Infrastructure
اہم معدنیات کی پراسیسنگ کے فروغ کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں معاونت کی اسکیم
لیتھیم اور نکل کی مقامی پراسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے 2,814 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص
Posted On:
05 NOV 2026 1:53PM
|
اہم معدنیات کی پراسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں معاونت کی اسکیم کو حال ہی میں 2,814 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی ہے۔ یہ اسکیم مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2030-31 تک نافذ رہے گی۔ اس کے تحت لیتھیم اور نکل کی پراسیسنگ کے دو دو کارخانے قائم کرنے کے لیے 30 فیصد سرمایہ جاتی رعایت فراہم کی جائے گی۔ مستفید ہونے والوں کا انتخاب دو مرحلوں پر مشتمل مسابقتی عمل کے ذریعے کیا جائے گا اور مالی معاونت منصوبوں کے مختلف مراحل کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔ اس اسکیم سے تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ اس سے درآمدات پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے اور الیکٹرک موبلٹی، بیٹریوں کے ذخیرے، الیکٹرانکس، دفاع اور خصوصی اسٹیل کے شعبوں کو تقویت دینے میں مدد ملے گی۔
|
بھارت میں اہم معدنیات کی پراسیسنگ کی صلاحیتوں کو فروغ دینا
اہم معدنیات اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہ صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز، جدید الیکٹرانکس، نقل و حمل، مواصلات اور دفاعی شعبوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی دستیابی کم کاربن والی معیشت کی جانب عالمی منتقلی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ تاہم، ان معدنیات کی پراسیسنگ کا عمل دنیا کے چند ممالک تک محدود ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین کو جغرافیائی و سیاسی اتار چڑھاؤ، قیمتوں میں عدم استحکام اور ممکنہ طور پر رسد پر پابندیوں جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک اپنی قومی ترجیحات کے مطابق اہم معدنیات کی نشاندہی کرتے ہیں اور اپنی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔
بھارت نے لیتھیم، نکل، کوبالٹ، گریفائٹ اور نایاب ارضی عناصر سمیت 24 اہم معدنیات کی نشاندہی کی ہے۔ سال 2070 تک خالص صفر اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے بھارت کے عزم کے پیش نظر ان معدنیات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ تاہم، اہم معدنیات سے تیار شدہ درمیانی درجے کی مصنوعات اور اعلیٰ خالص مواد کی بھارت کی ضروریات بڑی حد تک درآمدات کے ذریعے پوری ہوتی ہیں۔ ملک میں ان معدنیات کی پراسیسنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور بیرونی انحصار کم کرنے کے مقصد سے مرکزی کابینہ نے 4 نومبر 2026 کو اہم معدنیات کی پراسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں معاونت کی اسکیم کو منظوری دی ہے۔
اہم معدنیات کی پراسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں معاونت کی اسکیم
اس اسکیم کے تحت ملک میں اہم معدنیات کی پراسیسنگ کی سہولتیں قائم کرنے کے لیے مخصوص سرمایہ جاتی اخراجات میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:
- گھریلو پراسیسنگ کی صلاحیت کو فروغ دینا: اعلیٰ خالص لیتھیم اور نکل کی پراسیسنگ کے کارخانے قائم کرنے میں مدد فراہم کرنا۔ لیتھیم کے کارخانوں میں خام دھات اور اس کے ارتکاز شدہ مواد (نمکین پانی کے ذخائر کے علاوہ) کو بیٹریوں میں استعمال کے قابل معیار کی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ نکل کے کارخانوں میں اعلیٰ معیار کا نکل (کلاس-1) یا بیٹریوں میں استعمال کے قابل نکل سلفیٹ تیار کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوبالٹ بھی حاصل کیا جائے گا۔ سرمایہ جاتی اخراجات میں معاونت سے ابتدائی طور پر درکار بھاری سرمایہ کاری کا بوجھ کم ہوگا اور منصوبوں کی مالی و عملی افادیت بہتر ہوگی۔
- مستحکم ویلیوچین قائم کرنا: پراسیسنگ کے شعبے میں موجود خلا کو پُر کرتے ہوئے لیتھیم اور نکل کی پوری قدر افزائی کے زنجیر کو مضبوط بنانا۔

مالیاتی تخصیص اور معاونت
اس اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 2,814 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ اسکیم پانچ سال کی مدت کے لیے نافذ رہے گی، یعنی مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک۔ اس کے تحت چار پراسیسنگ کارخانے قائم کرنے کے لیے اہل سرمایہ کاری پر 30 فیصد سرمایہ جاتی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ ان میں لیتھیم کے دو کارخانے شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت کم از کم 30 کلو ٹن ہوگی، جبکہ نکل کے دو کارخانوں میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت کم از کم 50 کلو ٹن ہوگی۔
اسکیم کے تحت ہر لیتھیم مستفید کنندہ کے لیے زیادہ سے زیادہ 500 کروڑ روپے اور ہر نکل مستفید کنندہ کے لیے زیادہ سے زیادہ 900 کروڑ روپے کی مالی معاونت مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح لیتھیم کے لیے مجموعی طور پر 1,000 کروڑ روپے اور نکل کے لیے 1,800 کروڑ روپے مختص ہوں گے، جو کُل 2,800 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ، انتظامی اخراجات کے لیے مزید 14 کروڑ روپے، یعنی مجموعی بجٹ کا 0.5 فیصد مختص کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تمام اخراجات حکومتِ ہند بجٹ کے ذریعے پورے کرے گی۔

مستفید ہونے والوں کا انتخاب اور مراعات کی ادائیگی
اسکیم کے تحت مستفید ہونے والوں کا انتخاب مسابقتی عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس کے بعد منصوبوں کے واضح اہداف اور مراحل کی تکمیل سے منسلک کرتے ہوئے مرحلہ وار مالی مراعات جاری کی جائیں گی۔
انتخاب کا دو مرحلوں پر مشتمل عمل
- پہلا مرحلہ – تکنیکی اہلیت: تمام درخواستوں کا جائزہ تکنیکی معیار کی بنیاد پر لیا جائے گا۔ صرف اہل قرار پانے والے درخواست دہندگان ہی اگلے مرحلے میں شامل ہوں گے۔
- دوسرا مرحلہ – مالیاتی بولی: اہل درخواست دہندگان مالیاتی بولیاں جمع کرائیں گے۔ انتخاب کا عمل کم ترین لاگت کے معیار کے مطابق ہوگا، یعنی اس درخواست دہندہ کو ترجیح دی جائے گی جو سب سے کم سرمایہ جاتی معاونت طلب کرے گا۔
ہر معدنیات کے لیے دو مستفیدین کا انتخاب کیا جائے گا، اس طرح مجموعی طور پر چار مستفیدین منتخب ہوں گے۔
منصوبے کے مراحل سے منسلک مالی معاونت کی ادائیگی
مالی مراعات تین قسطوں میں جاری کی جائیں گی۔ ہر قسط کی ادائیگی سرمایہ کاری اور ایکویٹی سے متعلق مخصوص اہداف کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔
|
قسط
|
سنگِ میل
|
جاری کردہ مجموعی سبسڈی (پیش کردہ بولی کی رقم کا فیصد)
|
|
1
|
منظور شدہ سرمایہ جاتی اخراجات (کیپیکس) کا 25 فیصد خرچ کیا جا چکا ہو اور کم از کم مطلوبہ ایکویٹی سرمایہ کا 15 فیصد حصہ فراہم کیا جا چکا ہو۔
|
25فیصد
|
|
2
|
منظور شدہ سرمایہ جاتی اخراجات (کیپیکس) کا 50 فیصد خرچ کیا جا چکا ہو اور کم از کم مطلوبہ ایکویٹی سرمایہ کا 50 فیصد حصہ فراہم کیا جا چکا ہو۔
|
50فیصد
|
|
3
|
پلانٹ فعال ہو چکا ہو اور کم از کم مطلوبہ ایکویٹی سرمایہ کا 100 فیصد حصہ فراہم کیا جا چکا ہو۔
|
100فیصد
|
کارخانوں کو فعال کرنے کی مدت
مستفید ہونے والوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ منظوری نامہ (ایل او اے) جاری ہونے کے تین سال کے اندر کارخانے کو فعال کردیں۔ بہرحال، کارخانے کو فعال کرنے کا عمل منظوری نامہ جاری ہونے کے پانچ سال کے اندر لازماً مکمل کرنا ہوگا۔ اگر کارخانے کو فعال کرنے میں تین سال سے زیادہ تاخیر ہوتی ہے تو پانچویں سال تک باقی ماندہ غیر ادا شدہ سرمایہ جاتی معاونت میں بتدریج کمی کا طریقۂ کار نافذ ہوگا۔
انتظامی ڈھانچہ
اسکیم کی نگرانی کے لیے تین سطحی انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ یہ ڈھانچہ اسکیم پر مؤثر عمل درآمد، نگرانی اور رہنمائی کو یقینی بنائے گا۔
|
ٹیئر
|
ادارہ
|
اہم کردار
|
|
اپیکس
|
گورننگ کونسل (جی سی)، جس کی صدارت وزارتِ کان کنی کے سکریٹری کرتے ہیں۔
|
یہ کونسل تزویراتی رہنمائی فراہم کرتی ہے اور پیش رفت کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ مستفیدین کے حتمی انتخاب اور سرمایہ جاتی اخراجات (کیپیکس) کے لیے معاونت کی منظوری دیتی ہے۔ اسے اسکیم کے رہنما خطوط میں ترمیم کی منظوری دینے کا اختیار بھی حاصل ہے، تاہم اس کے لیے مرکزی وزیرِ کان کنی کی منظوری ضروری ہے۔
|
|
جائزہ
|
ٹیکنوفائنانشل کمیٹی (ٹی ایف سی)
|
درخواستوں کا تکنیکی اور مالیاتی بنیادوں پر جائزہ لیتی ہے اور مستفیدین کے نام گورننگ کونسل (جی سی) کو تجویز کرتی ہے۔ اس میں تحقیق و ترقی کے اداروں، تکنیکی اداروں اور سرکاری شعبے کے کاروباری اداروں (پی ایس یوز) کے تکنیکی اور مالیاتی ماہرین شامل ہوتے ہیں۔
|
|
نفاذ
|
پروجیکٹ منیجمنٹ ایجنسی (پی ایم اے)
|
سکریٹریٹ، انتظامی اور نفاذ سے متعلق معاونت فراہم کرتا ہے۔ وزارتِ کان کنی کی جانب سے سونپے گئے دیگر کام بھی انجام دیتا ہے۔
|
مقامی سطح پر پراسیسنگ کیوں ضروری ہے؟
ملک میں اہم معدنیات کی پراسیسنگ کی صلاحیت بھارت کی معدنیاتی سلامتی اور خود انحصاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس صلاحیت کو فروغ دینے کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
- تزویراتی اہمیت: توانائی کی منتقلی سے متعلق ٹیکنالوجیز، دفاع، ہوابازی اور خصوصی اسٹیل کے شعبوں کے لیے مستحکم مقامی قدر افزائی کا سلسلہ انتہائی اہم ہے۔ ملک میں پراسیسنگ کی سہولتیں قائم کرنے سے بیرونی رسد سے وابستہ خطرات کم ہوں گے اور خود انحصاری کو فروغ ملے گا۔ اس سے کم لاگت والی ٹیکنالوجیز، درمیانی درجے کے مرکبات اور تکنیکی مہارت تک بھارت کی محدود رسائی کے مسئلے سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔
- ملک میں مضبوط طلب: طلب کے تخمینوں سے واضح ہوتا ہے کہ مقامی سطح پر پراسیسنگ کی صلاحیت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ قدر افزائی کو زیادہ سے زیادہ بنانے اور درآمدات کے متبادل تیار کرنے کے مقصد کے حصول کے لیے ملکی صلاحیتوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
- سرمایہ کاری میں رکاوٹیں: موجودہ بازاری حالات میں مقامی سطح پر پراسیسنگ کے منصوبے معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے جدید آلات، کئی مراحل پر مشتمل تبدیلی کے نظام اور ماحولیات کے تحفظ کے سخت ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے ابتدائی سرمایہ کاری کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خام مال اور موزوں ٹیکنالوجیز تک رسائی بھی محدود ہے۔ ہدف پر مبنی مالی معاونت کے بغیر صنعتوں کے لیے ایسے کارخانے قائم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
متوقع نتائج
اسکیم سے اقتصادی اور تزویراتی سطح پر متعدد فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے:
- سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت: اس اسکیم کے ذریعے پراسیسنگ کے شعبے میں تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے۔ اس کے تحت لیتھیم کی 60 کلو ٹن اور نکل کی 100 کلو ٹن پراسیسنگ کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد ملے گی، تاکہ 2030 تک متوقع طلب کو پورا کیا جا سکے۔
- ملکی سطح پر قدر افزائی: خام معدنیات، ان کے ارتکاز شدہ مواد اور درمیانی درجے کی مصنوعات کو بھارت میں ہی پراسیس کرکے اعلیٰ خالص معیار کی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس سے ملک کے اندر قدر افزائی کے سلسلے کا زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
- سپلائی سیکورٹی: اس اسکیم سے معدنیات کی پراسیسنگ کے لیے چند مخصوص ممالک پر انحصار اور ممکنہ برآمدی پابندیوں کے باعث بھارت کو درپیش خطرات کم ہونے کی توقع ہے۔
- درآمدی اخراجات میں کمی: اعلیٰ خالص معیار کی درمیانی مصنوعات کی مقامی پیداوار سے درآمدات کا متبادل فراہم ہوگا، جس کے نتیجے میں درآمدی اخراجات اور زرمبادلہ کے صرفے میں کمی آئے گی۔
- بعد کے پیداواری شعبوں کو فروغ: صاف شدہ معدنی مصنوعات سے بیٹریوں کے خام مال، بیٹری سیل اور خصوصی اسٹیل کی تیاری کو تقویت ملے گی۔ اس طرح پہلے سے جاری متعلقہ اسکیموں کو بھی مضبوطی حاصل ہوگی۔
- روزگار کے مواقع کی فراہمی: اس اسکیم سے اہم معدنیات کی پراسیسنگ کے شعبے میں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، آخری استعمال کی مصنوعات کی تیاری میں اضافے سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
بھارت کے اہم معدنیات کے نظام کو مضبوط بنانا
یہ اسکیم اہم معدنیات کی پوری قدر افزائی کے سلسلے میں پہلے سے جاری کئی اقدامات کی تکمیل کرتی ہے۔ ان تمام اقدامات کے ذریعے اب معدنیات کی تلاش، کان کنی، ری سائیکلنگ اور پراسیسنگ کے شعبوں کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔
- قومی اہم معدنیات مشن (این سی ایم ایم): جنوری 2025 میں شروع کیا گیا یہ مشن اہم معدنیات کی طویل مدتی دستیابی کو یقینی بنانے اور ان کی پوری قدر افزائی کے سلسلے کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس مشن کے تحت ثانوی ذرائع سے اہم معدنیات کی بازیافت کو فروغ دینے کے لیے 1,500 کروڑ روپے کی ری سائیکلنگ اسکیم کو مرکزی کابینہ نے 3 ستمبر 2025 کو منظوری دی تھی۔ ان ثانوی ذرائع میں الیکٹرانک کچرا، استعمال شدہ لیتھیم آئن بیٹریاں اور دیگر ناکارہ اشیا شامل ہیں۔
- معدنیات کی تلاش اور کان کنی: معدنی بلاکس کی نیلامی کے عمل میں مسلسل تیزی آئی ہے۔ اب تک مرکزی حکومت کی جانب سے اہم اور تزویراتی معدنیات کے 64 بلاکس اور معدنیات کی تلاش کے لائسنس کے 11 بلاکس کی نیلامی کی جا چکی ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
اہم معدنیات کی پراسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں معاونت کی اسکیم بھارت کی اہم معدنیات کی قدر افزائی کے سلسلے میں ایک اہم خلا کو پُر کرتی ہے۔ لیتھیم اور نکل کی پراسیسنگ میں معاونت فراہم کرکے یہ اسکیم درآمدات پر انحصار کم کرنے اور سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے میں مدد دے گی۔ قومی اہم معدنیات مشن کے ساتھ مل کر یہ اسکیم آتم نربھر بھارت کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
حوالہ جات
Cabinet
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2332476®=48&lang=2
Ministry of Mines
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2277041®=3&lang=1
PIB Backgrounder
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/sep/doc202596629501.pdf
Click here to see pdf
*****
ش ح۔ا ک۔ف ر
U- 7267
(Explainer ID: 160718)
आगंतुक पटल : 7
Provide suggestions / comments