینے سے ہٹ کر واضح طور پر روک تھام، تحفظ اور بااختیار بنانے کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم، محض قانون سازی سے ان سماجی رویوں اور روایات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا جو اس رواج کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں لڑکیوں کی تعلیم اور انہیں بااختیار بنانے کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔
|
بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی)
جہاں قانون بچپن کی شادی پر پابندی عائد کرتا ہے، وہیں ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’ (بی بی بی پی) اس کے پیچھے کارفرما سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ اس مہم کا آغاز 22 جنوری 2015 کو بچوں کی صنفی شرح تناسب کے مسئلے سے نمٹنے اور زندگی کے تمام مراحل میں لڑکیوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے وسیع تر مقصد کے تحت کیا گیا تھا۔
’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’ ایک کثیر شعبہ جاتی پہل ہے، جس کی قیادت نوڈل وزارت کی حیثیت سے وزارت خواتین و اطفال کی ترقی کرتی ہے۔ یہ وزارت صحت و خاندانی بہبود، وزارت تعلیم، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت اور وزارت اقلیتی امور کے اشتراک سے کام کرتی ہے۔ اس اسکیم پر مشن شکتی کے ایک جزو کے طور پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ اس کا محور بیداری پیدا کرنا، وکالت، برادریوں کو متحرک کرنا اور رویوں میں تبدیلی لانا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بچیوں کی بقا، تحفظ اور تعلیم کو بھی فروغ دیتی ہے۔
بچوں کی شادی کی روک تھام کا ان مقاصد سے گہرا تعلق ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا، اسکول چھوڑنے کے رجحان پر قابو پانا، امتیازی سماجی روایات کو چیلنج کرنا اور خاندانوں کو بچیوں کی قدر و اہمیت کا احساس دلانا، یہ تمام اقدامات شادی کی عمر میں تاخیر اور نوعمر لڑکیوں کے لیے مواقع میں اضافے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
‘بال ویواہ مکت بھارت’ (بی وی ایم بی) مہم اسی بنیاد کو آگے بڑھاتے ہوئے بچوں کی شادی کے مسئلے پر زیادہ واضح عملی توجہ مرکوز کرتی ہے اور قانونی و برادری کی سطح پر مربوط اقدامات کو فروغ دیتی ہے۔ قانون، اسکیم اور اجتماعی کوششوں کے اسی امتزاج کے نتیجے میں قومی مہم وجود میں آئی۔
بچوں کی شادی کے خاتمے کے لیے اجتماعی عزم
قانونی ڈھانچے اور ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’ مہم کے برادریوں پر مرکوز نقطۂ نظر کو بنیاد بناتے ہوئے، خواتین و اطفال کی ترقی (ایم ڈبلیو سی ڈی) کی وزارت نے 27 نومبر 2024 کو ہندوستان کو بچپن کی شادی سے پاک بنانے کے مقصد سے قومی ’بال ویواہ مکت بھارت‘ (بی وی ایم بی) مہم کا آغاز کیا۔
اس مہم کے تحت سرکاری اداروں، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ، مقامی اداروں، تعلیمی اداروں، صف اوّل کے کارکنوں، سماجی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں، نوجوانوں اور شہریوں کو بچوں کی شادی کے خاتمے کے مشترکہ قومی عزم کے تحت یکجا کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد برادریوں کی سطح پر روک تھام کی کوششوں کو مستحکم بنانا، بچوں کی شادی کی روک تھام کے افسران (سی ایم پی اوز) تک عوام کی رسائی کو بہتر بنانا، بچوں کی شادی کے واقعات کی اطلاع دینے کے رجحان میں اضافہ کرنا اور خطرے سے دوچار لڑکیوں کی مدد کرنا ہے۔
اس مہم کا مقصد بچوں کی شادی کے واقعات میں کمی لانا اور پائیدار ترقی کے ہدف (ایس ڈی جی) 5.3 کے مطابق 2030 تک ہندوستان کو بچوں کی شادی سے پاک ملک بنانا ہے۔ وزارت خواتین و اطفال کی ترقی نے اس مہم کے لیے مکمل مالی اعانت فراہم کرنے کا عزم کیا ہے، جس کے تحت قومی خاندانی صحت سروے-5 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نشان زد کیے گئے ایسے 257 اضلاع کو ترجیح دی جائے گی جہاں بچوں کی شادی کی شرح قومی اوسط کے برابر یا اس سے زیادہ ہے۔
بی وی ایم بی پورٹل: شہریوں کو عملی اقدامات سے جوڑنے کا ذریعہ
بی وی ایم بی پورٹل (https://stopchildmarriage.wcd.gov.in) کو اس مہم کے ڈیجیٹل نظام کی بنیادی کڑی کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو بی وی ایم بی کے مؤثر نفاذ، نگرانی اور عوامی رسائی کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
اس پورٹل کے ذریعے بچوں کی شادی کی روک تھام کے افسران (سی ایم پی اوز) کی تفصیلات عوام کے لیے دستیاب کرائی گئی ہیں۔ یہ بچوں کی شادی کے واقعات کی اطلاع دینے میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ریاستیں، مرکز کے زیر انتظام علاقے اور میدانی سطح پر کام کرنے والے اہلکار بیداری کی سرگرمیوں اور برادریوں کو متحرک کرنے کی کوششوں کا اندراج بھی اس پورٹل پر کر سکتے ہیں۔
یہ پورٹل شہریوں، اداروں اور عوامی نمائندوں کو بی وی ایم بی کے عہد میں شامل ہونے کا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے۔ اس عہد کی پہل کو مائی گوو کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس طرح یہ پورٹل شہریوں کو معلومات فراہم کرنے اور بچوں کی شادی کے واقعات کی اطلاع درج کرانے کے ساتھ ساتھ، ملک بھر میں مہم کی پیش رفت اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی کا ذریعہ بھی ہے۔
100 روزہ خصوصی بیداری مہم
مہم کے پہلے سال کے اختتام پر قومی سطح پر کوششوں کو مزید تیز کرنے کے لیے خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے 4 دسمبر 2025 کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں 100 روزہ خصوصی بیداری مہم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر ملک گیر سطح پر بیک وقت عہد لینے کی تقریب بھی منعقد کی گئی۔
اس مہم پر 27 نومبر 2025 سے 8 مارچ 2026 تک تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں عمل درآمد کیا گیا۔ اسے تین مرحلوں میں آگے بڑھایا گیا، جن میں عمومی بیداری سے آغاز کرتے ہوئے مخصوص اداروں کی شمولیت اور بالآخر برادریوں کی سطح پر عزم و وابستگی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
|
مرحلہ اور مدت
|
مرکوز گروپ
|
اہم سرگرمیاں
|
|
پہلا مرحلہ: 27؍نومبر سے 31 دسمبر 2025 تک
|
اسکول، کالج اور جامعات
|
بیداری اور حساسیت پیدا کرنے کے اجلاس، مباحثے، مضمون نویسی کے مقابلے، باہمی تبادلے پر مبنی سرگرمیاں اور عہد لینے کی تقریبات
|
|
دوسرا مرحلہ: یکم جنوری سے 31 جنوری 2026 تک
|
مذہبی ادارے، مذہبی رہنما، برادریوں کے بااثر افراد اور شادی بیاہ سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے افراد
|
مندروں، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کے ساتھ رابطہ و اشتراک؛ کھانے پینے کا انتظام کرنے والوں، ٹینٹ ہاؤسز، ڈی جے اور دیگر خدمات فراہم کرنے والوں تک رسائی؛ اطلاعات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) سے متعلق مواد کی نمائش۔
|
|
تیسرا مرحلہ: یکم فروری سے 8 مارچ 2026 تک
|
گرام پنچایتیں اور میونسپل وارڈز
|
برادریوں کو متحرک کرنا اور پنچایتوں/وارڈوں کے دائرۂ اختیار کو بچوں کی شادی سے پاک قرار دینے کے لیے قراردادیں منظور کرانے میں سہولت فراہم کرنا۔
|
اس مہم پر مرکزی وزارتوں اور محکموں، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ اور مختلف ادارہ جاتی و برادری سطح کے متعلقہ فریقوں کی مربوط کوششوں کے ذریعے عمل درآمد کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ بچوں کی شادی کی روک تھام میں بچوں کی شادی کی روک تھام کے افسران (سی ایم پی اوز) کے کردار کو مضبوط بنایا جائے، مقامی اداروں کو متحرک کیا جائے اور اس مقصد کے لیے برادریوں کی فعال شرکت یقینی بنائی جائے۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ بیداری اور عوامی رابطے کی سرگرمیاں انجام دیں، پنچایتی راج اداروں اور شہری بلدیاتی اداروں کو اس عمل میں شامل کریں اور ضلعی و نچلی سطح پر نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنائیں۔
’بال ویواہ مکت بھارت’: اہم حصولیابیاں
’بال ویواہ مکت بھارت‘ مہم نے مسلسل بیداری پیدا کرنے، اداروں کو متحرک کرنے، برادریوں کی شمولیت اور بچوں کی شادی کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کے ذریعے اس سماجی برائی کے خاتمے کی قومی کوششوں کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس مہم کی اہم کامیابیاں درج ذیل ہیں:
1- وسیع پیمانے پر بیداری اور برادریوں تک رسائی
- ملک بھر میں بیداری کے 6.85 لاکھ پروگرام منعقد کیے گئے۔
- بیداری پیدا کرنے اور لوگوں کو متحرک کرنے کی سرگرمیوں کے ذریعے 12.47 کروڑ افراد تک رسائی حاصل کی گئی۔
- 100 روزہ بیداری مہم نے تعلیمی اداروں، طلبہ، مذہبی رہنماؤں، شادی بیاہ سے متعلق خدمات فراہم کرنے والوں، پنچایتی راج اداروں، شہری بلدیاتی اداروں اور مقامی برادریوں کے ساتھ رابطے اور اشتراک کے لیے ایک منظم لائحۂ عمل فراہم کیا۔
2- ادارہ جاتی ڈھانچے کو مستحکم بنانا
- ’بال ویواہ مکت بھارت’ پورٹل پر بچوں کی شادی کی روک تھام کے 71,882 افسران (سی ایم پی اوز) کی تفصیلات درج کی گئیں۔
- گرام پنچایت کی سطح پر 59,686 افسران (سی ایم پی اوز)نامزد کیے گئے، جس سے نچلی سطح پر روک تھام کے نظام کی رسائی کو مستحکم بنانے میں مدد ملی۔
- یہ پورٹل ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بچوں کی شادی کی روک تھام کے افسران کی تفصیلات تک رسائی اور بیداری و انسدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
3- عوام کی بڑھتی ہوئی شمولیت
- ’بال ویواہ مکت بھارت’ پورٹل اور مائی گوو کے ذریعے 42.01 لاکھ عہد درج کیے گئے، جن میں سے 40.96 لاکھ عہد ’بال ویواہ مکت بھارت’ پورٹل اور 1.05 لاکھ عہد مائی گوو کے ذریعے درج ہوئے۔
- عہد لینے کی اس پہل نے شہریوں، اداروں اور عوامی نمائندوں کو پچپن کی شادی سے پاک ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

4- واقعات کی اطلاع اور روک تھام کے لیے اقدامات
- ’بال ویواہ مکت بھارت’ پورٹل پر بچپن کی شادی کے 4,536 واقعات درج کیے گئے۔
- اکشے ترتیا سمیت بچوں کی شادی کے زیادہ خطرے والے مواقع پر خصوصی اقدامات کیے گئے۔ ان کوششوں میں ضلعی انتظامیہ، بچپن کی شادی کی روک تھام کے افسران (سی ایم پی اوز)، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور برادریوں سے وابستہ متعلقہ افراد نے بروقت مداخلت اور مربوط کارروائی کے ذریعے بچوں کی شادی کی روک تھام میں حصہ لیا۔
مرکزی وزارتوں اور محکموں، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ اور نچلی سطح کے اداروں کے درمیان اشتراک نے پچپن کی شادی کے خاتمے کے لیے حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کوششوں پر مبنی حکمتِ عملی کو مزید مستحکم بنایا ہے۔
یہ پورٹل بچوں کی شادی کی روک تھام کے افسران کی تفصیلات کی نشاندہی اور عوامی رسائی، واقعات کی اطلاع درج کرنے، بیداری کی سرگرمیوں کا اندراج، مقامی سطح پر لوگوں کو متحرک کرنے کی کوششوں کی نگرانی اور آن لائن عہد لینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ تمام سہولتیں مل کر شفافیت، بروقت اطلاع رسانی، شواہد پر مبنی نگرانی اور بعد ازاں ضروری کارروائی کو فروغ دیتی ہیں۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پیش رفت
قومی سطح پر بچوں کی شادی کی شرح قومی خاندانی صحت سروے یعنی این ایف ایچ ایس-5 (21-2019) میں 23.3 فیصد تھی، جو قومی خاندانی صحت سروے-6 (24-2023) میں کم ہو کر 20.1 فیصد رہ گئی۔ بیشتر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قومی خاندانی صحت سروے-5 کے بعد اس شرح میں کمی درج کی گئی ہے۔ دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں سب سے زیادہ 10.1 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد انڈومان و نکوبار جزائر (7.4 فیصد پوائنٹس)، آسام (6.5 فیصد پوائنٹس)، بہار (6.2 فیصد پوائنٹس) اور تریپورہ (6.1 فیصد پوائنٹس) کا مقام رہا۔ کرناٹک، اتر پردیش، تمل ناڈو، میزورم اور کیرالہ سمیت 28 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے قومی اوسط سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
’بال ویواہ مکت بھارت’ کے دو سال

مورخہ27 نومبر 2026 کو منعقد ہونے والی قومی تقریب ’بال ویواہ مکت بھارت‘ مہم کے دو سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ قانونی نظام کے استحکام، برادریوں کی وسیع تر شرکت اور اعداد و شمار میں اضافے کے پس منظر میں یہ موقع اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے، بچوں کی شادی کی روک تھام کے افسران (سی ایم پی اوز) اور نچلی سطح پر کام کرنے والے متعلقہ افراد کی خدمات کو تسلیم کرنے، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قابلِ تقلید طریقۂ کار کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور روک تھام کے قومی عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اس بات پر مسلسل توجہ مرکوز ہے کہ بچپن کی شادی کی روک تھام کے لیے سی ایم پی اوز کے مخصوص انتظامات کو مستحکم بنایا جائے، پورٹل پر درج اعداد و شمار کے معیار اور تکمیل کو بہتر بنایا جائے، بیداری اور عہد لینے کی مہم کو وسعت دی جائے اور بروقت اطلاع رسانی اور انسدادی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ پنچایتوں، شہری بلدیاتی اداروں، تعلیمی اداروں، خاندانوں، مذہبی رہنماؤں، نوجوانوں اور سماجی تنظیموں کی شمولیت کو مزید گہرا کرنا بھی اس کا حصہ ہے۔
قومی خاندانی صحت سروے(این ایف ایچ ایس) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں کی شادی کی شرح میں کمی آ رہی ہے، تاہم مختلف ریاستوں میں اس کمی کی رفتار یکساں نہیں ہے۔ اسی لیے ان کوششوں کو مسلسل جاری رکھنا ضروری ہے۔ یہ مہم 2030 تک ہندوستان کو بچپن کی شادی سے پاک ملک بنانے کے قومی مقصد اور پائیدار ترقی کے ہدف 5.3 سے ہم آہنگ ہے۔
حوالہ جات
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت
پی ڈی ایف فائل کے لیے یہاں کلک کریں۔
****
ش ح ۔م ع ن۔ ن ع
U. No.7353
(Explainer ID: 160732)
आगंतुक पटल : 2
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English